مجھے تم سے محبت ہے۔ ۔ ۔

ہم دونوں الٰہ آباد کے اکثر مسلمان خاندانوں کی طرح جوائنٹ فیملی والے فرسٹ کزن تھے۔ عمر میں دوسال کا فرق تھا مگر اسکول میں ہمارا داخلہ ایک ساتھ ہوا، پورے اسکول میں ایکدوسرے کی جان پہچان کے بس ہم ہی تھے۔ ہرروز اسکول جاتے وقت ایکدوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کی جاتی۔ وہ عادتا میرے ساتھ رہاکرتی اور میں مجبورا۔ ٹفن میں جلدی ختم کرلیتا تھا اور پھر اس کی طرف دیکھتا رہتا اور اس دوران وہ اپنا ایک پراٹھا بھی پورا نہ کھا پاتی۔ شاید دو سال بڑے ہونے کا لحاظ رکھتی تھی اس لیے ہمیشہ اس کے پاس میرے لئے کچھ نہ کچھ بچ ہی جاتا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ ہم اسکول میں ساتھ پڑھتے، ساتھ کھیلتے اور گھر آکر ہوم ورک کرنے ایک ساتھ ہی بٹھائے جاتے۔ پڑھنے لکھنے میں تو دونوں میں خاص فرق نہ تھا مگرمزاج کا فرق اللہ کی پناہ۔ میں بلا کا شرارتی اور وہ ہمیشہ کی سلجھی ہوئی۔ کیا مجال کہ ڈرائنگ باکس کا کوئی رنگ کسی غلط خانے میں رکھ اٹھے اور ادھر ہفتہ نہ گزرتا کہ میرے تمام رنگ، رنگ برنگے دوستوں میں تقسیم ہوجاتے۔ باکس تو پہلے ہی دن کسی قریبی کوپسندآجاتا تھا۔

Read more