کوہ مردار اور کوہ چلتن کے بیچ۔۔۔ (دوسرا حصہ )
پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس سحر زدہ بنگلے میں مجھے میرے بھلے کے لیے نظربند کیا گیا تھا۔ مشکل مگر یہ تھی کہ یہ نظربندی مجھے میرے اختیار سے نہیں ملی تھی۔ بچپن میں میں نے وہ نماز کبھی نہیں پڑھی جو اباحضور نے یا اساتذہ نے جبرا پڑھوانے کی کوشش کی۔ ایسی کوئی جبری نمازاگر پڑھ بھی لی تو سربسجدہ ہوتے ہی زمیں سے آنے لگتی صدا، ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں۔ دل سے ہمیشہ وہی سجدہ کیا جو اپنے آپ ہی جبینِ نیاز میں تڑپ اٹھتا تھا۔ سجدہ تو آزاد ہی ہونا چاہیئے۔ کرم کی امید اور خمیازے کے خوف سے آزاد۔ نظام الدین چترالی صاحب استاد سے زیادہ ایک دوست تھے تو فارسی تک میں ہما شما اور ایں جا کجا کرنے کی توفیق ہو گئی۔ ایسی ہی دلنواز طبعیت ریاضی کے استاد عمران مرزا صاحب کی ہوتی تو آج میرے دفتر کا شعبہ مالیات میری جمع تفریق پرسر گرفتہ نہ ہوتا۔ کیلکولیٹر کی سہولت نہ ہوتی تو اب تک مجھ غریب سے جبری استعفی بھی لیا جا چکا ہوتا۔ سال دوہزار بارہ اور تیرہ میں ہم جن الم ناک حالات سے گزر رہے تھے، اگر مجھے اختیار دیا جاتا تو میں خود کو رضاکارانہ طور پر نظربندی کے لیے ہی پیش کرتا۔ تنہائی اور خاموشی ویسے بھی مجھے خوش آتی ہے۔ مگر چونکہ یہ نظر بندی مجھ پہ تھوپ دی گئی تھی توکچھ ہی دن میں گھٹن کے احساس نے غالب کے شعر کا مطلب سمجھا دیا
کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
جوں جوں گھٹن بڑھتی گئی، سیکیورٹی گارڈ سے میرے مراسم بڑھتے گئے۔ یہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے یہاں تعینات تھا، مگر یہ سیکیورٹی گارڈ کم اور چوکیدار زیادہ تھا۔ چوکیدار میں نے اس لیے کہا کہ چوکیدارے میں ثقافت کے رنگ بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ رکھوالی اور نگہبانی کے کچھ ضابطے کمپنی دیتی ہے، جس پر عمل پیرا ہوکر آپ سیکیورٹی گارڈ ہو جاتے ہیں۔ مگر زمان لالہ کے ضابطے خالص علاقائی تھے، اس لیے انہیں چوکیدار ہی کہنا چاہیئے۔ یہی فرق جاب اور کام کے بیچ بھی ہے۔ واجبی لوگ جاب کرتے ہیں، بامروت لوگ کام کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں شاید اسی لیے نوکریوں کا رجحان بہت کم ہے کہ کام کی طبعیت جاب کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتی۔ کوئٹہ میں جو نوکری کرتے ہیں، بیشتر ان میں سے کام ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ علاقائی رنگ آپ کو کوئٹہ کی ہر چیز پر غالب نظر آئے گا۔ یہاں کے لب ولہجے، مکالمے و مباحثے، خرید وفروخت، خوراک وپوشاک ، معاملے و فیصلے اور نظم وغزل تک سے مٹی کی مہک آتی ہے۔ پنجاب کے باشندے لاہور آکر اور سندھ کے باسی کراچی جا کر علاقائی رنگ اتار دیتے ہیں، کوئٹہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ کوئٹہ میں ثقافتی دباو اتنا زیادہ ہے کہ غیر مقامی شخص بھی کچھ ماہ بعد زیادہ گھیروں والی شلوار میں نظر آتا ہے۔ غرضیکہ دنیا مریخ پر بستر کیوں نہ لگالے، کوئٹہ میں ا شنی چائے اور چینکی چائے کو ہرمشروب پر یہاں تک کہ بادہ دوشینہ پر بھی فضیلت حاصل رہے گی۔
کسی مسئلے کے حل کے لیے تھانہ کچہری یا کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں تو آپ خود کو عمائدین کے جرگے میں بیٹھا محسوس کریں گے۔ کوئٹہ بلوچستان کی روایت یہ ہے کہ کسی شخص سے چالیس افراد ہی کیوں نہ ملیں، وہ چالیس کے چالیس افراد سے فردا فردا حال احوال کرے گا۔ حال احوال کی بھی پوری گردان ہے۔ شہ یی؟ جوڑ یی؟ ژوند دی پہ خیر دے؟ کوشنیان دی شہ دی؟ ژوند دی خہ پخیر دے؟ شہ برابر؟ شہ جوڑ؟ ناجوڑا سوے خو بہ نہ یی؟ مجھے دوہزار بارہ میں ایک کام کے سلسلے میں گورنر ہاوس جانا پڑا۔ ہم کوئی تیس پینتیس افراد اپنا اپنا مسئلہ لے کر حاضر ہوئے تھے۔ گورنر ذوالفقار مگسی آئے، تمام حاضرین سے فردا فردا یہی حال احوال کیا۔ ٹھیک ہو؟ زندگی بخیر ہے؟ گھر بار میں سب خیر ہے؟ سب ٹھیک ٹھاک؟ کار کاروبار سب ٹھیک ہے؟حال احوال کرنے کے بعد دفتر گئے، ہر ایک سے اس کے مسئلے پر بات الگ الگ بات کی۔ ایوانوں میں روایت کا یہ رنگ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ دوسرے ہی دن جب کمشنر کے دفتر گئے تو یہ رنگ وہاں اور بھی گہرا ملا۔ ایڈیشنل سیکرٹری باہر آئے، انتظار گاہ میں پچیس کے پچیس افراد سے حال احوال کیا اور پھربتایا کہ صاحب نماز پڑھ رہے ہیں، پانچ منٹ میں آ رہے ہیں۔ یہ خبر وہ حال احوال پر وقت ضائع کیے بغیر بھی دے سکتے تھے، مگر نہیں۔ انہیں دستور نبھانا تھا، نبھاتے ہی بنی۔
کوئٹہ کے کمشنر اس وقت محب اللہ کاکڑ تھے۔ یہ نام اگر غلط ہے تو پھر عصمت اللہ کاکڑ ہوں گے۔ جیسے شیعہ گھرانوں میں بچے کا نام رکھنے کے لیے کل ملا کے دس بارہ ناموں کا ذخیرہ ہے، اسی طرح کوئٹہ کے پشتونوں میں بھی کل ملا کر پچیس تیس ناموں سے کام چلایا جاتا ہے۔ سرفہرست ان میں عصمت اللہ اور محب اللہ ہیں۔ مجھے اتنا یقین ہے کہ کمشنر کے نام میں لفظ اللہ موجود تھا، تو اس سے پہلے جن دوناموں کا غالب گمان مجھے ہو رہا ہے وہ محب اورعصمت ہیں۔ کمشنر صاحب آئے، کرسی سنبھالی، سب سے باری باری حال احوال کیا۔ حال احوال کے بعد پھر پہلے شخص کی طرف آئے۔ اور مسائل سننے کا آغاز کیا۔ ایک پراگندہ حال بلوچ شخص کاغذات لیے بیٹھا تھا ، اس نے بتایا کہ میری ٹیکسی پکڑی گئی ہے۔ کمشنر نےفورا کہا، زوئے تمہارے لیے مجھے ایک ایسا شریف آدمی نے ٹیلافون کیا ہے جس نے پورا زندگی میں ولاکہ کبھی کوئی کام بولا ہو، گاڑی لے جاو مگر آئندہ خیال کرو۔ بلوچ جانے لگا تو کمشنر نے کہا "چائے تیار ہے”۔ بلوچ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے راہ لی اور ایسا گیا جیسے کسی عزیز کے گھر آکر جا رہا ہے اور جلد واپس آئے گا۔
بنگلے کا سیکیورٹی گارڈ یونیفارم میں ہوتا تھا، مگر رنگ اس پر علاقائی تھا۔ کوئی نیا شخص بنگلے میں آتا تو اس سے یہ نہیں پوچھتا تھا کون ہو؟ پوچھتا تھا، کیسے ہو؟ یعنی تفتیش نہیں کرتا تھا، حال احوال کرتا تھا۔ رات کھانا کھانے سے پہلے آ کر میرے دروازے پر دستک دیتا، کھانے کا پوچھتا۔ شکریہ کہنے پر ایک بار مزید اصرار کرتا، واپس جاکر کھانا کھاتا۔ کھانے کے بعد چائے بناتا جس میں میرا حصہ لازمی رکھتا۔ گھٹن بڑھی تو ایک دن اس کی عشایئے کی دعوت میں نے قبول کرلی۔ ہم اس کے مورچے میں بیٹھ گئے۔ دسمبر کی سردی ہے، ہیٹر جل رہا ہے، مکس سبزی سے شملہ مرچ کی مہک اٹھ رہی ہے۔ کھانا کھاتے گئے اور دنیا کے تقریبا چار پانچ بڑے مسائل پر تبادلہ خیال کرتے گئے۔ ان مسائل میں ایک اہم مسئلہ فحاشی بھی تھا۔ وہ شڑومبی (لسی) کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہتا، پاکستان میں پحاشی بہت بڑھ گیا ہے۔ میں لقمہ چباتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیتا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ وہ اطمینان کا اظہارکرتا کہ شکر ہے کوئٹہ میں ابھی فحاشی بہت کم ہے۔ میں روٹی توڑتے ہوئے کہتا، فحاشی تو یہاں سرے سے ہے ہی نہیں لالہ۔
ہمارے بیچ بنیادی مسائل پر اتفاق رائے اس قدر قائم ہوچکا تھا کہ ہماری دوستی پاک چین دوستی کی طرح ہمالیہ سے بلند ہوگئی تھی۔ اب میں بسہولت اس تعلق سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ تعلق کا پہلا فائدہ اٹھانے کا آغاز میں نے یہ پوچھ کر کیا کہ یہاں چائے کا اچھا ہوٹل کہاں ہے؟ اس نے بتایا کہ ادھری قریب عالموہ چوک میں پاکستان ہوٹل ہے، اس کا چائے بہت نامی ہے۔ میں نے کہا، چلو تم بیٹھو میں ذرا ہوکر آتا ہوں۔ اندر ہی اندر دھڑکا یہ تھا کہ اب کہے گا "کیا مطلب میں ہو کر آیا، خدا سے ڈرو، چائے مائے گم کرو، ادری بیٹھو آرام سے، کیوں ہمارا نوکری خراب کرتا ہے”۔ مگر دھڑکے کے برعکس جواب آیا "توڑا جلدی واپس آنا ٹھیک ہے؟”۔

آج جب کوئٹہ گیا تو ہمایوں کاسی اور سلام خان کاسی سے کہا کہ عالموہ چوک جانا ہے۔ مجھے دیکھنا تھا کہ حالات کا کانٹا کس نقطے پر کھڑا ہے۔ پہنچ کر دیکھا تو نوشتہِ دیوار آج چھ برس بعد بھی "سخی ہوٹل” ہی تھا۔
(جاری ہے)


