ایران میں سیاسی احتجاج کے پس پردہ مقتدر مذہبی ٹولے کی عیش و عشرت


ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ بظاہر لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اپنی غربت کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ اس کے جواب میں مقتدر ٹولے نے حکومتی وسائل استعمال کرتے ہوئے اپنے حامیوں کے ذریعے اپنی سیاسی طاقت دکھائی۔ حیران کن طور پر حکومت کے خلاف مظاہروں نے مقتدر مذہبی ٹولے کی پرتعیش زندگی، خاص طور پر ان کے بچوں کی عیش و عشرت مطاہرین کے غیظ و غضب کا نشانہ بن گئی۔

اس کی ایک وجہ  یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد ایران کے مذہبی رہنماؤں کی دولت اور ان کے بچوں کا رہن سہن ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ تہران کی سڑکوں پر جب کوئی میسراٹی کار دندناتے ہوئے دھول اڑاتی ہوئی گزرتی ہے تو ٹوٹی پھوٹی سیڈان بسوں میں ٹھاٹھس بھرے لوگوں کی طرف سے گالیوں کا طوفان سنائی دیتا ہے۔ لانس اینجلس ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ ولایت فقیہہ کے نام پر کمائی گئی دولت کی نمائش دیکھ کر راہگیر سرعام لعنت ملامت کرتے ہیں۔

لانس اینجلس ٹائمز نے انسٹاگرام پر ایک مقبول اکاؤنٹ کی مثال دی ہے جسے "تہران کے امیرزادے” کا نام دیا گیا ہے ۔ اس انسٹاگرام اکاونٹ پر سرکار دربار میں بیٹھے آیت اللہ حضڑات کے بچے بچیاں ایک ایک ہزار ڈالر کے ہرمز (Hermez) سینڈل پہنے سوئمنگ پول کے ارد گرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ اسی شہر کے کچھ حصوں میں غریب لوگ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے سرعالم اپنے گردے پیچنے کا اعلان کرتے سنائی دیتے ہیں۔

ایران کے ایک صحافی عامر احمدی آریان نے نیویارک ٹائمز میں کالم لکھا ہے کہ ایران کے مقتدر ٹولے کے بیس بائیس برس کے لڑکے لڑکیاں کود کو اشرافیہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ اپنی دولت کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں۔ آریان نے لکھا ہے کہ مقتدر ٹولے کے یہ بچے ایران کے غریب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پورشے اور میسراٹی گاڑیاں دوڑاتے ڈھٹائی سے گزر جاتے ہیں اور پھر اہنے رہن سہن کی تصویریں انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں۔

ایران میں احتجاج کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق غریب طبقے سے ہے جو کئی دہائیوں سے امیر اور غریب میں بڑھتے ہوئی خلیج کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ایک طرف مذہب کے نام پر حکومت کرنے والوں کے پاس دولت کی ریل پیل ہے اور دوسری طرف صدر حسن روحانی نے نئے بجٹ میں کفایت شعاری کا علان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے لئے پیسے بچائے جا سکیں۔ چنانچہ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ ایران کے غریب لوگ سڑکوں پر "مرگ بر روحانی” اور "مرگ بر آمر” کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر صدر حسن روحانی اور مقتدر ٹولے کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے

(اسلامی جمہوریہ ایران کے مقتدر بچوں کی کچھ تصاویر "ہم سب” کے قارئین کی حساسیت کے مدنظر روک لی گئی ہیں تاہم دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے ذیل میں لنکس دیے گئے ہیں۔)

http://www.businessinsider.com/iran-protests-rich-kids-of-tehran-2018-1

https://www.nytimes.com/2018/01/02/opinion/iran-protests-inequality.html

https://www.vice.com/en_us/article/yvxdb7/meet-the-rich-kids-of-tehran

Facebook Comments HS