بلوچستان کی سیاسی نسوار
پاکستان میں سیاست کرنے سے بہتر ہے بندہ نسوار بیچے۔ نواب اسلم رئیسانی نے یہ بیان بلوچستان کی تازہ سیاسی صورتحال بارے پوچھنے پر دیا۔ نواب صاحب نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی دھماکہ نہیں ہوا۔ وہاں پٹاکے چل رہے ہیں۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب ثنا اللہ زہری استعفی دینے کے بعد پہلے کراچی پہنچے۔ اب ان کی دبئی روانگی کی خبریں آ رہی ہیں۔
لگتا ایسا ہے کہ نواب زہری کوئٹہ سے ہر ممکن دور جا کر اپنا غم بھلانا چاہ رہے۔ خان آف قلات کے دائیں بائیں چیف آف جھلاوان اور چیف آف سراوان بیٹھا کرتے ہیں۔ رئیسانی نواب چیف آف سراوان اور زہری نواب چیف آف جھلاوان کہلاتے ہیں۔ یہ دونوں موجودہ نواب بطور وزیر اعلی اپنا اپنا دور حکومت پورا کرنے میں ناکام رہے۔ نواب اسلم رئیسانی ہزارہ افراد کے پرامن احتجاج سے رخصت ہوئے۔ نواب زہری اپنی ہی پارٹی کے سارے ممبران کے باغی ہو جانے پر رخصت ہوئے۔
نواب زہری تب استعفی دے گئے جب ان کو بچانے آنے والے وزیر اعظم پاکستان بھی ان کی مدد کرنے میں ناکام رہے۔ مسلم لیگ نون کے ممبران نے وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم کوئٹہ میں تھوڑا وقت گزار کر دالبندین چلے گئے۔ دالبندین میں سعودی شہزادے کی میزبانی کرتے رہے۔
نوازشریف کے سعودی دورے پر ایک ڈیل کی خبریں آنے لگی تھیں۔ تب اک مسلم لیگی سے پوچھا تھا کہ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو نواب زہری کے خلاف عدم اعتماد کون لا رہا۔ وہ سب کیوں اس میں آگے آگے ہیں جنہوں نے منہ طرف پنڈی شریف کر کے سیاست کی نیت باندھ رکھی ہے۔ ہمارے مسلم لیگی دوست نے جواب دیا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ عدم اعتماد ہمارے خلاف ہے یا نواب زہری کے۔
سردار یعقوب خان ناصر مسلم لیگ نون بلوچستان کے صدر رہے ہیں۔ اس وقت سینیٹر ہیں اسلام آباد کی سیٹ سے۔ اب ان کے گورنر بننے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ سردار صاحب نے عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد نئے وزیراعلی کے انتخاب کے وقت کچھ گھنٹے زبردست نعرہ بازی کی۔ سردار ناصر نے کہا کہ ان کا بھائی خود وزیر اعلی کا انتخاب لڑے گا۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والے کسی ممبر اسمبلی سے رابطہ نہیں کریں گے۔ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں وزیراعلی ہمارا ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ رات یہ سب کہہ کر سویرے اپنے بھائی کو نئے وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کرنے کو روانہ کر دیا۔ نواز شریف کے بلوچستان سے مستقل پکے ساتھی نے یہ سب کیا کیا۔ اس سے کیا مطلب لینا ہے۔ یہ سوچتے رہیں۔ ابھی اس پر کچھ نہیں کہنا، دیکھتے ہیں انہیں گورنر بنایا جاتا ہے یا نہیں۔
کوئٹہ اپنے صحافی دوست کو فون کیا۔ اس سے مذاق میں پوچھا کہ بزنجو صاحب کہیں سیاست میں خدانخواستہ اپنی سوچ تو استعمال نہیں کرتے۔ دوست نے کہا الحمدللہ آج تک تو نہیں کی، آگے دیکھیں بندہ بشر ہے خطا ہو سکتی۔ دوست نے بتایا کہ پکا انتظام کیا گیا ہے۔ وزیراعلی کے دفتر میں دو دانے قومی مفاد کو مطلوبہ معیار مطابق سمجھنے والے مستقل بیٹھا کریں گے۔ وہی دونوں حکومت چلائیں گے۔ ایک تو سرفراز بگٹی ہوں گے دوسرے کون ہیں۔ نام تو پتہ لگ گئے حیرت اس پر ہے کہ سرفراز بگٹی کا نام دونوں میں شامل نہیں۔ نام معلوم ہیں بتانے نہیں ہیں، اس حکومت کو کچھ گھنٹے چل تو لینے دیں۔
حکومت کی اس تبدیلی پر تعریف تو پنڈی شریف کی ہی ہو رہی ہے۔ البتہ اس تعریف میں آصف زرداری اور ان کے قریبی ساتھی قیوم سومرو کا باریک کام دھندلا گیا ہے۔ بزنجو صاحب جب حلف اٹھا کر نکلے تو سومرو صاحب ان کے ساتھ گاڑی میں ان سے زیادہ خوش بیٹھے تھے۔ یہ تو خبریں چھپی ہیں جو نہیں چھپی وہ سومرو صاحب کی دن رات محنت ہے جو عدم اعتماد کے لیے انہوں نے کی۔ بلوچستان کی مسلم لیگ نون اور ق تقریبا ساری ہی اب کسی بھی وقت بھٹو کے نعرے وجاتی پائی جائے گی۔ اسمبلی میں اک سیٹ بھی نہ ہوتے ہوئے اب اگر پی پی سینیٹ میں سیٹیں جیت لے تو غش کھانے کی ضرورت نہیں۔
سردار یعقوب خان ناصر نے بھائی کو اسی لیے نئی حکومت کی حمایت میں پارسل کیا کہ نون لیگ سینیٹ میں کوئی اک سیٹ تو لے مرے کسی طرح۔ ویسے ممکن یہ بھی نہیں لگ رہا۔ سردار ناصر ویسے تو کھل کھلا کر خرچ کرتے ہیں لیکن خود اس لیے سینیٹر بنتے بنتے رہ گئے کہ ممبران کو چائے پانی کے نام پر صرف چائے پانی ہی دے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ نون کا ٹکٹ ہی کافی ہے۔ پھر انہیں اسلام آباد سے سینیٹر بنایا گیا۔
بلوچستان میں خیر سے اقلیتی حکومت قائم ہوئی ہے۔ ستائس کے قریب حکومتی بنچوں پر بیٹھیں گے۔ اور پینتیس سینتیس اپوزیشن میں بہار دکھائیں گے، کچھ دونوں طرف چکر مارتے رہیں گے۔ اپوزیشن میں اتنی بڑی تعداد اس لیے جا بیٹھی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اہم ہے۔ یہ عہدہ محمود خان کی جماعت کے پاس جانے کا مطلب نوازشریف کا رول باقی رہنا ہی ہے۔ اگر یہ رول باقی رکھنا تھا تو اتھا کھڑاک کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ محمود خان اچکزئی نے نوازشریف حمایت کی بڑی قیمت ادا کی ہے۔
نواب زہری کی وزارت اعلی میں حکومت پشتون خواہ والوں نے ہی کی۔ نواب زہری مسلم لیگ ن اور ق کے محکموں میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ ان کا طرز عمل سیاسی سے زیادہ قبائلی تھا۔ وہ بطور چیف آف جھلاوان نیشنل پارٹی کے وزرا کے محکموں میں بھی مداخلت کرتے تھے۔ پشتوں خوا کے وزیر البتہ اپنی وزارتیں چلانے میں آزاد تھے۔ نواب زہری کا سٹائل ہی ان کی سیاست وزارت کو لے کر بیٹھا ہے۔ ان کی وزارت اعلی جانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ نوازشریف کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔ پشتون خواہ اور محمود خان اچکزئی کو افغان ایشو پر ان کی مخالفت بھی لے بیٹھی۔ اب حکومت گنوا کر خالی ہاتھ نوازشریف کی جتنی مرضی حمایت کرتے رہیں۔
بلوچ سیاست اپنے مزاج میں قبائلی ہے۔ ایک سردار وزیراعلی بنتا ہے تو باقی سارے مل کر اس کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ جی جان سے اسے گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت میں آنے والا سردار بھی سب کے ساتھ عوام والا ہی سلوک کرتا ہے۔ پھر کھڑاک ہو کر رہتا ہے۔ حکومت گنوانے کے بعد پھر سیاست سے نسوار بیچنا ہی زیادہ اچھا لگتا ہے۔ تو نواب رئیسانی کہہ ٹھیک ہی رہے ہیں کہ بلوچستان میں سیاست سے نسوار بیچنا اچھا ہے۔ قلات ریاست کے دو اہم ترین نواب اگر چاہیں تو اب مل کر یہ کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی نسوار کے نام سے کام خوب چمکے گا۔


