ظلم کو ظلم کہتے ہو۔۔۔بڑے ظالم ہو۔۔

”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے“ بڑا ہی غلیظ نعرہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی لئے تو فیض فیسٹیول میں لگائے گئے اس نعرے پر بے تحاشا تنقید کی جا رہی ہے۔ تنقید کیجیے! ضرور کیجیے! تنقید کاپورا پورا حق ہے آپ کو، بلکہ جناب یہ حق آپ ہی کے گھر کی لونڈی تو ہے۔ اور آپ کے علاوہ حق نامی کوئی لونڈی اور کسی کے پاس ہے بھی تو نہیں۔ ممی ڈیڈی، برگر، فیس بکیے، بگڑے لال جی

Read more

فیض میلہ اور معاشرے کے معمار

”ہم دیکھیں گے! “ کی تحریر کے ساتھ فیض احمد فیض کہ جوانی کی تصویر داہنی طرف موجود ہال نمبر 1 کے دروازے کے اوپر لٹک رہی تھی تو سامنے کی سرخ عمارت پر ”آج پابجولاں چلو“ کے الفاظ فیض کی تصویر کے ساتھ کسی مفتوح فوج کے جھنڈے کی مانند ایک بینر کی صورت میں لہرا رہے تھے۔ دو ماہ سے جس دن کا انتظار تھا وہ آج آن پہنچا تھا۔ فیض فیسٹیول شروع ہوئے دوسرا دن تھا۔ ایسا

Read more