پچھتاوا
پتہ نہیں یہ چاند تھا یا چاند نما کوئی اور شے۔ جو بھی تھا اس میں وہ مسحور کُن کشش باقی نہیں رہی تھی۔ وہ کشش جو ماضی کی دھندلی یادوں میں سے کبھی کبھار راتوں کو نمودار ہوا کرتی۔ آج جب اس نے چاند کی طرف دیکھا تو اسی طرح کی کچھ یادیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔ آکسیجن ماسک کے شیشے پر پڑے ہوئے سکریچز کے پیچھے سے وہ کچھ دیر آسمان کو تکتا رہا اور پھر اس
Read more
