مسٹر ٹم نے جرمن سکھائی

میں اس بوڑھے انگریز کو اکثر صبح سویرے گرو مندر کے سٹاپ پہ ٹاور جانے والی بس کے انتظار میں کھڑا دیکھتا تھا دبلے پتلے جسم لمبے قد اور تانبے جیسے چہرے والا یہ شخص پس سٹاپ پہ کھڑے ہر شخص کی توجہ کا مرکز بنا رہتا مجھے کسٹم ہاؤس جانا ہوتا اور وہ راستے میں ہی کہیں بس سے اتر کر لوگوں کی بھیڑ میں گم ہو جاتا اس کی انگلش کس کو سمجھ آئیے نہ آئیے وہ اپنے

Read more

آہ! نیوزی لینڈ تیری تاریخ بدل گئی

مسجد النور کی بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ پھولوں کے ڈھیر اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ مغرب کی طرف سے پھیلایا جانے والے اسلام دشمن پروپیگنڈے نے کتنے دلوں میں نفرت اور تعصب کی آگ کو ہوا دی تھی اور کتنے ذہنوں نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے اپنے دامن کو اس مکروہ فلسفے سے آلودہ نہیں ہونے دیا تھا۔ یہاں پھول رکھنے والے صرف مسلمان ہی نہیں ان میں عیسائی، یہودی، ہندو اور بدھ مت کے ماننے والے بھی شامل تھے جب کہ ان میں زیادہ تعداد مقامی لوگوں کی تھی جو ایک ایسے ملک کے باشندے تھے جس کی تاریخ اپنے دامن میں صلح جوئی، انسانیت، محبت اور فکر و عمل کے سچے جذبوں سے مالا مال تھی۔

Read more

اختر شیرانی کی سلمیٰ اور دیدار سنگھ پردیسی 

اختر شیرانی کی شاعری میں سلمیٰ کا ذکر اہل ادب کے لیئے یقیناً دلچسپی کا باعث رہاہے سلمی ٰ کون تھی جس کے حسن کی تعریف میں اختر شیرانی نے اس قدر خوبصورت  شاعری تخلیق کی کہ اسے ہندوستان کا کیٹس کہا جانے لگا کبھی تو سلمیٰ کے خرام رائیگاں کو کہکشاں سے تشبیہ دی گئی اور کبھی اسے بہار میں کھلنے والے وہ غنچہ قرار دیا گیا جس کی شادابی پہ ابھی باد صرصر کا کوئی اثر نہیں ہوا

Read more