ایران کا اندرونی خلفشار


2003ء کے بعد سے علاقائی سیاست میں ایران نے بڑی تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے۔ عراق کی خانہ جنگی ہو یا بحرین میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات، یا پھر یمن میں جاری جنگ، ایران نے ان تمام عوامل سے فائدہ ہی حاصل کیا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں غربت، کرپشن، مہنگائی، نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے نبٹے میں ناکام رہیں۔ ان ممالک کے حکمران ملکی سا لمیت کے نام پر اربوں ڈالرز کے ہتھیار خریدنے میں مگن رہے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں ان ممالک میں انتشار بڑا جس کا سب سے زیادہ فائدہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ایران نے اٹھایا جس کی وجہ سے علاقائی سیاست میں اس کے قد، کاٹھ میں اضافہ ہوا۔

کچھ عرصے قبل ایک امریکی صحافی کا ایک مضمون نظر سے گزرا۔ بقول اس صحافی کے ایران کو امریکہ سے زیادہ اپنے اندرونی خلفشار سے خطرہ ہے۔ اس مضمون کو چھپے ابھی کچھ دن ہی گزرے ہوں گے کہ ایران سے مظاہروں کی خبر آگئی جس نے کچھ ہی دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مظاہرے اب تک اکیس لوگوں کی جان لے چکے ہیں جبکہ آزاد مبصرین کے مطابق مرنے والوں کی یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

سڑکوں پر موجود ان مظاہرین کی اکثریت دو نعرے لگاتی نظر آتی ہے۔ ایک ’’ ہم ایرانی ہیں، ہم عربوں کی پوجا کیوں کریں؟ ‘‘ دوسرا ’’ہم ایران کی خاطر جان دینے کو تو تیا ر ہیں لیکن غزہ اور لبنان کے لئے نہیں‘‘۔

ایرانی شہر مشہد سے شروع ہونے والے مظاہرے بظاہر صدر روحانی کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ یہ مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن اور حکمرانوں کے طرزحکومت سے نالاں ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت ملکی وسائل کا بیشتر حصہ مدارس، فوج اور دوسرے ممالک میں چھیڑی جانے والی جنگوں کی بجائے عوام پر خرچ کرے۔

کچھ مبصرین ان مظاہروں کا موازنہ 2009 ء میں ہونے والے ہنگاموں سے کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا کرنا ابھی غلط ہے۔ 2009ء میں ہونے والے مظاہروں میں شرکاء کی تعداد حالیہ مظاہروں میں موجود مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔ دوسرا یہ کہ 2009ء والے مظاہرے ایران کے بڑے شہروں میں ہوئے تھے جب کہ یہ مظاہرے ابھی تک صوبائی علاقوں تک محدود ہیں۔

ان مظاہرین کا کوئی لیڈر نہیں۔ یہ مظاہرین زیادہ پرتشدد ہیں۔ ان کے نظریات ابھی تک واضع نہیں، ایک طرف یہ مظاہرین ’’آمریت‘‘ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں، دوسری طرف یہ ’’مرحوم شاہ ایران‘‘ کو یاد کرتے ہیں۔ 2009 ء کے مظاہرین کی اکژیت درمیانے درجے سے تعلق رکھتی تھی جب کہ موجودہ مظاہرین کی بیشتر تعدادکا تعلق غریب طبقے سے ہے۔ ان مظاہرین کی عمریں 20، 21سال ہے۔ ان کے غیر لچکدار رویے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ان کے اندر حکمرانوں کے رویے کے خلاف لاوا کافی عرصے سے پک رہا تھا جو کہ اب جاکر پھٹا ہے۔

2009ء کے ہنگامے اسٹیبلیشمنٹ کی اندرونی لڑائی کا نتیجہ تھے جس میں اسٹیبلمشنٹ کا ایک حصہ’’ رجعت پسندوں‘‘ کے لئے اقتدار چاہتاتھا جب کہ دوسرا حصہ’’ اعتدال پسندوں‘‘ کو اقتدار دلوانا چاہتا تھا۔ ان مظاہروں کے حوالے سے ابھی تک یہ بات ابھی تک سامنے نہیں آئی کہ ان کے پیچھے اسٹیبلمشنٹ کا کونسا حصہ کام کر رہا ہے۔ چونکہ یہ مظاہرے ’’رجعت پسندوں‘‘ کے گڑھ’’ مشہد‘‘ سے شروع ہوئے اس لئے’’ اعتدال پسند‘‘ اسے’’ رجعت پسندوں‘‘ کی کارروائی سمجھتے ہیں جب کہ ’’رجعت پسند‘‘ اسے غیر ملکی سازش کہتے ہیں۔ البتہ ایک بات ’’ رجعت پسندوں‘‘ او ر’’ اعتدال پسندوں‘‘دونوں میں ہی مشترک ہے کہ دونوں نے ہی ان مظاہروں کی مذمت کی ہے۔

کیا ان مظاہروں سے موجود حکومت کو خطرہ ہے؟
ابھی اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ کیونکہ یہ مظاہرے ابھی تک چھوٹے شہروں تک مقید ہیں لیکن اگر یہ مظاہرے چھوٹے شہروں سے نکل کر بڑے شہروں تک پہنچ جاتے ہیں اور مظاہرین کی تعداد بڑھتی ہے تو حکومتی نظام کے درہم برہم ہونے کے کافی امکانات ہیں جس سے ایرانی حکومت کی ساکھ خراب ہونے کے امکانات ہیں اور اس نے حالیہ سالوں میں’’ علاقائی سیاست ‘‘ میں جو مقام پایا ہے اسے کافی دھچکہ لگے گا۔

اگر کسی وقت ان مظاہرین کو ایرانی حکومت کے مخالفین سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو پھر ان مظاہروں کی لگائی گئی آگ کافی عرصے تک بھڑکتی رہے گی جس سے’’ ایرانی وحدانیت‘‘ کو کافی خطرات درپیش رہیں گے۔

Facebook Comments HS