محاصرے کا روزنامچہ (3)

کتاب، فلم، جہاں گردی اور انسانی زندگی کو سہل بنانے والے عظیم الشان لوگوں سے ملنا اور ان کی معاشرتی، علمی، فکری اور قلمی جدوجہد سے جڑے ہوئے ثمرات میرے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے ہیں۔ وجاہت مسعود صاحب میرے لیے بہت زیادہ قابل احترام، باعث فخر اور قابل تقلید ہیں۔ زندگی کی پہلی تحریر جو لوگوں تک پہنچی، وہ وجاہت صاحب ہی کی نظروں سے گزر کر باعث پہچان بن پائی۔ لفظوں کی ترتیب، لکھنے کا سلیقہ، کہنے کا

Read more

ڈاکٹر ژواگو (IMDB Rating : 8 / 10 ) (سانسوں کے ساتھ چلتی محبت کی لازوال داستان)

انقلاب کے جس رخ کو اس ناول میں موضوع بنایا گیا تھا اس کی وجہ سے پورے ملک میں غدار غدار کے نعرے لگ گئے۔ وطن بدر کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ بورس پیسترنک نے وطن سے محبت کا اظہار حکومت وقت سے ایک اپیل میں کیا۔ جس کے الفاظ تھے۔

” میں اپنی پیدائش، اپنی زندگی اور اپنے نام اور کام سب کو روس کا صدقہ سمجھتا ہوں۔ میں یہ سوچ نہیں سکتا کہ روس کے باہر، روس سے الگ رہ کر میری کوئی حیثیت ہو سکتی ہے۔ مجھ سے چاہے جو غلطی سرزد ہوئی ہو لیکن مجھے یہ گمان بھی نہ تھا کہ میں اپنے آپ کو ایک سیاسی مہم کا مرکز بنتے دیکھوں۔

Read more

آئی اے رحمن صاحب کے عہد رفتہ میں ایام زیست

دسمبر کی ایک یخ بستہ شب کو میں مرحوم گردیزی صاحب کے ساتھ ایچ آر سی پی لاہور کے دفتر پہنچا۔ راستے میں ہم رحمان صاحب کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے اور گردیزی صاحب ان کے بارے میں آگاہی فراہم فرما رہے تھے۔ میں نے رحمان صاحب کے بارے میں بہت کچھ سن اور پڑھ رکھا تھا اور آج ان سے پہلی ملاقات تھی۔ کچھ لمحوں کی بعد ہم ان کے آفس میں موجود تھے، ملاقات کے اوائل لمحات کے کچھ دیر بعد ہی میری کیفیت خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کی مانند تھی کہ، اک پل میں ایک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے۔

Read more

بیرک نمبر 10 کا قیدی

قدم آھستہ آھستہ بیرک کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اچانک قدم رک گئے۔ چھ سال ہو گئے آسیبی سایہ اب بھی برقرار ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ذہین لوگ جو ملک سے باہر جا کر امتیازی خصوصیات کے ساتھ اپنا مقام حاصل کرتے ہیں اور واپس لوٹ کر دیس کے طالب علموں میں فکر کے روشن چراغ روشن کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں، ان کو سر آنکہوں پر بٹھایا جانا چاہیے تھا لیکن ارضِ مقدس میں

Read more

آگ اور لہو سے اپنی عظمت کا مجسمہ تراشنے والے

دن اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا اور شب کے گہرے سائے پھیلتے جارہے تھے۔ ان سایوں میں بہت دور دور تک خاموشی نے بسیرا کرلیا تھا۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گھن گرج میدان جنگ میں عارضی اور وقتی جیت کے ساتھ ہی بند ہوچکی تھیں۔ بارود کا دھواں ہر جانب نظر آرہا تھا اور محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اس جگہ کا مقدر ایک میدان جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ اس نے اپنے ہوش و حواس

Read more