طاق نسیاں کے نقش و نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  

مشتاق یوسفی صاحب اپنی کتاب زرگزشت میں لکھتے ہیں ”ہمیں نام، مردوں کے چہرے، راستے، کاروں کے میک، شعر کے دونوں مصرعے، یکم جنوری کا سالانہ عہد، بیگم کی سالگرہ اور سینڈل کا سائز، نماز عید کی تکبیریں، سال گزشتہ کی گرمی سردی، عیش میں نام خدا اور طیش میں خوف ناخدا، کل کے اخباروں کی سُرخیاں، دوستوں سے خفگی کی وجہ۔۔۔ نہ جانے کیا کیا یاد نہیں رہتا“۔

حال ٹھیک یہی ہمارے حافظے کا بھی ہے۔ حالات و واقعات تو ذہن نشین رہتے ہیں البتہ تاریخ یعنی کہ دن، ماہ اور سن بمشکل یاد رہتے ہیں۔ ہمیں یہ تو بخوبی یاد رہتی ہے کہ ”کس نے کیا کِیا؟ “ اور ”کیوں کیا؟ “ البتہ ”کب کیا؟ “ یہ استخارہ کیے بنا ہم نہیں بتا سکتے۔

چنانچہ اس مشکل کا حل ہم نے یہ نکالا کہ چند خاص تواریخ، جو درسی کتابوں سے جبراً تحت الشعور تک سرایت کرا لی گئی تھیں، کو لے کر ایک جال سا بچھایا، اور مطالعے کی لہر میں جتنے بھی مگرمچھ نما سن آئے ان کو اس جال میں پھنساتے گئے۔ جال کے تانے بانے کو مضبوط سی نکیلوں سے جکڑ لیا جس کے لئے معروف واقعات و ایجادات، اشخاص کی پیدائش و وفات، جنگ و امن کے معاہدے، مذہبی رسومات، عُروس، وغیرہم کا انتخاب کیا۔

مثلاً کیمسٹری سے تعلق بحال رہنے کی وجہ سے یہ بخوبی معلوم ہے کہ سن 1913 ء میں نیل بوہر (Neil Bohr) نے ایٹم کے متعلق اپنا مشہور نظریہ پیش کیا تھا۔ اس لئے ہم نے اس سن کو بطور نکیل گاڑ دیا اور کئی واقعات کو اس کے ساتھ یا پھر آس پاس جکڑ لیا۔ جیسے قائد اعظم نے 1913 ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی؛ اسی سال علامہ اقبال نے جواب شکوہ لکھا۔ بعض واقعات کے سن تھوڑی سی گنتی پر خود واضح ہوگئے۔ جیسا کہ ”شکوہ“ کے چار سال بعد ہی جواب شکوہ شائع ہوا تھا اس لیے معلوم ہوا کہ شکوہ 1909 کو لکھی گئی تھی۔

اسی سال یعنی 1913 کو ووڈرو وِلسن (Woodrow Wilson) امریکی صدر منتخب ہوئے۔ یہ وہ مشہور صدر ہیں جنہوں نے جنگ عظیم اوّل کے دوران امریکہ کی قیادت کی۔ جرمنی کی شکست فاش کے بعد اپنے چودہ نکات پیش کیے  اور ساتھ ہی لیگ آف نیشنس (League of Nations) کے قیام کی تجویز دی، جو بعد میں اقوام متحدہ کے روپ میں ابھرا۔

قریباً یہی سال تھا جب گاندھی جی جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کے حقوق کے لئے احتجاج کرتے ہوئے سلاخوں کی نذر ہوگئے۔ آج بھی وہاں کے باشندے گاندھی جی کو لسانی اور قومی اعتبار سے متعصب سمجھتے ہیں، حال ہی میں اس کا مجسمہ بھی وہاں کی ایک جامعہ سے ہٹایا گیا۔

نہر پانامہ کی تکمیل بھی اسی سال ممکن ہوا اور پہلا بحری جہاز سن 1913 کو بحرِاوقیانوس سے ہوتے ہوئے اس نہر کو پار کرکے بحر الکاہل میں داخل ہوا۔ اسی سال مشہور فلمی اداکار چارلی چپلن (Charlie Chaplin) نے اپنی فلمی کیرئر کا اعزاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی سکوتی حرکات اور مخصوص مسکراہٹ سے پوری دنیا کو ہنسانے والے اس اداکار نے 150 ڈالر ہفت روزہ اُجرت پر کام شروع کیا تھا۔

اس جال میں ذرا پیچھے کو چلے تو 1912 ء کو مشہور زمانہ بحری جہاز، ٹیٹانک (Titanic) ڈوبتا ہوا ملے گا۔ انگلستان کے ساحل سے نکلنے والا یہ بدقسمت جہاز دو سال کی محنت بامشقت کے بعد سمندر میں اتارا گیا تھا لیکن سمندر کی موجوں  سے کھیلنے کے لئے اسے صرف پانچ دن ہی میسر آئے۔ اس سال چائنہ کے شاہی خاندان یعنی مانچو حکومت (Manchu Rule) کا خاتمہ ہوا اور یوں ایک جمہوری انقلاب نے 2000 سالہ پرانی بادشاہت کا خاتمہ کر کے جمہوری چین کی بنا ڈالی۔ اس جمہوریت کو بعد میں سوشلسٹ انقلابیوں نے تائیوان تک محدود کر کے رکھ دیا۔ 1913 سے اگر آگے کو چلے تو 1914 کو جنگ عظیم اوّل چھڑ گئی اور اسی سال مصر خلافت عثمانیہ سے نکل کر انگلستان کی گرفت میں آ گیا۔

اسی طرح کا ایک نکیل 1947 ء کو بناتے ہیں کیونکہ اس سال ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور پیارا پاکستان معرض موجود میں آیا۔

حسن اتفاق سمجھئے یا کچھ اور، بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ائی ایم ایف کا قیام بھی اسی سال عمل میں آیا، یوں دونوں کی دوستی بچپن کی ہے جو ابھی تک A friend in need is a friend indeed کی مانند جاری ہے۔ ڈر ہے کہیں یہ دوستی تا قیامت سلامت نہ رہے۔ سال 1947 ہی میں امریکہ نے اپنی سو سالہ خارجہ پالیسی مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) کو تبدیل کرکے ٹرومیں ڈاکٹرآئن (Truman Doctrine) متعارف کروایا۔ مؤخرالذکر پالیسی کے تحت امریکہ نے کمیونسٹ روس کے خلاف یورپی ممالک کو امداد دینے کی ٹھان لی اور بارہ بیلین ڈالرز کا پیکیج مارشل پلان پیش ہوا جو اگلے سال یعنی 1948 میں 17 ارب تک پہنچ گیا۔

اسی سال امریکی بِل لیبر ٹیز (Bell Laboratories) نے ٹرانزسٹر متعارف کروایا جس سے بعد میں آئی ٹی انقلاب کی راہیں ہموار ہوگئیں۔ دنیا کی مشہور خفیہ ایجنسی، سی آئی اے نے بھی اسی سال اپنا کام شروع کیا۔ اسی سال دنیا میں سرد جنگ کی باقاعدہ شروعات ہوئی جو نصف صدی پر محیط رہی۔

آگے چلتے ہوئے ایک نکیل 1979 کو بنا لیتے ہیں۔ یہ سال اس لیے معروف ہے کہ اس سال پاکستان کا واحد سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام فزکس میں نوبیل انعام کا مستحق قرار پایا۔ برصغیر کا عظیم مفکر و مدبر حضرت سیدابوالاعلٰی مودودی رح بھی اسی سال رحلت فرما گئے۔ اسی سال پاکستان کے مقبول سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو ایک متنازع فیصلے کے ہاتھوں سولی پر چڑھے۔ چنانچہ بھٹو صاحب دو سال سلاخوں کے پیچھے رہے اس لیے یہ بھی مسلّم ہے کہ ان کی گرفتاری 1977 کو ہوئی اور یوں مارشل لاء کا نفاذ بھی اسی سال ممکن ہوا۔ شریعت کی نفاذ کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے یہ مارشل لاء 1988 تک جاری رہا۔ معروف تاریخ نویس عائشہ جلال لکھتی ہیں ”جنرل صاحب، دس سال تک اسلام کے نام پر خود کو نافذ کرتے رہے“۔ ایرانی انقلاب کو بھی اسی ستون کے ساتھ منسلک کرتے ہیں کیونکہ 1979 ء ہی کو آیت اللہ خمیںی نے شاہِ ایران کا تختہ الٹا کر خود تختِ نشین ہوا تھا اور اسی سال روسی فوج افعانستان پر حملہ اور ہوئی۔

اس جال کو متعدد نکیلوں سے جکڑنے کے بعد درمیاں میں چھوٹے موٹے کیل بھی ٹھونستے ہیں تاکہ جال کا پھیلاؤ مزید مستحکم ہو سکے۔ 1916 ہی کو لیجیے۔ اس سال برصغیر میں ہندو مسلم اتحاد کی بابت معاہدہ لکھنؤ طے پایا، ٹھیک اسی سال شیخ الہند مفتی محمود الحسن رح نے ہندوستان کو برطانوی راج سے چھڑانے کے لئے جرمنی، افعانستان اور ترکی کی مدد حاصل کر کے ایک خفیہ تحریک کی بنیاد رکھی۔ شیخ الہند اپنی تمام تر منصوبہ بندیوں کے بارے میں مریدیں کو باخبر رکھنے کے لئے پیغامات کو ریشمی رومال میں منقش کرکے بھیجتے اور اسی وجہ سے اس کو تحریک ریشمی رومال کا نام دیا گیا۔ اندرونی دغا اور نمک حرامی کی وجہ سے یہ تحریک دشمنوں کے ہاتھ چڑھ گئی اور یوں شیخ الہند ”اسیرِ مالٹا“ قرار پایا۔

جال کو مزید مستحکم کرنے کے لئے کچھ تواریخ کو معروف واقعات سے منسلک کرتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ کو پیش ہوا اور آخری چودہ اگست کو۔ درمیان والے کی کوئی معروف تاریخ نہیں۔ شاید اسی لئے اکثر لوگ اس کو آئین ہی نہیں مانتے۔

طاق نسیاں میں مزید نقش کاری کے لئے ہم نے ایک ترکیب یہ سوجی کہ مغربی ایجادات کی متنوع تواریخ کو اگر مشرقی واقعات سے منسلک کیا جائے تو ایک تیر سے کئی شکار ممکن ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ 1605 ء کے لگ بھگ جب گلیلیو نے حرارت ناپنے کے لئے تھرمامیٹر ایجاد کیا اس وقت مغلیہ دور میں تخت جہانگیری کا اضافہ ہوا۔ 1707 ء کو جب تاج علمگیری پر سورج غروب ہونے کو تھا تب یورپ میں ٹریکٹر متعارف ہوا، جو بعد میں زرعی انقلاب بلکہ انقلابات کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

1757 ء کو اس وقت یورپ میں سیٹلائٹ نیویگشن (Satellite Navigation) متعارف ہوا جب ہم بنگال میں پلاسی کی جنگ (War of Plassey) ہار چکے تھے اور اس کے ٹھیک سو سال بعد 1857 ء کو ہم دِلی بھی گنوا بیٹھے۔ 1885ء کو ہندوستان میں جب کانگریس کی بنیاد ڈالی گئی تب مغرب میں گیسولین سے چلنے والی کار انجن متعارف ہوا۔ 1906 ء میں ہمارے اجداد نے کانگریس سے بیزار ہوکر مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور ادھر مغرب میں ائیر کنڈیشنگ  منظرعام پر آئی۔

1909 ء کو کیمیائی مرکبات کی تیزابیت ناپنے کے لئے مشہور آلہ پی ایچ میٹر (pH Meter) کام کرنا شروع کیا اور ادھر ہم منٹو مورلے رفارمز (Minto۔ Morley Reforms) میں جداگانہ چناؤ کے لئے حقوق ڈھونڈ رہے تھے۔ 1916 ء میں معاہدہ لکھنؤ ہوتے ہی ایک امریکی سائنسدان نے اسپیس راکٹ (Space Rocket) کا تصور دیا۔ 1938 ء کو اِدھر مشرق اپنے شاعر علامہ اقبال سے ہاتھ دھو بیٹھا اور اُدھر مغرب نے فوٹو کاپی مشین ایجاد کیا۔ 1940 ء میں ہم اپنی قرارداد لے کر منٹو پارک لاہور میں جمع ہوئے اور وہاں ریڈارسسٹم (RADAR System) متعارف ہوا۔ اسی طرح 1947 ء میں جب مغرب نے ٹرانزسٹر ایجاد کرکے دنیا کو آئی ٹی انقلاب کے دکھانے دھکیل دیا تو اس وقت ہم نے وطن عزیز کو گورے آقاؤں سے چھڑا کر کالے آقاؤں کے سُپرد کیا۔

1949 ء میں جب بار کوڈ متعارف ہوا تو بدلے میں ہم نے بھی قرارداد مقاصد پیش کیا۔ 1954 ء کو فائبر آپٹکس کو وجود ملی تو اِدھر گورنر جنرل ملک غلام محمد نے اپنی مطلق العنانی میں پہلی دستور ساز اسمبلی کو گھر کا راستہ دکھایا۔ 1958 ء میں کمپیوٹرز کی دنیا کے پہلا ائی سی نے کام کرنا شروع کیا اور ہمارا پہلا فوجی دور شروع ہوا۔ 1973 ء میں پہلی مرتبہ موبائل فون یعنی سیل فون نے برقی شعاعوں کے ذریعے پیغام رسانی کا سفر شروع کیا اور ادھر پاک لوگوں کی سر زمیں میں پہلی مرتبہ انتخابات کے ذریعے حکومت سازی ہوئی۔

یوں اس آئین سے حکومتی مشینری ایک بار پھر چل پڑا جو ابھی تک 35 پنکچر ز کے باوجود چل رہا ہے۔ 1974 ء میں پہلی دفعہ بار کوڈ اور اس کے اسکینر نے کام شروع کیا اور ادھر ہم قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں فتح یاب ہوگئے۔ 1996 ء میں بی بی کی حکومت گرتے ہی دنیا میں وائی فائی متعارف ہوا۔ 2004 ء میں فیس بک لانچ ہوا اور ادھر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ساری دنیا کے سامنے نیوکلیئر سمگلنگ کا اقرار کیا۔ واضح ہو گیا کہ انھوں نے لیبیا، کوریا اور ایران کو پیسوں کی خاطر جوہری ہتھیار بنانے والے آلات اور سنٹریفیوج مشین بھیجی تھیں۔

2011 میں تین اہم واقعات پیش آئے ؛ پہلا واقعہ ریمنڈ ڈیوس کا دوسرا سلسلہ ائیر بیس پر نیٹو فوج کا حملہ اور تیسرا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن۔ ان سب واقعات میں، بد قسمتی سے، ملکی سالمیت مصلحتوں اور قانونی تقاضوں کی بھینٹ چڑگئی اور ہم ”گو امریکہ گو“ کے نعرے لگانے کے اور کچھ نہ کر سکے۔

یوں واقعات جُڑتے گئے اور طاق نسیان کا خوف کم ہوتا گیا۔ اللہ کا کرم دیکھئے کہ جس دن ہم پیدا ہوئے اس دن بھی کچھ نہ کچھ واقع ہوا تاکہ یوم ولادت یاد رکھنے میں آسانی ہو۔ 25 مارچ 1992 ء کو ہم عالم ارواح سے نکل کر عالم فانی میں وارد ہوئے اور اِدھر پاکستان کرکٹ کا عالمی چیمپین بنا۔ اور پھر یوں ہوا کہ ہمارا نام بھی وہی ٹھہرا جو اس وقت کے کپتان کا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 5
  •  
عمران الحق کی دیگر تحریریں
عمران الحق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں