ڈاکٹر خالد سہیل سے ایک گفتگو


ڈاکٹر خالد سہیل صاحبِ طرز افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور مضمون نگار ہونے کے ساتھ ساتھ کینیڈا کے مشہور نفسیاتی معالج بھی ہیں۔ ان کی بے پناہ تخلیق وفور کی بنیاد ان کی انسان دوستی ہے۔ ان کی طبعی سرشاری اور قلندری کے سبب ان کے احباب انہین ’دورِ جدید کا درویش‘ قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل 9 جولائی 1952ء کو پیدا ہوئے۔  آپ نے خیبر میڈیکل کالج، پشاور سے ایم بی بی ایس کی تعلیم پائی۔ بعد ازاں

میموریل یونیورسٹی کینیڈا سے ایف آر سی پی کی سند حاصل کی۔ آئیے، ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو پڑھتے ہیں۔

سوال: ڈاکٹر صاحب ! میں آپ کی تخلیقات کا مطالعہ کر رہی تھی اور جو بات مجھے بہت اہم لگی وہ آپ کے بیان کی سادگی‘ اختصار اور ابلاغ ہے، چاہے مضمون کتنا ہی دقیق کیوں نہ ہو۔ یہ کمال آپ نے کس طرح حاصل کیا؟

جواب: میں نے دوسرے ادیبوں کی تحریریں پڑھ کر یہ سیکھا کہ مجھے کیا نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے بہت سے ادیبوں کی تخلیقات پڑھیں جن کا مجھے ابلاغ نہیں ہوا۔ میں نے ان سے یہ سیکھا کہ ادب میں تخلیقی عمل ہی ضروری نہیں، اس کی قاری تک رسائی بھی ضروری ہے۔ برٹرینڈ رسل نے ایک دفعہ کہا تھا، IT TOOK ME FIFTY YEARS TO WRITE SIMPLE ۔ ادیب کو قاری تک اپنا سچ پہنچانا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنا سچ تلاش کر سکے۔

سوال: آپ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں سے اتخلیقی سرگرمی کے لئے اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں؟

جواب: میری پہلی کتاب میرا پہلا شاعری کا مجموعہ تلاش 1985 میں چھپا تھا۔ اس کے بعد اگلے پانچ برس میں میری پانچ کتابیں چھپ گئیں۔ میرے دوستوں نے کہا ’آپ اسی طرح لکھتے رہے تو جلد تخلیقی خشک سالی آ جائے گی۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ پانچ کتابیں پانچ مختلف اصناف کی ہیں۔ ایک شاعری کا مجموعہ ہے دوسرا افسانوں کا مجموعہ ہے، تیسرا تراجم کا، چوتھا نفسیاتی مقالوں کا اور پانچواں فلسفیانہ مضامین کا۔ دوسری بات یہ تھی کہ میں ایک طویل عرصے سے لکھ رہا تھا لیکن کتابیں چھاپنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ میں نے اپنا چچا جان سے مشورہ کیا تو وہ کہنے لگے ’بیٹا ادیب دو طرح کے ہوتے ہیں، پہلی قسم ان ادیبوں کی ہے جو اپنے تصورات سے تخلیقی کام کرتے ہیں دوسری قسم ان ادیبوں کی ہے جن کی تخلیقات ان کے روزمرہ کے مسائل اور حقائق سے جڑی ہوتی ہیں۔ آپ دوسری قسم کے ادیب ہیں۔ اس لیے آپ کو کوئی فکر کی ضرورت نہیں۔

میں مذہبی آدمی نہیں لیکن تخلیقی کام عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔ میرے اندر ایک تخلیقی چشمہ بہتا رہتا ہے۔

سوال : آپ کو کیا چیز لکھنے پر اکساتی ہے؟

جواب: ویسے تو بہت سی چیزیں انسپائر کرتی ہیں لیکن بنیادی طور پر جو چیز مجھے لکھنے پر اکساتی ہے وہ انسانی دکھ اور کرب ہے۔ میں نے جتنا اس موضوع پر سوچا میں اس نتیجے پر پہنچا کہ انسانوں کا اسی فیصد دکھ اور کرب ان کا خود ساختہ ہے۔ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ تو دکھ کی بات ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ انسان اپنے سب سے اچھے دوست بھی بن سکتے ہیں۔ میں نے اسی لیے طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی تا کہ میں انسانی مسائل کو سمجھ سکوں اور پھر ان مسائل کو حل کرنے میں اپنے مریضوں کی مدد کر سکوں۔

سوال: بحیثیت ماہر نفسیات آپ ہجرت کے تجربے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میری ہجرت کا تجربہ بہت سے لوگوں کی ہجرت کے تجربے سے بہت مختلف ہے۔ میری ہجرت ایک روایتی معاشرے سے ایک آزاد منش معاشرے کی طرف شعوری ہجرت تھی۔ میں نے اپنی ایک کتاب میں مہاجروں کی چار اقسام بیان کی ہیں۔

پہلی قسم جو مغربی لوگوں سے بھی زیادہ مغرب زدہ ہو گئے اور اپنے مشرقی اقدار پر ندامت محسوس کرنے لگے۔ دوسری قسم وہ جو مغرب میں رہنے کی وجہ سے مشرقی روایات کے اور بھی زیادہ قریب آ گئے اور شدت پسند ہو گئے۔ تیسری قسم وہ جو مشرق اور مغرب کے درمیان معلق ہو گئے۔ چوتھی قسم وہ ہے جنہوں نے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک توازن قائم کیا۔ ایسے لوگوں کی دو ثقافتوں میں رہنے سے اندر کی تیسری آنکھ کھل گئی۔

سوال: آپ کی نگاہ میں مشرقی مہاجروں کو مغرب میں کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے؟

جواب: پہلا مسئلہ زبان کا ہے۔ شمالی امریکہ میں بہت سے بزرگ ایسے ہیں جو انگریزی سے نابلد ہیں۔ ان میں سے بہت سے ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ بچوں کا ہے۔ بہت سے مشرقی والدین بچوں کو مشرق کی روایات سکھانا چاہتے ہیں اور بچے سکولوں اور کالجوں میں مغربی روایات سیکھنا چاہتے ہیں۔ جب ایک ہی گھر میں تین نسلیں رہ رہی ہوں تو بہت سے نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں نفسیاتی مسائل پر گفتگو بھی نہیں ہوتی ۔ بعض دفعہ تو مدد اس وقت ملتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

سوال: ہمارے سماج میں ذہنی امراض معاشرتی تہمت تصور کیے جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ہمارا کیا رویہ ہونا چاہیے؟

جواب: ذہنی مریضوں کو ہمدردی کی اور وقت پر علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذہنی مریضوں اور ان کے خاندانوں کو ذہنی صحت کی تعلیم کی بھی ضرورت ہے تا کہ وہ اپنا بہتر علاج کروا سکیں۔ بہت سے مہاجرین مفت علاج ہونے کے باوجود علاج نہیں کرواتے۔ ان کی شرم اور انا آڑے آتی ہے۔

سوال: آپ کی انسان دوستی کا چرچا ہے۔ سنا ہے آپ کے دوست احباب آپ کو درویش سمجھتے ہیں؟

جواب: وہ تو خیر ایک مزاحیہ حوالہ ہے۔ بہت سے شاعر اور دانشور اپنے علم کی وجہ سے مغرور ہو جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں تھوڑی سی درویشی ہم سب کے لیے اچھی ہے، اس سے عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔

سوال: آپ نے اپنئ کلینک میں گرین زون فلاسفی تخلیق کی ہے اور آپ اس فلسفے سے اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ اس فلسفے کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب: میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ میں مریضوں کو ان کی ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم دوں تا کہ وہ اپنی مدد آپ کر سکیں۔ گرین زون فلسفے کا خیال ٹریفک سگنل سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرح ٹریفک سگنل گرین ییلو اور ریڈ ہوتے ہین اسی طرح انسان بھی تین زونز میں زندہ رہتے ہیں۔

جب ہم خوش ہوتے ہیں تو اپنے گرین زون میں رہتے ہیں

جب تھوڑے سے ناراض یا غصے میں ہوتے ہیں تو ییلو زون میں چلے جاتے ہیں

جب آپے سے باہر ہو جاتے ہیں یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔ ہم مریضوں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ زندگی کے کون سے مسائل انہیں ییلو یا ریڈ زون میں لے جاتے ہیں اور پھر ان کی مدد کرتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کرنا سیکھیں۔ اس علاج سے مریض آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ وقت گرین زون میں رہتے ہیں اور ایک خوشحال‘ صحتمند اور پر سکون زندگی گزارتے ہیں۔

Facebook Comments HS