آسٹریلوی مشنری، شاہزیب اور مشعال قتل کیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1999 میں انڈیا میں ایک آسٹریلوی مسیحی مشنری گراہم سٹأنس اور اُن کے دو بیٹوں ( 10 سالہ فلپ اور 6 سالہ تیموتھی) کو 23 جنوری کی رات ریاست اڑیسہ کے ایک گاؤں میں اُن کی سفری سٹیشن وین میں ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کر کے وین کے اندر ہی اُن کو زندہ جلا دیا۔

گاؤں کے متشعل ہجوم پر حکومت انڈیا کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ 49 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مقدے میں متعداد افراد کو سزائیں سنائی گئیں اور کئی کو عمر قید و مشقت کی سزا سُنائی گی۔ اِس دوران مشنری کی بیوہ اور شہید ہونے والے کم سن بیٹوں کی ماں نے مجرموں کو بغیر جرمانے کے معاف کر دیا۔ لیکن انڈیا کی عدالت نے اِس جرم کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتے ہوئے مجرموں کی سزاؤں کو برقرار رکھا۔

گراہم اڑیسہ کے غریب قبیلے کے کوڑھ کے، مریضوں میں 1965 سے کام کر رہا تھا۔ بیوہ نے اپنی باقی کی زندگی اپنے شوہر کے مشن کی تکمیل کے لئے انڈیا میں ہی گزاری۔ 2004 میں وہ واپس آسٹریلیا چلی گئیں اور حکومت انڈیا کی طرف سے اُن کی خدمات کے صلے میں پدما شری کے ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

جب مَیں نے اِس کیس کے بارے میں پڑھا تو خیال آیا کہ ریاست نے اپنا فرض ادا کیا اور یہی کرنا چاہیے تھا کیونکہ بقول نیلسن منڈیلا ’’غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے‘‘۔

پچھلے دِنوں شاہزیب کے قاتل کو ریاست اور عدالت نے دیت کے قانون کے تحت آزاد کر کے ذہنی غربت کا مظاہرہ کیا۔ عوامی احتجاج کے باوجود ریاست اور عدالت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ دیت کا قانون ایسے قتل کے کیس پر لاگو ہونا چاہیے تھا جس کا ارداہ نہ ہو اور نہ ہی کوئی دشمنی ہو۔ جب کہ اراداً قتل کیس پر اِس اصول کو لاگو نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جو جرم اراداً کیا جائے وہ ریاست کے خلاف جرم ہوتا ہے اور ریاست کو بگاڑ سے بچانے کے لئے عدالیہ کو ہر سطح پر انصاف کا تقاضا پورا کرنا چاہیے۔

ابھی عدالت میں مشعال خان کا کیس بھی التوا کا شکار ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اِس کا فیصلہ ہونے میں اِتنی دیر کیوں ہو رہی ہے۔ خیر میری نیک خواہش والد مخترم اقبال صاحب کے ساتھ ہیں کہ اُن کو انصاف ضرور ملے گا اور مشعال کی اِس قربانی سے معاشرے کی ذہنی غربت کا خاتمہ ہو گا۔ پسماندہ ذہنی غربت کا خاتمہ پیسے سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔ یہ عدلیہ کی ذمے داری ہے کہ ہر سطح پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •