دو ٹکے کا انجینئر


” آج کل کیا کر رہے ہو کوئی جاب وغیرہ ”
” نہیں کوئی جاب تو ملی نہیں بس اپنا بزنس کر رہا ہوں ”
یہ تو بہت اچھی بات ہے کوئی کنسٹرکشن کمپنی کھولی ہے یا کوئی انجینئرنگ کنسلٹنسی کی فرم ”
نہیں، میں میڈیکل اسٹور چلا رہا ہوں ”
اگر میڈیکل اسٹور ہی چلانا تھا تو انجینئرنگ کیوں کی ؟ خرچہ بھی کیا اور ٹائم بھی لگایا اس سے تو بہتر تھا بی۔ فارمیسی کرتے ”
بجا فرمایا آپ نے۔ گزرا ہوا وقت تو واپس نہیں آ سکتا لیکن انجینئرنگ کی پڑھائی کا خرچہ آدھے سے زیادہ نکال چکا ہوں ”
اچھا وہ کیسے؟ ”
پی ای سی میں رجسٹرڈ انجینئر ہوں۔ ایک ٹھیکیدار میری ڈگری اور پی سی کارڈ کارڈ اپنی کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کرتا ہے اور ہر مہینے 25000 روپے مجھے اس کے بدلے میں گھر بیٹھے مل جاتے ہیں ”

یہ کوئی فرضی کہانی یا افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت پر مبنی ایک مکالمہ ہے جو کچھ ہفتے پہلے ایک گریجویٹ سول انجینئر اور اس کے ٹیچر کے درمیان ہوا تھا

انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک گریجویٹ انجینئر کے لیے پی ای سی کا رجسٹریشن کارڈ لینا لازم و ملزوم بن جاتا ہے۔ نہ صرف سرکاری بلکہ اب تو پرائیویٹ سیکٹر میں بھی انجینئرنگ کی جاب کے لئے انجینئر کا پی ای سی میں رجسٹر ہونا ایک بنیادی شرط ہے

لیکن پی ای سی کے ممبر شپ کارڈ کا اس طرح سے استعمال، انجینئرنگ پروفیشن اور کمیونٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ مختلف کنٹریکٹرز اور کنسٹرکشن کمپنیوں کی طرف سے گریجویٹس کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے اپنی طرف راغب کر کے ان کے پی سی کارڈ کو خریدنے کا عمل اب کوئی نہیں نئی بات نہیں رہی۔

پی ای سی کا کارڈ کسی فرم کے ہاتھوں کوڑیوں کے دام بیچنے کا ماڈل اب اتنا مقبول اور سہل ہو چکا ہے کہ اب خود گریجویٹ انجینئر پی ای سی کی رجسٹریشن لینے کے بعد اپنے آپ کو اس منڈی میں برائے فروخت رکھنے کو بے چین اور تیار ہوتے ہیں

اگر خلیل الرحمٰن قمر ”میرے پاس تم ہو“ ڈرامہ عورت پر نہیں انجینئر کے بارے میں لکھتا تو ہمیں یقیناً ”دو ٹکے کا انجینئر“ جیسا ڈائیلاگ سننے کو ملتا کیونکہ اب پی ای سی سے رجسٹرڈ شدہ گریجویٹ انجینئرز کی طرف سے خود اپنا پی ای سی کارڈ استعمال کرنے کی پیشکش کرنا، انجینئرنگ پروفیشن کی پسماندگی اور بے وقعت ہونے کو ظاہر کرتا ہے

آج کل انجینئرنگ کمیونٹی میں پی ای سی کے الیکشن کے چرچے ہو رہے ہیں۔ اس آرٹیکل لکھتے وقت پو لنگ کی تاریخ 8 اگست مقرر ہو چکی ہے۔ مختلف گروپس مختلف نام سے پینل بنا کر الیکشن کمپین کو زور و شور سے چلا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں روز کسی نہ کسی گروپ کی طرف سے کسی بڑے ہوٹل میں تقریبات ہو رہی ہیں۔ ہمارے گاؤں کے چوہدری کے بڑے بیٹے کے ولیمے میں بھی اتنے بندے شریک نہیں ہوئے ہوں گے جتنی بڑی تعداد میں انجینئرز ان تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کی ضیافت ایک پر تکلف کھانے کے ساتھ کی جاتی ہے

تبدیلی اور انقلاب لے کر آنے کے وعدوں سے بھرپور لمبی لمبی تقاریر سے ہر گروپ کے امیدوار اپنے ووٹر کو سبز باغ دکھا کر متاثر کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ کوئی انجینئرز کی اسٹارٹنگ سیلری (تنخواہ) پچاس ہزار یقینی بنانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی ٹیکنیکل الاؤنس بڑھانے کی یقین دہانی کروا رہا ہے

بس یوں سمجھ لیں کہ جیسے روٹی کپڑا اور مکان ، تبدیلی اور ریاست مدینہ جیسی باتیں، اسی انداز میں کی جا رہی ہیں جیسے جنرل الیکشن میں کوئی ایم این اے / ایم پی اے کا امیدوار اپنے ووٹر سے کرتا ہے

ایم این اے یا ایم پی اے بننے کے لئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے پانی کی طرح بہانے پڑتے ہیں اور الیکشن جیتنے کے بعد اقتدار میں آ کر کیسے یہ کروڑوں روپے اربوں روپے میں واپس آتے ہیں یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب لاکھوں روپے پی ای سی الیکشن میں میں مختلف گروپس کی طرف سے خرچ کیے جا رہے ہوں۔

کیا پی ای سی کی گورننگ باڈی کا ممبر یہ لاکھوں روپے واپس حاصل کر لے گا؟

یہ ایک سوال ہے جس کے پیچھے کافی راز پوشیدہ ہیں لیکن یہ مضمون اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے بجائے ووٹر اور اس کو درپیش مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے گا، جس کو سہانے خواب دکھائے جا رہے ہیں اور اس کے بنیادی مسائل کا حل چٹکیوں میں حل کرنے کا دعوے کیے جا رہے ہیں۔

ووٹر کے بنیادی مسائل کیا ہیں اس سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ووٹر کون ہے۔

ووٹر کوئی ان پڑھ یا کوئی مڈل میٹرک پاس نیم خواندہ بندہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی پسماندہ ذہن کا مالک ہے بلکہ وہ ایک مکمل پڑھا لکھا سولہ سالہ تعلیم یافتہ کم از کم بائیس سال کی عمر کا عاقل، بالغ اور باشعور گریجویٹ انجینئر ہے جو ریاضی، فزکس، انگلش جغرافیہ اور دوسرے تکنیکی مضامین سے خوب آشنا ہے۔

ووٹر کے بنیادی مسائل، جن کو چٹکیوں میں حل کرنے کا دعویٰ ہر امیدوار کر رہا ہے وہ بظاہر ”بے روزگاری“ سمجھا جا رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ گریٹ انجینئرز کی اکثریت بے روزگار ہے۔

جس ملک میں مہمند ڈیم، بھاشا ڈیم اور دیگر چھوٹے موٹے ڈیمز ہائیڈرو پاور کے منصوبے چل رہے ہوں، موٹرویز اور ریلوے لائن کا نیٹ ورک بچھایا جا رہا ہو، انڈسٹریل زونز بنائے جا رہے ہوں، وہاں گریجویٹ انجنئیرز کا بیروزگار ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے یا شاید دال پوری کالی ہے۔

راقم نے ایک معروف چینی کمپنی کے سی ای او سے ایک کاروباری ملاقات میں دوستانہ انداز میں شکوہ کیا کہ وہ لوکل انجینئرز کو ترجیح کیوں نہیں دیتے دے۔

انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور آئیں بائیں شائیں کرنے کے، دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ ”پاکستانی انجینئرز ان کے تکنیکی اور پیشہ ورانہ معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم مقامی انجنیئرز کو بھرتی کریں جو ہمیں غیر ملکی انجینئرز سے کافی سستے پڑتے ہیں“

اس وقت ان کی کہی ہوئی بات بری بھی لگی لیکن راقم جب اس کی کھوج میں نکلا تو اس کی کہی باتیں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئیں اور اس کے کھرے اکیڈمی کی طرف جاتے ہوئے ملے۔

پی ای سی کی گورننگ باڈی اور دیگر عہدوں کے لیے لڑنے والے امیدواروں کی اکثریت شعبہ تعلیم سے وابستہ ہے۔ مختلف پبلک اور پرائیویٹ انجینئرنگ یونیورسٹیز کے حاضر سروس لیکچرز، پروفیسرز سے لے کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، ڈین اور وائس چانسلر تک کے امیدوار اس اکھاڑے میں اترے ہوئے ہیں۔ یہ امیدوار اپنی اپنی یونیورسٹی میں سنڈیکیٹ کے ممبر بھی ہوتے ہیں اور پھر نصاب طئی کرنے سے لیکر ایچ ای سی سے فنڈز لینے اور پالیسی بنانے کے مجاز بھی ہوتے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ اکیڈمیا کے کرتا دھرتا مانے جاتے ہیں۔ ان صاحبان کے منشور میں سب سے نمایاں نقطہ، انجینئرنگ کے نصاب کو دور حاضر کی ٹیکنالوجی اور جدت کے مطابق جائزہ لے کر اپڈیٹ کرنا شامل ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے اختیار ان کے پاس نہیں ہیں، جو وہ پی ای سی الیکشن جیت کر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ان کی نمائندگی ایچ ای سی میں نہیں ہے؟ کیا وہ سنڈیکیٹ کے ممبران نہیں ہیں؟ کیا وہ انجینئرز کی کیریئر کونسلنگ کرنے کے پروگرام اپنے تعلیمی اداروں میں منعقد کرنے کے مجاز نہیں؟

کیریئر کونسلنگ کس بلا کا نام ہے یہ ابھی تک ہمیں سمجھ نہیں آیا۔ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران امتحانات، اسائنمنٹس، تھیسس اور گریڈز/نمبرز کا دباؤ لے کر ڈیپارٹمنٹ کی غلام گردشوں میں گھومتے ہوئے اور کینٹین میں دوستوں کے ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے، ووٹر نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا ہوگا کہ اصل امتحان اور سیکھنے کا عمل تو پاس آؤٹ ہونے کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ وقت ان کو کو وہ سبق سکھانے کو تیار ہے جو انہوں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھے ہوں گے ۔

کسی اسٹوڈنٹ نے شاذونادر ہی اپنے ٹیچر سے یہ سوال کیا ہوگا کہ پاس آؤٹ ہونے کے بعد ہم معاشرے میں کہاں اور کس طرح سے اپنی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں یا ہم کیریئر کہاں سے شروع کر سکتے ہیں۔

راقم اس طرح کا سوال فائنل ائر میں پوچھنے کی گستاخی کر بیٹھا اور غیر متعلقہ سوال پوچھنے کی پاداش میں اس لیکچر کے دوران کلاس سے باہر نکالا گیا۔ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ مجھے کیوں نکالا۔ وہ کلاس روم کم، پریشر کوکر زیادہ لگتا تھا۔

اور ٹیچر کا لیکچر کسی مولوی کے کے جمعہ کے خطبے جیسا ہوتا تھا جو صرف سرجھکا کر اونگھتے اونگھتے سن سکتے تھے لیکن سوال نہیں کر سکتے تھے۔

ایک ایم بی بی ایس کا اسٹوڈنٹ پہلے سال میں ہی اتنا پر اعتماد اور ذہنی طور پر پختہ ہوتا ہے کہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس نے میڈیکل کے شعبے میں کیا کرنا ہے۔ گریجوئیشن کے بعد ہاؤس جاب کے ایک سال کا رگڑا ان کو کندن بنا چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے فریش گریجویٹ انجینئر اس کٹی پتنگ کی طرح ہوتے ہیں جن کو ہوا جہاں مرضی لے جائے۔ اکثریت صرف اخبارات میں ملازمت کے مواقع کے اشتہارات دیکھتے ہوئے اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے فارغ ہی بیٹھے رہتے ہیں۔

اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار وہ حکومت اور سسٹم کو سمجھتے ہیں اور کوستے رہتے ہیں۔ پھر اچانک اک ہلکا سا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ان کی زندگی میں آتا ہے جب کوئی ان پڑھ ٹھیکیدار ان کے پی ای سی کارڈ کے بدلے میں ان کو کچھ ٹکوں کی پیشکش کرتا ہے اور وہ انجینئرنگ کو پس پشت ڈال کر کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرتے ہیں جیسے : سی ایس ایس کا امتحان دے کر ڈی ایم جی افسر بننا، ایل ایل بی کر کے وکیل بن جانا یا پھر پھر ماسٹرز پی ایچ ڈی کر کے کسی تعلیمی ادارے میں لیکچرر بننا۔

پی ای سی ایک وفاقی ادارہ ہے جس کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انجینئرز، کنسلٹنٹ اور کنسٹرکشن کمپنیز کی رجسٹریشن فیس کے علاوہ حکومت کی طرف سے پی ای سی کو کافی فنڈز ملتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ای سی کے پاس اس وقت تقریباً 10 ارب روپے کے فنڈز موجود ہیں۔

پی سی اگر چاہے تو ہاؤس جاب جیسا ماڈل متعارف کروا سکتی ہے جس کے تحت ہر گریجویٹ انجینئر کے لئے کم از کم 6 مہینے آن جاب ٹریننگ لازمی ہو۔ پی ای سی اپنے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیز کو پابند کر سکتی ہے کہ وہ فریش گریجویٹس کو آن جاب ٹریننگ دے اور اس عرصہ کے دوران انجینئرز کی تنخواہ کی ذمہ داری خود پی ای سی اٹھائے

پی ای سی چاہے تو کیریئر کونسلنگ کے لیے یونیورسٹیز میں ورکشاپ یا سیمینار منعقد کروائے، جن میں انڈسٹری سے مختلف ماہرین کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ مستقبل کے انجینئرز کی رہنمائی کر سکیں۔ پی ای سی چاہے تو وہ ان سب پرائیویٹ یونیورسٹیز کے لائسنسز منسوخ کر سکتی ہیں جن کے پاس معیاری انفراسٹرکچر فیکلٹی اور دیگر سہولیات نہیں ہیں اور وہ صرف تعلیم کے نام پر پیسہ بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔

پی ای سی چاہے تو غیر ملکی کمپنیز کو 80 فیصد لوکل انجینئرز کو نوکریاں دینے کی پابند کر سکتی ہے چاہے وہ کمپنیز خود سرمایہ کاری کیوں نہ کر رہی ہو۔

پی ای سی ہر دوسرے سال انجنیئرنگ کے نصاب کو دور حاضر کی ٹیکنالوجی اور جدت کے مطابق اپڈیٹ کر سکتی ہے۔ پی ای سی اگر چاہے تو تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے فاصلوں کو مٹا سکتی ہے

پی سی اگر چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے۔ بس اس کے لیے نیت چاہیے۔ بلند بانگ دعووں اور سہانے خوابوں کو لفاظی میں تراشنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

راقم گزشتہ دو الیکشنز میں اس طرح کے دعوے سنتا آ رہا ہے لیکن عمل کچھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ پی ای سی کے سابقہ گورننگ باڈی کے ممبران کے پاس اگر کوئی قابل ذکر کوئی کارنامہ بیان کرنے کو ہے تو وہ ہی صرف بائیو میٹرک سسٹم اور پی ای سی بلڈنگز کا مختلف شہروں میں بننا۔

لیکن یاد رکھیے پی ای سی کا یہ کارنامہ بھی گریجویٹ انجینئر کے لیے اتنا سود مند ثابت نہیں ہوا جتنا کارڈ کے حصول کو آسان بنانے کا، کیونکہ آخر میں بکتا تو وہی پی ای سی کا کارڈ اور انجینئر وہی رہتا ہے ”دو ٹکے کا انجینئر“

Latest posts by عمران انیس (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمران انیس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments