طاق نسیاں کے نقش و نگار

مشتاق یوسفی صاحب اپنی کتاب زرگزشت میں لکھتے ہیں ”ہمیں نام، مردوں کے چہرے، راستے، کاروں کے میک، شعر کے دونوں مصرعے، یکم جنوری کا سالانہ عہد، بیگم کی سالگرہ اور سینڈل کا سائز، نماز عید کی تکبیریں، سال گزشتہ کی گرمی سردی، عیش میں نام خدا اور طیش میں خوف ناخدا، کل کے اخباروں کی سُرخیاں، دوستوں سے خفگی کی وجہ۔۔۔ نہ جانے کیا کیا یاد نہیں رہتا“۔ حال ٹھیک یہی ہمارے حافظے کا بھی ہے۔ حالات و واقعات

Read more