آئی اے رحمن صاحب کے عہد رفتہ میں ایام زیست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر کی ایک یخ بستہ شب کو میں مرحوم گردیزی صاحب کے ساتھ ایچ آر سی پی لاہور کے دفتر پہنچا۔ راستے میں ہم رحمان صاحب کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے اور گردیزی صاحب ان کے بارے میں آگاہی فراہم فرما رہے تھے۔ میں نے رحمان صاحب کے بارے میں بہت کچھ سن اور پڑھ رکھا تھا اور آج ان سے پہلی ملاقات تھی۔ کچھ لمحوں کی بعد ہم ان کے آفس میں موجود تھے، ملاقات کے اوائل لمحات کے کچھ دیر بعد ہی میری کیفیت خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کی مانند تھی کہ، اک پل میں ایک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے۔

معتدل مزاج، روشن آنکھیں، آواز کی کھنک، پر اعتماد لہجہ، بے خوف کیفیت اور انسانی زندگی کو سہل بنانے کی جدوجہد سے آراستہ رحمان صاحب کی وہ تمام خوبیاں میری آنکھوں کے سامنے واہ ہوئیں اور آخر تک میری ذہنی تربیت اور زندگی کے امکانات کی معاون رہیں۔

اسکے بعد رحمان صاحب سے متعدد بار ملاقاتیں ہوئیں اور ہمیشہ ہی ان کی موجودگی ہمارے لیے باعث نعمت رہی کہ زندگی کے اتنے سارے دریچوں کے قفل انہوں نے اپنی دلیل سے ہٹائے، وہ ہمیشہ پڑھنے کی ترغیب دیتے اور اس بات کا پر زور اظہار فرماتے کہ اپنے نظریات کو علم، عمل، مطالعہ اور ادراک سے دوسروں تک پہنچایا کیجیئے لیکن اپنے نظریات کو کسی پر بزور قوت لاگو کرنے سے احتیاط کریں کیونکہ یہ تشدد کا راست ہے اور تشدد امکانات کی نفی ہے۔

رحمان صاحب کے ضبط کا سحر آفرین منظر میں نے ان کے شہید ہونے والے بھتیجے راشد رحمان صاحب کے جنازے کی قیامت خیز گھڑی میں دیکھا کہ کیسے وہ تمام لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر دلاسا دے رہے تھے اور ان کو ہوش و حواس میں رہنے کی تلقین کر رہے تھے۔ بلاشبہ رحمان صاحب نے نوے برس ایک مثالی جدوجہد سے آراستہ زندگی بسر کی، ہمیشہ دنیا اور معاشرے کے پسے ہوئے اور کمزور طبقات کے لئے توانا آواز بلند کی، اپنی پر مغز تحاریر سے انسانی حقوق اور جمہوریت کا مقدمہ لڑا اور ہمیشہ دلیل سے قائل کیا۔

اپنے آخری آرٹیکل میں بھی انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ سیاسی کارکن اور سیاسی جماعتیں اپنے سینئر ارکان کے تجربات اور ان کے علم سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے سیاسی بلوغت کا سفر طے کریں۔

میں فقط ان الفاظ کے ساتھ رحمان صاحب کو اور ان کی لازوال جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *