مجھے اڑان بھرنے دو
بچپن بھی کتنا خوب صورت اور بے فکر ہوتا ہے۔ جو دل میں آئے وہ کرو۔ لیکن بیٹیاں کیوں کہ بہت نازک ہوتی ہیں۔ اور انہیں دوسرے گھر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے ان پر کافی نظر رکھی جاتی ہے۔
میں آشی! ایک بے فکر اور ہواؤں کے ساتھ اُڑنے والی لڑکی تھی۔ امیّ کی کوئی بات سنتی نہیں تھی اور بابا کی بڑی چہیتی تھی۔ وہ میری نٹ کھٹ شرارتوں کو سرہاتے تھے۔ اور میری رانی بیٹی کہہ کر میرا ماتھا چوم لیتے تھے۔ اور ان کا یہی پیار میرا حوصلہ بلند کرتا تھا۔ امیّ کی فکریں آسمانوں کو چھو رہیں تھیں۔ گڑیا گڈے کی شادی، چَھم چَھم اور برف پانی کھیل کھیل کر بچپن کے مزے لے رہی تھی۔ پڑھائی کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری تھا اور میرا شمار اسکول کی اچھی طالبات میں ہوا کرتا تھا۔
Read more
