مجرموں کو اسٹیڈیم میں سزا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قذافی اسٹیڈیم لاہور کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آج تو لوگ بلیک میں بھی ٹکٹ لے کے پہنچے تھے۔ میں، میاں اور بچے رات ہی اسلام آباد سے چل پڑے تھے۔ سننے میں آرہا تھا کہ لوگوں نے رات ہی سٹیڈیم کے باہر ڈیرے جمالئے ہیں۔ ہم وی آئی پی انکلوژر میں تھے۔ بچوں کو میں بطورِ خاص اسکول سے چھٹی کرواکے لائی تھی کہ یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ پائیں۔

لوگوں کے جمِ غفیر کے ساتھ ساتھ نیشنل، انٹرنیشل میڈیا کا ایک ہجوم تھا۔ کیمرے اور ویڈیو کیمرے سنبھالے صحافی اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ یہاں سے وہاں دوڑتے جارہے تھے۔ ہر چینل پر ایک بریکنگ نیوز تھی۔ ”ان سب کو لانے کے انتظامات مکمل ہوگئے ہیں۔ سیکیورٹی کلیئرنس ہوتے ہی روانگی کا امکان۔ اور ناظرین قافلہ چل پڑا“۔

میں نے رایان اور ہناء کو پانی کی بوتل پکڑائی اور خود اس سوچ میں ڈوب گئی کہ کچھ دیر میں یہ دنیا ایسے مناظر دیکھنے والی تھی جو شاید اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلے کسی نے نہیں دیکھے ہوں گے۔ میرا دیس، میری دھرتی، میرا پیارا پاکستان۔ بس اب تاریخ بدلنے والی ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہے گا کہ پاکستان میں انصاف نہیں۔ پاکستان میں پیسا اور طاقت بولتی ہے۔ پاکستان میں با اثر مجرم وکٹری کا نشان دکھاتے مسکراتے نکل جاتے ہیں اور مدعی چائے پانی کا انتظام کرتے ہیں یا اپنی ضمانت کا۔ کیسے کیسے حسین خیالات میں گم تھی میں، کہ اچانک گاڑیوں کے سائرن سنائی دیے۔ ہجوم بڑھ گیا، نعرے بلند ہوگئے، ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز، بریکنگ نیوز کی گردان ایک بار پھر شروع ہوگئی۔

میں نے چونک کے دیکھا تو کچھ ٹرک اور بڑی گاڑیاں بھی دکھائی دیں۔ کچھ لوگوں کو نیچے اتارا جارہا تھا۔ میں نے آنکھیں سکیڑ کے انھیں دیکھنے کی کوشش کی۔ ”ماما یہ انکل بہت گندے سے لگ رہے ہیں۔ لگتا ہے انھوں نے کبھی برش بھی نہیں کیا“۔ میرے بیٹے نے دوربین کو زوم کرتے ہوئے دیکھا اور گویا ہوا۔

بھائی بری بات! ماما کہتی ہیں کسی کو برا نہیں کہتے اور کسی کے فیس کو تو کبھی بھی نہیں، یہ اﷲ پاک بناتے ہیں ”میری ساڑھے چار سالہ اسکالر بیٹی نے میرے الفاظ اپنے چھہ سالہ بھولے بھائی کو یاد دلائے“۔
”اوہ سوری! لیکن بابا یہ بھی تو کہتے ہیں کہ سچ بولو“۔
اب کے میرے مجازی خدا نے مسکراتے ہوئے مجھے اور ان فرشتوں کو دیکھا۔

لاوڈ اسپیکر کی آواز نے ہماری توجہ کھینچ لی۔ ”اب سے تھوڑی دیر بعد قصور کے وڈیو اسکینڈل میں ملوث ان تمام مجرمان کو لٹکا دیا جائے گا۔ پھر زینب اور قصور کے ان معصوم پھولوں کے گناہگاروں کی باری آئے گی۔ طوبیٰ، طیبہ، عمران کے مجرموں کے بعد فیصل آباد میں پکڑے جانے والے اس سفاک کی باری ہوگی جس نے فیضان کو بربریت کا نشانہ بنایا۔ پھر عارف والا کے علاقہ قبولہ میں پانچ سالہ ام کلثوم کو درندگی کی بھینٹ چڑھانے والے کی باری ہوگی۔

پھالیہ کے ان اوباشوں کو تڑپا تڑپا کے مارا جائے گا جنھوں نے دسویں جماعت کی ایک طالبہ کو کئی روز ظلم کا نشانہ بنایا۔ جلال پور کی اس یتیم بچی کے مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے گی جو اثر و رسوخ کی بِنا ہر ہاتھ نہ آیا۔ بہاول نگر کے اس محنت کش کی کم سِن بچی کے ظالم بھی قطار میں ہیں۔ بھاٹی گیٹ کی نو سالہ معصوم بِسمہ کے مجرم بھی لٹکائے جائیں گے۔ شیخوپورہ، بہاول نگر کی مظلوم بچیوں کے درندے بھی منہ چھپائے موجود ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں برہنہ گاوْں میں گھمائی جانے والی بہن کے سبھی سفاک اور ناپاک درندے بھی قابو میں کر لئے گئے ہیں تاکہ فی الفور انصاف کیا جاسکے۔ بس اب جلدی جلدی ظالمین کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے پھر سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کا رخ کرنا ہے تاکہ جرم اور مجرم کا خاتمہ ہوجائے۔

آج سب کو لائن حاضر کردیا گیا ہے۔ ان کو بھی جو ظالمین تھے، ان کو بھی جو تماش بین تھے، ان کو بھی جو ذمہ داران تھے، ان کو بھی جو پشت پناہی کررہے تھے، ان کو بھی جو ظلم ہوتا دیکھ کے وڈیو بنا رہے تھے، ان کو بھی جو بریکنگ نیوز چلاتے رہے اور ان کو بھی جو قلم کی طاقت رکھتے ہوئے بھی ظلم کے خلاف لکھ نہ سکے اور محبوب کی غزالی آنکھوں کے قصے لکھتے رہے یا بادشاہِ وقت کی قصیدہ گوئی میں محو رہے۔

آوازوں کا شور بڑھتا جارہا تھا۔ ایک اونچا لمبا تڑنگا مرد پھانسی گھاٹ کے قریب پہنچ رہا تھا۔ تالیوں اور نعروں کا شور بڑھ رہا تھا۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ جب میں نے لوگوں کو دوسروں کی موت پر خوشیاں مناتے اور پرسکون حالت میں دیکھا۔ جوں جوں جلاد پھانسی گھاٹ سے قریب ہورہا تھا میں اپنے بچوں کو خود سے قریب کررہی تھی۔

”ماما، ماما، آپ ڈر رہی ہیں، ماما اٹھ جائیں، ماما کلمہ پڑھیں“۔ ان آوازوں کے ساتھ آنکھ کھلی تو میرے دونوں معصوم سہمے ہوئے مجھے ہِلا رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھ کے دائیں کونے بھیگتے ہوئے محسوس کیے اور اپنے بچوں کو خود میں بھینچ لیا جو مسلسل مجھے یہ بتانے کی سعی کر رہے تھے کہ ”ماما خواب میں ڈریں تو تعوذ پڑھ لیا کریں“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

رابعہ بصری

رابعہ بصری کا تعلق پاکستان کے حسین ترین علاقے بلتستان سے ہے۔ بطورِ شاعرہ، آرٹیکل رائٹر وہ اپنا آپ منوا چکی ہیں ۔۔ ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی کوفاؤنڈر اور پریذیڈنٹ کی حیثیت سے نوجوان خواتین لکھاریوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ادب کی ترویج اور فروغ میں اپنا حصہ بھرپور انداز میں ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں

rabia-basri has 4 posts and counting.See all posts by rabia-basri