ہمیں بے گناہ قتل کیا جا رہا ہے، ہماری مدد کریں گے، پلیز

ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے معاملے پہ غور کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی نمائندوں کو بلا کر معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اسی اجلاس میں چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم سب کو ڈی آئی خان میں جاری ٹارگٹ کلنگ پہ سخت تشویش ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر پولیس کیوں عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم کے ایس پی نے اس کا جواب کچھ یوں دیا کہ ”پولیس نے دہشتگرد مذہبی جماعت کے خلاف ڈی آئی خان میں کریک ڈاؤن کیا ہے، ڈیرہ میں فرقہ وارانہ اور دہشتگرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، پولیس نے اس تنظیم کے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ کچھ مارے گئے ہیں۔ “ اراکین کمیٹی کے لئے یہ جواب اس حد تک ”اطمینان بخش“ تھا کہ انہوں نے آئندہ اجلاس میں مقامی نمائندوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Read more

مولانا فضل الرحمن کو اصل شکایت کیا ہے؟

وہی بچپن والی بات کہ جس کے پاس بلا، اس کی باری سب سے پہلے، جس کی گیند، اس کی باؤلنگ پہلے، وکٹوں والا بھی اپنی کوئی نہ کوئی منوالیتا تھامگر بعض اوقات میدان میں سب سے زیادہ اس کی چلتی تھی کہ جس کے پاس بھاری بھرکم جثے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔…

Read more

سانحہ ساہیوال: آزادی کے نام پہ بس ایک مینار ملا ہے

بچوں کے سامنے ان کے والدین اور بڑی بہن کو گولیوں سے چھلنی کرنے کا عمل اگر آپ کے خیال میں درست تھا تو پھر سی ٹی ڈی کے افسران اور اہلکاروں کو برطرفی اور عدالتی کارروائی کی ناحق زحمت کیوں دی۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ مقتول ذیشان سے متعلق تحقیقات کے لئے مزید وقت درکار ہے اور اگلا جملہ ادا کرتے ہیں کہ آپریشن 100 فیصد درست تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ مقتول خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ تھی، لہذا سی ٹی ڈی افسران کو عہدوں سے ہٹا رہے ہیں اور واقعہ کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ پنجاب کے وزیر قانون سے اتنا تو پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ جب ذیشان کے بارے میں آپ کی تحقیقات مکمل نہیں، مقتول خلیل اور اس کی فیملی بھی بے گناہ تھی تو پھر سی ٹی ڈی کی یہ ظالمانہ اور بے رحمانہ کارروائی 100 فیصد درست کس طرح ہے؟

Read more

سانحہ ساہیوال، آزادی کے نام پہ بس ایک مینار ملا ہے

بچوں کے سامنے ان کے والدین اور بڑی بہن کو گولیوں سے چھلنی کرنے کا عمل اگر آپ کے خیال میں درست تھا تو پھر سی ٹی ڈی کے افسران اور اہلکاروں کو برطرفی اور عدالتی کارروائی کی ناحق زحمت کیوں دی۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ مقتول ذیشان سے متعلق تحقیقات کے لئے مزید وقت درکار ہے اور اگلا جملہ ادا کرتے ہیں کہ آپریشن 100 فیصد درست تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ مقتول خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ تھی، لہذا سی ٹی ڈی افسران کو عہدوں سے ہٹا رہے ہیں اور واقعہ کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ پنجاب کے وزیر قانون سے اتنا تو پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ جب ذیشان کے بارے میں آپ کی تحقیقات مکمل نہیں، مقتول خلیل اور اس کی فیملی بھی بے گناہ تھی تو پھر سی ٹی ڈی کی یہ ظالمانہ اور بے رحمانہ کارروائی 100 فیصد درست کس طرح ہے؟

Read more

آپ دلی کی سڑکوں پہ گائے کا گوشت بیچنے کی خواہش کررہے ہیں

بھارت میں اس شخص کو مسلمانوں کا کتنا ہمدرد اور غمگسار تصور کیا جائے گا کہ جو نئی دہلی، گجرات، یوپی یا کرناٹک کے کسی علاقے میں پرہجو م پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کرے کہ ہمارے مذہب میں چونکہ گائے حلال ہے، اس کی قربانی ہمارے مذہبی عقائد کا حصہ اور باعث ثواب ہے، لہذا ہمیں برسرعام گائے ذبح کرنے کی نہ صرف اجازت دی جائے بلکہ اس کے خلاف آنے والے عوامی ردعمل کو روکنے اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں اقلیت مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ جہاں ٹرین میں معمولی سے تو تکرار پہ درجنوں افراد ملکر پانچ نوجوانوں کو شدید تشدد کے بعدیہ بہانہ تراش کے موت کے گھاٹ اتاردیں کہ ان کا جرم گائے کی شان میں گستاخی تھا۔ جہاں لڑکی کے انکار پہ متعدد اوباش غریب کے گھر میں گھس کر پوری فیملی کو یہ کہہ کر کاٹ دیں کہ یہ بڑے کا گوشت پکا رہے تھے، یا جس معاشرے میں پجاری اپنی ہوس پوری نہ کرنے والی اقلیتی خاتون کو بھگوان کی بیحرمتی کا مرتکب قرار دے کر زندہ جلانے کی سزا سنائے۔

جہاں اکثریتی آبادی کا بحیثت مجموعی یہ مزاج بنا دیا جائے کہ وہ اپنے ہر بے ضرر ذاتی مخالف کو مذہب کے لئے ضرررساں قرار دینے پہ آماد ہ ہو اور من مطلب کی سزا سنانے کی آرزمند، اس معاشرے میں اقلیتی نمائندگی کا لبادہ اوڑھ کر کوئی شخص عوام کے بیچوں بیچ میڈیا کے سامنے گلا پھاڑ کے ایسا مطالبہ کرے، ایسی خواہش کا اظہار کرے کہ جس سے پورے معاشرے کی دل آزاری کا احتمال ہویا مذہبی، مسلکی مقدسات کی بیحرمتی کارنگ غالب ہوتویقینی طورپر اس کا یہ مطالبہ، یہ خواہش اپنی قوم اور انتظامیہ کو ایک نئے امتحان میں جھونکنے کی کوشش ہی قرار پائے گی۔

Read more

جنرل (ر) شعیب صاحب کے احسان اللہ احسان پہ احسان

دہشتگردی کے سانحات پہ جاری کاروباری سرگرمیوں سے نظریں چرا کے اگر متاثرہ خانوادوں پہ ایک نگاہ ڈالیں تو کہیں کوئی ایسی ماں ملتی ہے کہ برسوں بیت جانے کے باوجود بھی اس کی آنکھ میں آج بھی آنسو ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس ماں کو بیدردی سے قتل ہونے والا اپنا لخت جگر بچوں کی 80 میتیں دیکھنے کے بعد ملا ہو، اس کی آنکھ سے آنسو کیسے تھم سکتے ہیں۔ کہیں کوئی ایسا بزرگ ملتا ہے کہ جسے بیٹے اور پوتے دونوں کی ایک ساتھ تدفین کے جاں گسل عمل سے گزرنا پڑا۔

کہیں کوئی ایسا محنت کش باپ ملتا ہے کہ جو اپنی کل کائنات دونوں بچوں کی لاشیں دونوں بازوں پہ اٹھائے نوحہ کناں ہے۔ کہیں معصوم، کمسن یتیم ابدی نیند سوئے بابا کو آوازیں دیتے نظر آتے ہیں۔ کبھی جوان بھائی کے جنازے سے لپٹی بہن کی آہیں آسمان کا سینہ چیرتی ہیں تو کبھی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے خاوند کی میت کو تکتی جاں بلب بیوہ فریاد کناں ملتی ہے۔ اپنے پیاروں کو کھوئے، دکھ و درد کی تصویر بنے یہ لوگ جب لائیو ٹی وی چینل پہ عسکری امور کے معروف ماہر جنرل (ر) امجد شعیب صاحب کے منہ سے یہ الفاظ سنیں کہ ”فلاں دہشت گرد کو کیوں پھانسی دیں، وہ تو صرف ذمہ داری قبول کرنے والا ہے۔“ اس کے بعد اپنی کل متاع ہارے، دہشتگردی کے ان متاثرین پہ پہ کیا بیتی ہوگی؟

Read more

کیا وزیر مملکت شہریار آفریدی کی قربانی کا فیصلہ حتمی ہے؟

کیا واقعی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش کے مابین ہونے والا مکالمہ اتنا سنگین تھا کہ سعودی حکومت اس کا نوٹس لے، وزیراعظم پاکستان سے اظہار شکوہ کرے اور اس شکوے کی بنیاد پہ وزیر اعظم عمران خان جو کہ انتخابات سے قبل اپنی ہر تقریر میں خودمختاری، حمیت، غیرت اور خود احترامی کی باتیں کرتے تھے، وہ محض سعودی حکومت کی خوشنودی کے لئے اپنے ہی وزیر مملکت برائے داخلہ کی سخت الفاظ میں سرزنش بھی کریں اور اسے مجبور کریں کہ وہ سعودی حکومت کے نمائندے سے معافی مانگے اور پھر معافی مانگے جانے کے بعد بھی ان سے وزارت واپس لینے پہ غور و فکر کیا جائے، محض اس لیے کہ سعودی عرب نے ان کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی قوانین کے تحت پاکستان میں موجود سعودی سفارتخانہ سعودی جائیداد ہے اور سفارتخانہ کے اندر سعودی قوانین کا ہی اطلاق ہوتا ہے، چنانچہ اگر شہریار آفریدی نے سفارتخانے میں سعودی سفیر سے معافی مانگی ہے تو سفارتی ضوابط کے تحت اسے سعودی عرب میں جاکر سعودی حکومت سے معافی کی طلبی شمار کیا جائے گا۔ اسلامک یونیورسٹی کے صدر احمد یوسف الدرویش، سعودی حکومت، وزیراعظم عمران خان کے رویے اور شہریار آفریدی کی اپنے اصولی موقف پہ معذرت خواہی پہ رائے دینے سے قبل وہ مکالمہ ملاحظہ فرمائیں کہ جو وجہ تنازعہ بنا۔

Read more

پاکستانی کھلاڑی مسجد اقصٰی میں، کیا اسرائیل راضی ہے؟

زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ایک اسرائیلی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ہمارا جہاز اسلام آباد ائیرپورٹ پہ دس گھنٹے گزار کر واپس آیا ہے تو پاکستانی میڈیا نے وہ واویلا کیا کہ الامان الحفیظ، حکومت، اداروں اور حکومتی شخصیات کو اپنی اپنی جگہ پہ مختلف انداز میں وضاحتیں اور صفائیاں جاری کرنی پڑیں۔ ایسا پوسٹمارٹم ہوا کہ ممکنہ ہوائی جہاز کی پیدائش سے لے کر زندگی بھر کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا گیا، حالانکہ مذکورہ ممکنہ جہاز کا قصور محض اتنا بتایا گیا کہ وہ اسرائیلی ہے اور اسلام آباد میں اترا ہے، حالانکہ بقول ہارون الرشید اسرائیل کا ایک بندہ تو ہمیشہ ہی امریکی سفارتخانہ میں موجود ہوتا ہے، جس کے بارے میں حکومت کو پتہ ہوتا ہے۔ خیر اس بات کو چند دن ہی گزرے ہیں کہ پاکستان کی پوری فٹبال ٹیم بمعہ کوچ و دیگر آفیشلز کے اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) پہنچ گئی، مگر اس دورے پہ میڈیا میں ”اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی“۔

پاکستانی فٹبال ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کا شمار ان گنے چنے خوش نصیب پاکستانیوں میں ہوتا ہے کہ جنہیں مسجد اقصیٰ یعنی قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم اس وقت مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں موجود ہے۔ فلسطین کے ساتھ دوستانہ فٹبال میچ کھیلنے کے لئے پاکستانی فٹبال ٹیم فلسطین گئی۔ قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر آفیشلز نے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی ادائیگی کے بعد وہاں اپنی خصوصی تصاویر بنوائیں جو کہ اس وقت سوشل میڈیا پہ تیزی کے ساتھ وائرل ہوکر زیر بحث ہیں۔

Read more

مولانا سمیع الحق بھٹو کی طرح مردم ناشناس نکلے

مولانا سمیع الحق کی تدفین کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔  انہیں جامعہ حقانیہ کے اندر اپنے والد مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔  لوگوں کے جم غفیر اور اہم شخصیات کی موجودگی کے باعث انتظامیہ نے تدفین کا عمل عجلت میں مکمل کیا۔ لوگوں کی زیادہ تعداد کے باعث نماز جنازہ…

Read more