نواز شریف بری کارکردگی کے باوجود کیوں مقبول ہیں؟


چکوال کے حالیہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار نے 75 ہزار ووٹ لئے، تحریک انصاف کے امیدوار نے 45 ہزار اور تحریک لبیک کے امیدوار نے 16 ہزار۔ گزشتہ دنوں نواز شریف کی نا اہلی کے باوجود اتنے بھاری مارجن سے جیت دلچسپ ہے۔ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ نواز کو ڈیڑھ کروڑ ووٹ ملے تھے، تحریک انصاف کو 77 لاکھ اور پیپلز پارٹی کو 69 لاکھ۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کیوں اتنے زیادہ مقبول ہیں جبکہ ان کی حکومت کارکردگی اچھِی نہیں ہے؟

اگر ملک کو ترقی دینے کے پیمانے سے دیکھا جائے تو ہمارا اہم ترین اثاثہ ہمارے عوام ہیں۔ عوام کی براہ راست فلاح کے لئے تعلیم اور صحت کے شعبے اہم ترین ہیں۔ جب نواز شریف کا عروج شروع ہوا تو اس وقت یہ حالت تھی کہ اچھے بھلے خوشحال لوگ اپنے بچے سرکاری سکول میں پڑھاتے تھے۔ اس وقت نظام تعلیم کا اتنا زیادہ بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے کہ ہمارے گھریلو ملازمین بھی سرکاری سکول پر اعتماد نہیں کرتے اور اپنے بچے نجی سکول میں بھیجتے ہیں۔ تعلیم متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر نکل رہی ہے۔ ہمارے زمانے میں سکول کالج کی فیس واجبی ہوتی تھی۔ آج لاکھوں میں ہے۔

بلکہ ابھی گزشتہ دنوں ملتان کی ایک نہایت غریب بچی کے بارے میں علم ہوا کہ اسے میٹرک کے امتحان کے سوا تین ہزار روپے جمع کرانے ہیں اور اس کے والدین کی اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ یہ رقم دے سکیں۔ حالانکہ دستور بنانے والوں نے خاص ایک شق دستور میں ڈالی ہوئی ہے کہ ”ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مذکورہ طریقہ کار پر جیسا قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے، مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی“۔ آئین حکم دیتا ہے کہ ریاست مفت تعلیم دے گی، اور ریاست اتنی زیادہ فیس مقرر کیے بیٹھی ہے جو غریب کی پہنچ سے باہر ہے۔

صحت کا جو حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے۔ ہماری رائے میں چوہدری پرویز الہی پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیر اعلی رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ صوبے بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھایا، بلکہ 1122 کی ایک مثالی ایمبولینس سروس فراہم کی۔ ورنہ ہمارے پاس ایدھی والوں کی ایک نجی ایمبولینس سروس کے علاوہ کیا تھا؟ ریاست تو شہریوں کے حادثے کا شکار ہونے کے معاملے میں بے نیاز تھی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے چوہدری پرویز الہی کے صحت کے مکمل شدہ منصوبوں کو بھی جامد کر دیا اور آپریشنل نہ ہونے دیا۔ 1122 کی حالت بھی یہ ہے کہ ہر رمضان میں وہ مخیر حضرات سے زکات کی اپیل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور ٹیکس ادا کرنے والوں کی زندگی بھی مسلم لیگ نواز کے قوانین نے اجیرن کی ہوئی ہے۔ کسانوں کو بھوکا مارا جا رہا ہے۔ چھوٹے کاروباری طبقے کو انہوں نے ریلیف نہیں دی۔ پولیس کا نظام تباہ ہے۔ 1985 سے نواز شریف حکومت بناتے رہے ہیں۔ ان کا اور ان کی جماعت کا پنجاب میں کل دور اقتدار تینتیس سالوں میں سے اٹھارہ سال کے قریب رہا ہے لیکن عوام کی حالت میں ان کی پالیسیوں کے سبب نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

پھر کیا وجہ ہے کہ 2013 کے انتخابات میں وہ عمران خان کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے کر پاکستان کے مقبول ترین لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور حالیہ انتخابات میں بھی اپنی مقبولیت ثابت کر رہے ہیں؟

نواز شریف کا سب سے زیادہ سٹرانگ پوائنٹ ان کا الیکشن کے نظام کو سمجھنا اور بھرپور طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ ان کو انتظامیہ سے بھی بھرپور مدد ملتی ہے جن میں سے بیشتر افسران کو ان کی حکومت نے بھرتی کیا ہے۔ وہ حلقے کی سیاست پر خوب غور کرنے کے بعد ادھر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔ اور الیکشن کے دن اپنی پوری ٹیم کو متحرک کر کے ووٹر کو پولنگ بوتھ تک لاتے ہیں۔ لاہور میں حلقہ 120 کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ایک کونسلر دوست کا حال ہم نے دیکھا تھا۔ الیکشن کے دن سے مہینہ پہلے ہی ان کی حلقے میں باقاعدہ حاضری لگتی تھی حالانکہ ان کا تعلق ایک دوسرے حلقے سے تھا۔ ادھر صبح کو سب افراد کی ڈیوٹی لگتی تھی کہ تم نے آج فلاں فلاں کام کرنا ہے، اور شام کو ان سے باقاعدہ رپورٹ لی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ مہربانوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود نواز شریف ایک اچھے مارجن سے یہ حلقہ جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ 2013 کے الیکشن میں ہم نے دیکھا تھا کہ تحریک انصاف نے پولنگ سٹیشنز پر پولنگ ایجنٹ ہی تعینات نہیں کیے تھے۔ جس جگہ ہم ووٹ ڈالنے گئے ادھر تحریک انصاف کے نوجوان موجود تھے اور ووٹروں سے نہایت ناراض تھے کہ ووٹر یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان کے گھروں سے پولنگ سٹیشن تک خود لائیں گے۔

عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے نواز شریف کا ایک حربہ ان کا حلقے کی ذات برادری کی سیاست کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کا ہے۔ پنجاب میں اس معاملے میں ان سے بہتر جوڑ توڑ کرنے والا اس وقت کوئی دوسرا نہیں ہے۔ برادری ووٹ دیتی ہے۔ بدلے میں میاں صاحب کا نمائندہ ادھر پولیس تھانے میں ان کے گناہ معاف کروا دیتا ہے اور چھوٹے موٹے ترقیاتی کام کرواتا ہے۔ لوگ اسی میں ان کو اپنا محسن سمجھ لیتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر کو اس سے دلچسپی نہیں ہے کہ تھانے میں انصاف ملے۔ ہماری دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ ہمارا بندہ بچ جائے۔

ہم خواہ جو بھی کہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ملک کی غالب اکثریت کے نردیک سیاسی لیڈر کی کرپشن ایک ایشو نہیں ہے۔ 1949 سے سیاسی لیڈروں پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر عوام انہیں ہی ووٹ دیتے رہے ہیں۔ کرپشن کے الزامات، یا سزائیں نواز شریف کی مقبولیت پر اثرانداز ہونے سے قاصر ہیں۔

مسلم لیگ نون کے یہ لوگ ڈیرے داری اور حلقے کے لوگوں سے میل جول میں کافی چست ہوتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ نوکری فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے سرکاری و غیر سرکاری معاملات میں یہ اپنے ووٹر کی مدد کرتے ہیں۔ جبکہ لاہور میں ہمارے حلقے سے تحریک انصاف کے شفقت محمود جیتے تھے۔ حلقے کے لوگوں سے ان کا کتنا میل جول ہے؟ کیا وہ کبھی اپنے حلقے میں دکھائی بھی دیے ہیں؟ اگلے انتخابات میں وہ جیتے تو ہمیں حیرت ہو گی۔

مسلم لیگ نون کی ایک پالیسی یہ ہے کہ وہ ایسے ترقیاتی کام کرے جو سب کو گھر سے نکلتے ہی دکھائی دیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے لاہور میں انڈر گراونڈ ٹرین بنانے کی بجائے میٹرو اور اورینج ٹرین کے پراجیکٹ بنا کر لاہور کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ لیکن ان پراجیکٹس کے اثر کا اندازہ اس سے لگائیں کہ باہر سے کوئی شخص بھی لاہور آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ نواز شریف لاہور میں بہت کام کر رہا ہے، ہمارے صوبے میں تو یہ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے نواز شریف کی توجہ تعلیم اور صحت کی بجائے سڑکوں پر ہے۔ انفرا سٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ ملک کی ترقی کے لئے اہم ہیں۔ ان پر نواز شریف کی توجہ پر ان کی تعریف کی جانی چاہیے۔ مگر ان پراجیکٹس میں وہ صرف اپنا کام دکھانے کے لئے شہر کا حلیہ بگاڑ دیں تو یہ مناسب نہیں ہے جبکہ ان پراجیکٹس کو بہتر انداز میں مکمل کیا جا سکتا ہو۔

آپ ییلو کیب سکیم دیکھیں، سستی روٹی سکیم، دانش سکول، لیپ ٹاپ سکیم، روزگار کے قرضے یا ایسی ہی ہر چھے مہینے سال بعد شروع ہونے والی کوئی دیگر سکیم۔ یہ تمام ناکام سکیمیں کیا تھیں؟ صرف یہ کہ آپ کو ہر جگہ نواز شریف کے عوام دوست ترقیاتی کاموں کا شہرہ سنائی دے۔ گھر سے نکلتے ہی آپ کو پیلی ٹیکسی دکھائی دیتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا ”وزیر اعظم روزگار سکیم“۔

نواز شریف کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ میڈیا کا موثر استعمال ہے۔ آپ اردو اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں۔ کتنے کالم نگار نواز شریف کے حامی ہیں، اور کتنے پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کی حمایت میں لکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی خوش قسمت رہی ہے کہ اسے کچھ حد تک لکھنے والوں کی محبت ملتی رہی ہے۔ مگر تحریک انصاف اس معاملے میں تہی دامن دکھائی دیتی ہے۔ شروع میں جو کالم نگار تحریک انصاف کے حق میں لکھتے تھے، تحریک انصاف کے جوشیلے ورکرز نے ان کے ایک آدھ کالم خلاف لکھنے پر ان کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ اب وہ یا تو مخالف یا پھر نیوٹرل ہو چکے ہیں۔ جبکہ نواز شریف ہر طرح کا حربہ استعمال کر کے میڈیا کو اپنے حق میں لکھنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ وہ کچھ کہتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ اس کا کیا امپیکٹ جائے گا اور اپنی زبان پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

شہباز شریف کو ایک بہت اچھا ایڈمنسٹریٹر اسی میڈیا کے ذریعے مشہور کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے طویل دورِ حکومت میں اچھی ٹیم بنانے سے قاصر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی فوٹو سیشن تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مقابلے میں چوہدری پرویز الہی ایک کہیں اچھے ایڈمنسٹریٹر تھے مگر وہ میڈیا کو مسلم لیگ نواز کی مانند موثر طریقے سے استعمال نہ کر پائے۔

الیکشن کو سمجھنا، لوگوں کے وہ چھوٹے موٹے مسائل حل کرنا جنہیں ہم پڑھے لکھے لوگ کسی خاطر میں نہیں لاتے، نظر آنے والی ڈیویلپمنٹ کرنا اور میڈیا کا موثر استعمال نواز شریف کو مقبول بناتا ہے۔ مخالفین کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف بریانی کی ایک پلیٹ یا قیمے والے نان کے بدلے ووٹ لے لیتے ہیں۔ معترضین یہ کیوں نہیں بتاتے کہ وہ خود یہ پلیٹ یا نان دینے سے کیوں قاصر ہیں جبکہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ پلیٹ یا نان ایک شخص کے لئے اس حد تک اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اس کے بدلے اپنا ووٹ تک دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔

ووٹر کی ضروریات اور خواہشات کو سمجھ کر خود اپنی پالیسی کو اس کے مطابق تشکیل دینے کی بجائے اگر ووٹر کو اس بنیاد پر احمق، جاہل اور بکا ہوا قرار دیا جائے گا کہ وہ نواز شریف کو ووٹ دیتا ہے، تو یہ ووٹر کے مسائل کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کی زندگی میں جو مسئلہ اہم ترین ہو، دوسروں کی زندگی میں بھی وہ اہم ہو۔ دوسروں سے ووٹ لینا ہے تو دوسروں کے مسئلے کو سمجھنا ہو گا۔ نواز شریف کے ووٹر کو احمق یا بکاؤ قرار دینے سے آپ اسے اس چیز پر پکا کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اسے اپنی توہین سمجھ کر آئندہ بھی نواز شریف کو ہی ووٹ دے۔

رہی سہی کسر اسٹیبلشمنٹ پوری کر دیتی ہے۔ جب پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا تو اس وقت رائے عامہ نواز شریف کے آمرانہ انداز کی وجہ سے اچھِی بھلی ان کے خلاف تھی۔ لیکن پرویز مشرف نے ان کو مظلوم بنا کر ایک مرتبہ پھر ہیرو بنا دیا۔ اب دوبارہ یہی ہوا ہے۔ جب چار برس کی ایک ناکام حکومت کا کڑوا پھل نواز شریف کو ملنے کا وقت آ رہا تھا، تو غیر جمہوری طریقے سے ان کی حکومت کو گرا دیا گیا۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر مظلوم بنے کھڑے ہیں اور بجائے اس بات کے کہ وہ لوگوں کو اپنی کارکردگی کا حساب دیں، وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں۔

بڑے سیاستدانوں میں اس وقت نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہیں جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا امیج بنا رہے ہیں۔ ہمارے عوام مزاحمت کو پسند کرتے ہیں اور اسے بہادری کی علامت سمجھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ تاثر تھا۔ نواز شریف بھی اس وقت ضیا الحق کے سائے سے نکل کر خود بڑے لیڈر بنے تھے جب 1993 میں غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت برطرف کی تھی اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پہلی باغیانہ تقریر کی تھی۔

سیاست دانوں کا احتساب اگر شفاف انداز سے ووٹروں کے ذریعے کیا جائے تو پھر ہی ناکارہ سیاست دانوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ غیر جمہوری طریقے اختیار کر کے ان کو ہٹانے کی کوشش ان کو ایک نئی زندگی بخش دیتی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar