وبا اور ڈاکٹر – ایک افسانہ

زندگی میں یہ دوسرا موقع تھا کہ اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ اسے یاد آیا کہ پہلی بار جب میڈیکل کالج کے ڈائسیکشن ہال میں طلبا کو انسانی اعضا کا درس دیتے ہوئے اناٹومی کے پروفیسر سلمان نے ایک مردے کے پیٹ پرسرجیکل بلیڈ پھیرا تھا اور دوسری بار آج جب وہ ڈسپوزیبل کِٹ پہن کر دستانے پہننے لگا تھا۔ اس نے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا دستانے کے اندر ڈالا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی تمام انگلیوں پر رعشہ طاری ہو گیا۔ اس نے لمبی لمبی سانسیں کھینچ کر دل کی دھڑکن کو قابو میں کرنے کے وہ تمام حربے جلدی جلدی آزمائے جو اس وقت اسے یاد تھے، لیکن ہاتھوں کی لرزش کے ساتھ اب اس کی پیشانی پر ہلکا ہلکا پسینہ بھی آنے لگا تھا۔ اس وقت اس کا رنگ بالکل فق ہو چکا تھا۔

Read more