وبا اور ڈاکٹر – ایک افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنف: ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئی۔ مترجم: سید زبیر شاہ۔

زندگی میں یہ دوسرا موقع تھا کہ اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ اسے یاد آیا کہ پہلی بار جب میڈیکل کالج کے ڈائسیکشن ہال میں طلبا کو انسانی اعضا کا درس دیتے ہوئے اناٹومی کے پروفیسر سلمان نے ایک مردے کے پیٹ پرسرجیکل بلیڈ پھیرا تھا اور دوسری بار آج جب وہ ڈسپوزیبل کِٹ پہن کر دستانے پہننے لگا تھا۔ اس نے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا دستانے کے اندر ڈالا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی تمام انگلیوں پر رعشہ طاری ہو گیا۔ اس نے لمبی لمبی سانسیں کھینچ کر دل کی دھڑکن کو قابو میں کرنے کے وہ تمام حربے جلدی جلدی آزمائے جو اس وقت اسے یاد تھے، لیکن ہاتھوں کی لرزش کے ساتھ اب اس کی پیشانی پر ہلکا ہلکا پسینہ بھی آنے لگا تھا۔ اس وقت اس کا رنگ بالکل فق ہو چکا تھا۔

گزشتہ دس برسو ں میں اس نے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا تھا لیکن ایسی کیفیت سے وہ کبھی دوچار نہ ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی اپنی اس حواس باختگی اور خوف پر وہ خود بھی حیران تھا۔ اس کی ڈیوٹی کے دوران کئی لوگ مر چکے تھے لیکن نہ تو وہ کبھی اس قدر پریشان ہوا تھا اور نہ کبھی حوصلہ ہارا تھا۔ بلکہ اس نے ہر قسم کے حالات میں خود کو کبھی اپنے مریض سے غافل ہونے نہیں دیا۔

آج بڑے شہر کی خاموشی میں زندگی کے تمام کام رک چکے تھے۔ سارا علاقہ ایک نئی اور انجان بلا کے پنجوں میں تھا اور موت زندگی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ لیکن اس نے زندگی میں پہلی بار یہ محسوس کیا تھا کہ موت خونخوار بھی ہے اور ظالم بھی۔ سسکتی ہوئی زندگی موت سے برسرِ پیکار تھی اور موت نے ایک کالی بلا کی طرح زندگی کو اپنے تاریک پنجوں میں جکڑا ہوا تھا۔ سرجیکل پروٹیکٹیو کِٹ پہننے سے پہلے اس نے علاقے بھر میں زندگی اور موت کی اس جنگ کی تصویریں دیکھ لی تھیں، جہاں ہزاروں انسان موت کا لقمہ بن چکے تھے اور ہزاروں اس کے حلق میں اترنے کے لیے تیار تھے۔

شہر میں مکمل لاک ڈاؤں تھا۔ کِٹ پہننے کے بعد اس نے ایک نظر خود کو آئیسولیشن وارڈ کے شیشے میں دیکھا اور حفاظتی چشمے پوری احتیاط کے ساتھ لگالیے۔ این 95 کے پانچ نئے ماسک اس کے چہرے کے ساتھ یوں چِپکے ہوئے تھے جیسے کوئی نازنیں معشوق عرصے بعد اپنے عاشق سے مل کر چِپکی رہتی ہے اور دونوں کے دل کی دھڑکنیں کسی انجان خدشے کے باعث بے اختیار ی کے عالم میں تیز ہو چکی ہوں۔

”سر! ، سر! “
پیچھے کھڑی نرس نگینہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
”جی! جی سسٹر میں تیار ہوں، بس آتا ہوں۔ وارڈ کا کیا حال ہے؟ “
سسٹر نگینہ نے این 95 کے پیچھے دبے ہوئے ہونٹ مشکل سے ہلا کر بتایا۔

”سر حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ہمیں تو پانچ دن ہوئے کہ گھر نہیں گئے اور اُدھر احمد رو رو کر ہلکان ہو رہا ہو گا۔ “
اسے اپنا چار سالہ بچہ شدت سے یاد آیا۔

ڈاکٹر اصغر نے اپنے ہونٹوں پر بے بسی کی ایک ہلکی مسکراہٹ سجانے کی ایک ناکام شعوری کوشش کی اور وارڈ کی طرف چلا گیا۔ جہاں دس مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ وہ ایک ایک مریض کے آکسیجن کی صورتِ حال اور زندگی کے علائم مانیٹر میں دیکھ رہا تھا۔

”سسٹر نگینہ! بیڈ تھری، سیون اور نائن کی سچوئشن مسلسل ڈراپ ہو رہی ہے۔ انھیں فوری طور پر وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا ہوگا۔ “

”سر! ہمارے پاس فی الحال دو ہی وینٹی لیٹر ہیں۔ “
”افففف، اب کیا کریں گے؟ “

پھر بڑی احتیاط سے تمام مریضوں کی عمروں کا اندازہ لگانے کے بعد، بیڈ نمبر نو کے بوڑھے مریض پرایک غم زدہ اور اداس نظر ڈالی اور نرس سے کہا۔
”بیڈ تھری اور سیون کو شفٹ کریں۔ “

اس وقت بوڑھے کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر ڈاکٹر اصغر کو اپنا بچپن یاد آیا، اپنا والد، اپنا گھر، کھیل کود، بھاگنا دوڑنا، باپ کے کندھوں پر بیٹھ کر سیر کرنا۔ لیکن پھر جلد ہی اس نے اپنے آپ کو ماضی کی یادوں سے نکالنے کی کوشش کی۔ آئیسولیشن وارڈ کے انچارج، پروفیسر احسان اپناحفاظتی کِٹ پہنے اندر آیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات ماسک کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔

”ڈاکٹر اصغر! “
”جی سر، جی سر! “
”آپ لوگوں نے اب تک بابا کو شفٹ نہیں کیا؟ “

”سر وینٹی لیٹر دو ہیں اور مریض تین۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اس اٹھارہ سالہ لڑکی اور بائیس سالہ جوان کو شفٹ کیا جائے۔ بابا کا شفٹ کرنا کچھ زیادہ مفید نہیں ہو گا۔ “

”نہیں نہیں، نہیں ڈاکٹر اصغر! بابا کو کیوں شفٹ نہیں کریں گے۔ اس کا بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ دیکھیں اس کا جی سی ایس پانچ تک پہنچ گیا اور سچوئشن مسلسل ڈراپ ہو رہی ہے۔ “

”سر پلیز! اِ ن کے بچنے کی امید بہت کم ہے۔ شاید ہم ان دو ہی کو بچا سکیں گے۔ “
”اوکے ڈاکٹر اصغر، اوکے“

اور ڈاکٹر احسان بھاری قدموں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔ اگر چہ اس وقت ماسک کے پیچھے اس کے چہرے پر موجود تاثرات نظرتو نہیں آرہے تھے لیکن بغیر ہتھیار کے لڑنے والی اس جنگ کی اذیت اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی صورت تیرر ہی تھی۔ اُدھر بوڑھے مریض کی حالت بدستور خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا دل بہت چاہ رہا تھا کہ بوڑھے مریض کو بھی وینٹی لیٹر پر منتقل کرے لیکن اس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا جذباتی فیصلہ نہیں تھا۔ وہ طب کی اقدار سے اچھی طرح واقف تھا۔

وہ بیڈ نمبر نو کے بوڑھے مریض کے قریب گیا جس کی سانسیں بڑی مشکل سے چل رہی تھیں اور اس کی اداس فریادی آنکھیں ڈاکٹر اصغر کودیکھ رہی تھیں۔ باقی دو مریض جو وینٹی لیٹر پر شفٹ کر دیے گئے تھے ان کی حالت اب قدرے بہتر ہونے لگی تھی لیکن اس کے ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے۔ وہ جب وینٹی لیٹر کے کام سے فارغ ہوا تو نرس نگینہ کے کہنے پر ایک بار پھر بیڈ نمبر نو کے مریض کو دیکھنے کے لیے چلا گیا مگروہاں بوڑھا مریض زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والے دو گرم آنسو این 95 ماسک کے پیچھے خاموشی سے جذب ہوگئے۔

تیسرے اور ساتویں بیڈ کے مریض اب خطرے سے باہر تھے۔ اس کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہوا تو مریضوں سے کنٹیکٹ رہنے کی وجہ سے گھر کے بجائے اسے طبی حراست کی تنہائیوں کی طرف جانا پڑا کیونکہ گھر کے باقی لوگوں کو مرض سے محفوظ رکھنا بھی ضروری تھا۔ اس نے گھر کا نمبر ملایا لیکن دوسری طرف نمبر مسلسل مصروف آرہا تھا۔ اتنے میں انٹر کام کی گھنٹی بجی۔ یہ ایم ایس کے دفتر سے کال تھی۔ اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے ہسپتال کا ایم ایس افسردہ لہجے میں کہنے لگا۔
”ڈاکٹر اصغر! ہم آپ کی جرأت اور قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ کے والد کی موت کا ہم سب کو افسوس ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *