سکھ مت کے پہلے کیرتنی بھائی مردانہ جی کا تعلق مسلم گھرانے سے تھا

”اِک بابا اکال روپ دوجا ربابی مردانہ“ یہ سطر ہندو مت کے مہان وِدھوان ”بھائی گُرداس جی“ نے لکھے تھے۔ بھائی گُرداس جی نے بہت سارا رَبی کلام لکھا جس کا کچھ حصہ سکھ مت کی مقدس کتاب سری گورو گرنتھ صاحب میں درج ہے لیکن بنیادی طور پر انھوں نے یہ مہَان الفاظ مرشد اور مرید کی سچی سانجھ کو نذر کیے تھے۔

یہ مرشد تھے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ”پہلی پاتشاہی سری گورو نانک دیو جی“ کے، جو کہ سکھ مت کے بانی اور پہلے گورو ہیں، جب کہ مرید تھے بابا جی کے، یوں ہر پہلو میں اَنگ سَنگ سہائی ”بھائی مردانہ“ جی۔

Read more

ساہیوال حادثہ

کل ساہیوال میں ہونے والے سانحے اور اس کی کچھ تفصیلات سے، رات بھر دو واقعات میرے ذہن میں گردش کرتے رہے :

پہلا وہ جب 16 دسمبر 2014 ء کو طالبان کا ایک دَل آتا ہے اور ہمارے فرشتہ صفت ننھے ستاروں کے نازک جسموں کو اپنی ”جنت“ کے حصول کے لیے قتل کر ڈالتا ہے، ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتا ہے اوربموں سے ان کے معصوم بدن چیر ڈالتا ہے۔

وہ بچے جو تعلیم کے حصول کے لیے صاف ستھری وردی پہن کر، دل میں والدیں کا خوف لیے کہ اسکول نہ گئے تو پٹائی ہوگی یا پھر انجئینر اور ڈاکڑ بننے کے خواب آنکھوں میں سجائے اسکول گئے تھے۔ لیکن اس بار وہ اسکول سے واپس خون کے رنگ میں رنگی وردی میں آتے ہیں اس بار وہ تابوت میں مردہ جسم کے ساتھ آتے ہیں۔

Read more

کرتار پور صاحب اور گورو نانک کی چار اداسیاں

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کوئی بیالیس ہزارمذاہب ہیں۔ ہر مذہب اپنے الگ عقیدے، نظریے، اصول اور کچھ پابندیوں پر کھڑا ہے۔ کسی مذہب کے حصے میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اور رسول آئے تو کسی کو تینتیس کروڑ دیوی دیوتا کا اوتار نصیب ہوا۔ کسی کو ایک بدھا ملا تو کسی کو ایک یسوع مسیح۔

لیکن ان سب مذاہب میں ایک مذہب ایسا بھی ہے جس کے حصے میں دس ”گورو“ آئے۔ لفظ ”گورو“ سنسکرت کے دو الفاظ ”گو“ اور ”رو“ کا ملاپ ہے۔ ”گو“ کا مطلب ”اندھیرا دور کرنے والا“ اور ”رو“ کا مطلب ”روشنی پھیلانے والا“۔ یہ مذہب ”سکھ مت“ ہے۔ سکھ مت کے پیشوا بابا گورو نانک دیو جی ہیں۔ بابا گورو نانک جی 15 اپریل 1469 ء میں ”رائے بھوئے دی تلونڈی موجودہ سری ننکانہ صاحب“ میں پیدا ہوئے۔ یہ پنجابی مہینے کے لحاظ سے کتک مہینے کی پورن ماشی کی رات تھی یعنی جس دن چاند مکمل ہوتا ہے۔

بابا گورو نانک جی نے اپنی پہلی سانس سے ہی وحدانیت کا درس دیا۔ اس کا بہترین ثبوت بابا جی کا سکھ مت کی کتاب سری گورو گرنتھ صاحب میں درج ہونے والا اور سکھ مت کا بنیادی کلام ”سری جپ جی صاحب“ میں مل سکتا ہے کیوں کہ اس کلام کا آغاز ہی ”اِک اونکار“ یعنی ”خدا ایک ہے“ سے ہوتا ہے۔ بابا جی نے اپنی مکمل حیات واحدانیت اور انسانیت کی تبلیغ میں گزار دی۔

Read more