جسٹس فائز عیسی کا فیصلہ اور سیاسی حکومت کی بقا

میری یونیورسٹی کے دن تھے جب پاکستان میں دھرنا کلچر ابھی جنم لے رہا تھا۔ جس رستے سے مجھے یونیورسٹی جانا ہوتا تھا وہ رستہ تقریباً ہر جمعے کو بند ملتا۔ ہر رنگ و فرقے کے مولوی کبھی اس ایشو پہ اور کبھی اس ایشو پہ جمعے کا جمعہ اسلام آباد پہ ڈنڈوں اور مدرسوں کے بچوں سمیت چڑھائی کرتے۔ یہاں وہاں وزرا، گورنرز کا قتل بھی ہوتا رہا اور مقتولوں کا کھل کر سوگ منانے اور قاتلوں کی آزادی سے مذمت کرنے پہ بھی غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوتی۔

اپنی ساری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کا استعمال کرکے میں ہر جمعے کو دھرنے کا آخری جمعہ تصور کرتی اور دل ہی دل میں آنے والا جمعہ پہلے سے مختلف ہونے کے خیال سے مطمئن ہوتی کہ اس مسئلے پہ بھی حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاملات طے پا گئے۔ مگر آنے والے جمعے سے ایک یا دو دن پہلے یعنی بدھ یا جمعرات کو ہی کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا کہ یہ والا جمعہ پہلے والے جمعے سے زیادہ بڑی پریشانی لے کے اس وقت کے حکمرانوں کے سر پہ کھڑا ہوتا۔

Read more

مارننگ شو میں طالبات کا رقص اور سماج کی اچھل کود

دو عورتوں نے پوری بستی کے مردوں کی اجتماعی غیرت کو چیلنج کیا ہے۔ تو عدالت کب لگ رہی ہے؟ حالانکہ اس کی اب ضرورت نہیں۔ کیونکہ بستی کے سرداروں نے فیصلہ دے دیا ہے کہ ”دونوں خواتین طوائف ہیں“۔

مقدمہ: یونیورسٹی میں پڑھنے والی دو خواتین نے ایک مارننگ شو میں رقص کیا ہے۔
مقدمے کے مدعی، گلگت بلتستان کی تہذیب، ثقافت، اخلاقیات اور مذہب کے خود ساختہ چوکیدار اور ٹھیکیدار ہیں۔

Read more