دو ٹکے کا انجینئر

” آج کل کیا کر رہے ہو کوئی جاب وغیرہ ”
” نہیں کوئی جاب تو ملی نہیں بس اپنا بزنس کر رہا ہوں ”
یہ تو بہت اچھی بات ہے کوئی کنسٹرکشن کمپنی کھولی ہے یا کوئی انجینئرنگ کنسلٹنسی کی فرم ”
نہیں، میں میڈیکل اسٹور چلا رہا ہوں ”
اگر میڈیکل اسٹور ہی چلانا تھا تو انجینئرنگ کیوں کی ؟ خرچہ بھی کیا اور ٹائم بھی لگایا اس سے تو بہتر تھا بی۔ فارمیسی کرتے ”
بجا فرمایا آپ نے۔ گزرا ہوا وقت تو واپس نہیں آ سکتا لیکن انجینئرنگ کی پڑھائی کا خرچہ آدھے سے زیادہ نکال چکا ہوں ”
اچھا وہ کیسے؟ ”
پی ای سی میں رجسٹرڈ انجینئر ہوں۔ ایک ٹھیکیدار میری ڈگری اور پی سی کارڈ کارڈ اپنی کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کرتا ہے اور ہر مہینے 25000 روپے مجھے اس کے بدلے میں گھر بیٹھے مل جاتے ہیں ”

Read more