زینب سوگئی ہے، ہم جاگ گئے ہیں


ذہن ماؤف ہے۔ سوچ پریشان ہے۔ الفاظ قلم سے نکلتے ہی نہیں۔ جب سے نرم و نازک کومل سی ننھی پری زینب کی تصویریں دیکھتا ہوں، مجھے زینب کا چہرہ اپنی بیٹی کے چہرے میں نظر آتا ہے۔ آج معصوم زینب کی لکھائی سامنے گزری تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ سوچا کہ بہت سے دوستوں نے اس موضوع پر لکھ دیا ہے۔ اب میرے لکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ مگر میرے سامنے زینب کا معصوم چہرہ آ آ کے کہتا ہے کہ تم نے لکھنا ہے اوربچوں کو والدین کو سمجھانا ہے، وہ کسی پر بھروسا نہ کریں۔ کوئی بھی اپنا نہیں ہے۔ کوئی بھروسے کے لائق نہیں ہے۔

زینب کی انکھیں مجھے قصوروار ٹھہرارہی ہیں؛ جیسے کہ میں ہی زینب کا گنہگار ہوں، گویا زینب کہتی ہو، ایک تمھی نہیں بلکہ ساری قوم مجرم ہے؛ یہ آنکھیں کہتی ہیں، کہ اب آپ لوگ احتجاج میں صفحات کالے بھی کرلیں۔ سوشل میڈیا پر شور مچالیں، کیا ہوگا کچھ بھی نہیں؛ کیونکہ اب نہ میں واپس آ سکتی ہوں، نا میرے ماں اور باپ کے دکھ کا مداوا ہوسکتا ہے۔

وہ ماں جس نے مجھے نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھا، پھر جنم دے کر سات سال تک راتوں کو جاگ جاگ کراپنی نیندیں قربان کرکے مجھے بڑا کیا۔ میرے باپ نے میرے ساتھ جو لمحے گزارے وہ لمحے جب میرے بابا یاد کریں گے تو اس کی کیا حالت ہوگی۔ زینب کہتی ہے کہ میرے والدین آج کے بعد روز مریں گے اور روز خون کے آنسو روئیں گے۔ میں کتنا چیخی اورچلائی۔ ماموں، آنکل چاچو کے نعرے لگائے مگر انکل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ میں نے اس کو خدا اور رسول کے واسطے دیے، میں کتنا تڑپی مگر سب بے سود گیا۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کل سے ایک جنگ کا سماں ہے۔ اور جنگ اس پر ہونی بھی چاہیے یہ جنگ کبھی بھی نہ ہوتی اگر قصور شہر کے پہلے واقعے میں گرفتار لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جاتی۔ اُن کو چھوڑا نہیں جاتا تو یہ بھیڑیئے اتنے مضبوط نہ ہوتے اور پھر آج قصور میں یہ واقعہ نہ ہوتا۔ جب اس واقعے کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے اس کا ذمہ دار صرف ایک بندہ نہیں بلکہ ہم سب اس کا ذمہ دار نظر آتے ہیں۔ ملک کا پارلیمان، ملک کی عدلیہ اور ملکی قانون نافذ کرنے والے سارے ادارے اس کا ذمہ دار ہیں۔ اگر یہ سب ادارے تین سو بچوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والوں کو انصاف سے بچانے اور انہیں بھرپور تحفظ فراہم نہ کرتے توآج معصوم بچی درندگی کا نشانہ نہ بنتی۔

دیکھا جائے تو ہماری ساری قوم، ہمارا ہر ایک ادارہ خواہ وہ عدالتی نظام ہے، خواہ سیاسی نظام ہے اور خواہ وہ سیکورٹی ایجنسیز ہیں سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ روزانہ کی تعداد میں معصوموں کا مجروح کیا جارہا ہے۔ میری طرح کتنے باپ آج اس واقعے کے بعد پریشان ہو چکے ہیں کہ یہ واقعہ آج زینب کے ساتھ ہوا ہے کل کو ہماری بیٹیوں کے ساتھ بھی یہ پیش آسکتا ہے اور اس کا سدباب کیا ہے اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے۔

اب ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ تعلیم بھی دینی ہوگی کہ کس طرح ان جنسی درندوں سے خود کو چھپانا ہے کیونکہ یہ جنسی درندے رشتہ داروں، غیروں اور اپنوں کی صورت میں گھس کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جن پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ انھیں یہ سمجھانا ہوگا کہ پیار کی اور ہوس کی نظر کس طرح ہوتی ہے۔ انھیں یہ بتانا ہے کہ ایسے ظالم کی جسارت کو کیسے روکنا ہے۔

والدین، اساتذہ کو بتانا ہے۔ کوئی کتنا بھی ساتھ جانے کو کہے غیرکے ساتھ کسی بھی لالچ میں آکر نہ کہیں جانا ہے نہ ہی اس کواپنا جسم چھونے دینا ہے۔ اسکولوں میں بچوں کی تربیت اور قانون کی سخت ترین سزا اور اس کے لئے ہر بچے کا والدین کے بہت قریب ہونا بہت ہی ضروری ہے اور یہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہماری ہے۔ کہ ہم بچوں کے بارے میں محتاط ہوگئے ہیں؛ کہ زینب سوگئی ہے مگر ہم جاگ گئے ہیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).