مریخ سے سندھ کا نظارہ اور باچا خان
یہ ایک فطری بات ہے کہ جس علاقے میں انسان پیدا ہوتا ہے اس سے امر محبت رکھتا ہے۔ چاہے جنم بھومی کتنی ہی دور کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ اس کے روح میں رچی بسی ہوتی ہے۔ اس محبت میں کوئی شرط نہیں ہوتا یہ لازوال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں مریخ پہ رہتے ہوئے بھی سندھ کو بھول نہ پائی تھی۔ اس دفعہ کے چکر میں جب ناسا والے غلطی سے ایک طاقتور دوربین گرا گئے تو میں نے بنادیر کیے اس کے لینس کو ادھر اُدھر پھرا کر دھرتی کے گولے کو ڈھونڈنا شروع کیا کہ سندھ کوتلاش کرکے دیکھوں کے کس حال میں ہے۔ میں بہت ہی خوش تھی مجھے اچھا موقع مل گیا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد آخر مجھے سندھ نظر آہی گیا۔ یہ سندھ کا کیپٹل کراچی تھا۔ وہاں سے مستقل بلنک کرتی روشنی نظر آرہی تھی یعنی وہی ایس او ایس والی کہ ہماری جانیں بچاؤ۔
جہاں میری دوربین ٹکی تھی وہاں پھولوں کی کیبن لائین میں تھیں۔ جی ہاں یہ تین ہٹی کا علاقہ تھا میں نے پہلی نظر میں پہچان لیا تھا۔ تھوڑا سا لینس گھمایا تو گرومندر نظر آگیا۔ ارے دیکھیں تو یہ اب سندھ اسمبلی کی بلڈنگ نظر آرہی ہے۔ عمارت کی پیشانی پہ خطرے کا نشان دھرا ہے یعنی کراس کی شکل میں دو ہڈیاں اور بیچ میں کھوپڑی۔ لواب یہ اشتہاروں سے بھری ایک دیوار ہے۔ بنگالی بابا کا کالا جادو یعنی محبوب آپ کے قدموں میں وھیں ایک اشتہار مجھے عجیب لگا اس پوسٹر پر لکھا تھا لیڈر کی ضرورت ہے آگے لکھا تھا سندھ کے لئے ایک پرخلوص لیڈر کی ضرورت ہے۔ جو کوالیفکیشن مانگی گئی تھیں وہ قوم کے ساتھ پر خلوص ہونا نمایاں تھا۔ وہیں ایک دم میرا دماغ باچا خان کی طرف چلا گیا۔
غفار خان جو عرف عام باچا خان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی سوانح حیات میں نے ایک بار نہیں کئی بار پڑھی ہے۔ وہ مثالی لیڈر تھے جو خوبیاں کسی اچھے لیڈر میں ہونے چاہیں وہ سب ان میں تھیں۔ وہ اپنی قوم سے محبت کرنے والے بلند کردار لیڈر تھے جو آج کل کے لیڈروں میں یہ خوبی ناپید ہے۔ اپنی سوانح حیات میں وہ پختون پر افسوس کرتے ہیں کہ روزی روٹی کے لئے جہاں جاتے ہیں اپنی بولی بھول جاتے ہیں۔ اپنی بولی اور ثقافت کو بھولنے والے مٹ جاتے ہیں جو خود کو بھلا تا ہے۔ دنیا بھی ان کو بھول جاتی ہے۔ وہ پختون کے معاشی بدحالی پہ کڑھتے رہتے تھے کہ جو بجٹ آتا فرنگی خود کھاپی جاتا پختون کے لئے نہ اسکول تھے نہ مدرسے نہ ہسپتال عام تھے۔ جو انسان کی بنیادی ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ شروع میں انہیں فوجی بننے کا شوق تھا جس کے لئے انہوں نے فوج کا ڈائریکٹ کمیشن پاس کیا جو بڑی مشکلوں سے پاس کیا جاتا تھا۔ پر فوجی بننے کے بعد انگریز کا رویہ مقامی فوجیوں کے ساتھ دیکھ کر خوددار لیڈر نے نوکری کو ٹھوکر پر رکھا۔ پختون کا نصیب بدلنے کے لئے جدو جہد شروع کردی۔ اپنے طور پر اپنے گاؤں میں اسکول شروع کردیا۔ ساتھ ہی عام لوگوں کو آگہی دینے کے لئے اخبار پشتون نکالنا شروع کیا۔ لوگ کہتے اس اخبار کا ہم کیا کریں گے پر وقت نے بتایا کہ اخبار کیا کام کرتا ہے۔ سیاسی جدوجہد کو ایک راستے پہ لاکے خدائی خدمت گار نامی تنظیم بنائی۔ یہ تنظیم معاشی اصلاحی اخلاقی مقصد رکھی تھی۔ یعنی ایک لیڈر ایک سوشل ورکر بھی ہوتا ہے۔ باچا خان کی عظمت کو سلام کہ جیل میں وہ کیسے رہا تھا۔
دونوں پیروں میں زنجیر یں گلے میں لوہے کا کڑا۔ وہ چاہتا تھا تو سرجھکا کے مراعات حاصل کرسکتا تھا پر خود غرضی نام کو نہ تھی۔ وہ روز جیل میں بیس سیر چکی پر آٹا پیستا رہا۔ سخت سردوں میں بدبو دار کمبل جس میں کہ ہزاروں کی تعداد میں جوئیں بھی ہوتی تھیں پر وہ قوم کی خاطر اپنی ضد پر قائم تھا۔ اکثر قید تنہائی میں رکھنے والے کے پاس اگر کبھی کوئی ساتھی بھیجا بھی جاتا تو وہ ٹی بی کا مریض یا پاگل ہوتا۔ ایک دفعہ تو اتنا مارا گیا کہ دونوں پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں اس حالت میں بھی فرنگی کو لوہے کے چنے چبوا ہی دیے گئے۔
دیکھو لیڈر ایسے بنتے ہیں۔ گاندھی نے احتجاج کیا سرکار سے کہ ہمارے لوگوں کو جیل سے نکالو تو چیف کمشنر نے باچان خان کے بارے میں کہا ایک جنگل میں دو شیر نہیں رہ سکتے۔ وہ جیل میں پایہ زنجیر ہوکر بھی شیر کا درجہ رکھتا تھا۔ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے خلاف باچاخان نے جو جدوجہد کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک بہت بڑا لیڈ ر اپنی تنظیم کے خرچے پانی کے لئے جیل میں بھی مرغیاں پالتا کہ چارپائیوں میں بان ڈال کر پیسے جمع کرتا۔ اچانک مجھے لگا مریخ سے دھڑام سے نیچے آگری ہوں پر ہوا کچھ یوں تھا کہ حیدرآباد کے باچاخان چوک پر ٹریفک جام ہونے پر گاڑی میں ہی سوگئی تھی اب جو گاڑی چلی تو ایک دم آنکھ کھل گئی تھی۔

