پچھتاوا
پتہ نہیں یہ چاند تھا یا چاند نما کوئی اور شے۔ جو بھی تھا اس میں وہ مسحور کُن کشش باقی نہیں رہی تھی۔ وہ کشش جو ماضی کی دھندلی یادوں میں سے کبھی کبھار راتوں کو نمودار ہوا کرتی۔ آج جب اس نے چاند کی طرف دیکھا تو اسی طرح کی کچھ یادیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔ آکسیجن ماسک کے شیشے پر پڑے ہوئے سکریچز کے پیچھے سے وہ کچھ دیر آسمان کو تکتا رہا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ چاند نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ چاند نہیں تو پھر میں کون ہوں؟ میں بھی تو میں نہیں رہا۔ اگر وہ اپنی چاندنی کھو چکا ہے تو میں نے بھی تو بہت کچھ کھویا ہے۔
اس کے سامنے گیٹ دھیرے دھیرے اوپر ہو کر کھلنے لگی۔ مشین گن کی نال نے کمر پر زور دے کر ہلکا سا دھکا دیا تو وہ اپنے خیالات سے چونک کر نکلا اور آگے بڑھنے لگا۔ اس کے پیچھے سفید وردی والے دو انسان نما روبوٹ تھے جو ہاتھوں میں مشین گن لیے اس کو اندر لے گئے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کمرے کے سامنے آ کر رک گئے۔ دروازہ کھلنے پر اسے اندر دھکیلا گیا۔ جب دروازہ نیچے ہو کر بند ہو گیا تو ایک روبوٹ نے اس کا آکسیجن ماسک اتار دیا اور پھر دونوں روبوٹ دوسرے دروازے سے باہر نکل گئے۔ وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ ایک چیز جو اس دوران اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھا رکھی تھی۔ جو سیاہ کپڑے سے ڈھانپ دی گئی تھی۔ ٹیبل پر رکھ دی اور خود کرسی پر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ خود کو مخاطب کر کے کہنے لگا:
”میں ایک مجرم ہوں۔ آسائشوں کی جستجو میں دنیا کو جہنم بنانے والا مجرم۔ ہاں مگر اب جبکہ میری موت قریب دکھائی دے رہی ہے، مجھے اپنے جرم پر پچھتاوا ضرور ہو رہا ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے مشینوں کی دنیا تخلیق کی ہے۔ مشین شعور نہیں رکھتی۔ مشین سوچتی نہیں ہے۔ مشین کچھ محسوس نہیں کرتی۔ مشین زندگی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اس کی تمام حرکات میکانکی ہوتی ہیں۔
مشین بارش کی پیشگوئی تو کر سکتی ہے مگر بارش کے بعد مٹی کی خوشبو سونگھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پچھلی موسم کو رخصت کرنے کا دکھ اور نئے آنے والے موسم کا اندیشہ نہیں سمجھتی۔ وہ دیوہیکل سمندری جہاز چلا سکتی ہے مگر ایک چھوٹی سی ندی میں کاغذ کی کشتی کے پیچھے دوڑنے کا مزہ نہیں چکھ سکتی۔ سمندر کی تاریک گہرائیوں میں چھپے رازوں کا سراغ لگا سکتی ہے مگر دریا میں تیرنے کے بعد درخت سے ٹیک لگانے کا سکھ نہیں پا سکتی۔
مشین اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کو تو دیکھ لیتی ہے۔ مگر پُرسکون چاندنی رات کی خاموشی کا لطف نہیں اٹھا سکتی۔ مریخ پر چہل قدمی کر سکتی ہے۔ مگر بے خوابی کے عالم میں ستاروں کے جھرمٹ دیکھ کر ان میں نقشے نہیں بنا سکتی۔
مشین آسمان کو چھوتی عمارتیں کھڑی کر دیتی ہے۔ مگر زمین پر پائی جانے والی تنہائی کا درد نہیں سہ سکتی۔ کسی سے ملنے کی راحت، کسی سے بچھڑنے کی اذیت، تیز دھڑکن کی آزمائش، گرم سانسوں کی تپش، معصوم مسکراہٹ کی مسرت جیسے تجربات سے نہیں گزر سکتی۔
مشین بھائی چارگی کے خیال سے ناواقف ہوتی ہے۔ دہائیوں سے ایک ساتھ کام کرنے والی مشینوں میں سے اگر کوئی ایک خراب ہو جائے تو باقیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی تیمارداری کرنے نہیں آتی، کوئی دلاسا دے کر نہیں پوچھتی کہ بھئی ہمیں بھی بتاؤ کیا پریشانی ہے؟ کیوں تمہیں اندر ہی اندر سے زنگ کھائے جا رہا ہے؟ مستقبل میں اس طرح کی خرابی روکنے کے لیے اس کی وجوہات پر کوئی تبادلۂ خیال نہیں ہوتا۔ ساتھیوں کی ہمدردی تو دور کی بات، ایک مشین کے اپنے ہی سارے پرزے ایک دوسرے سے بیگانہ ہوتے ہیں۔
مشین قربانی اور ایثار کے جذبے سے خالی ہوتی ہے۔ وہ بے شمار سولیوں کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے۔ مگر کسی بڑے مقصد کی خاطر سولی پر کبھی نہیں چڑھ سکتی۔
مشین کو کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا۔ امیدوں سے بھرپور بستیوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا، خوابوں کے چند حقیر اثاثوں کو ریزہ ریزہ کرنے کا، خوشی کے آنسوؤں میں خون کی ملاوٹ کرنے کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ زندگی سے حاملہ زندگی کو موت کے کنویں میں دھکیلنے کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ سبزہ زاروں میں نویدِ صبح لانے والی ٹھنڈی نرم ہواؤں پر آگ کے شعلے برسانے کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ ہاں! مجھے پچھتاوا ہوتا ہے۔ جب کھلونوں سے کھیلنے والے ہاتھوں کو بے جان کرنے کے بعد سفاک مشین کو کھیل کود میں مشغول پاؤں اپاہج کرنے لیے بڑھتا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے پچھتاوا ہوتا ہے کہ کاش! کاش مشین کی سسٹم میں پچھتاوے کی کوئی کوڈنگ بھی کر لیتا! مگر نہیں، یہ میں نہیں کر سکا اور اسی لیے مشین کو کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا۔ اس پر دل چیرتی ہوئی چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
مشین خوابوں کی لا محدود دنیا میں سفر نہیں کر سکتی۔ حدّ نظر تک پھیلی ہوئی ممکنات کی صحراؤں میں دوڑ نہیں لگا سکتی۔ سب کچھ جو ہو سکتا تھا۔ مگر نہیں ہو پایا، سب کچھ جو ہو سکتا ہے مگر نہیں ہو پا رہا کے بارے میں مغز ماری نہیں کر سکتی۔
مشین بس کام کرنا جانتی ہے۔ روح میں اتر جانے والی موسیقی کے سُر، رگوں میں سرایت کرنے والے کسی تصویر کے رنگ، دماغ کو جکڑ دینے والی کسی فن پارے کی باریک نقاشی اس کو بے چین نہیں کرتی، کسی انجان احساس کو بیدار کرنے کا باعث نہیں بنتی۔ یہ جمع، تقسیم میں ذرہ برابر غلطی نہیں کرتی مگر کچھ حساب کتاب ایسے بھی ہیں جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم کہاں سے آئے تھے، کہاں کو جانا ہے، نیکی اور بدی کا تصور کیا ہے، دن رات مسلسل مگن رہنے میں ہمارا مقصد کیا ہے، ہمارے وجود کے معنی کیا ہیں؟ مشین کو ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں۔
مجھ سے مشینوں کی دنیا تخلیق کرنے کا جرم سرزد ہوا ہے۔ مگر یہ شعوری جرم نہیں تھا۔ میرے ارادے تو بالکل نیک تھے۔ میرے ذہن میں جنم لینے والی مشین تو آزادی کا پیغام تھا، محرومی اور لا چاری سے پاک ایک نئی دنیا کا معمار، جو صبحِ نو کا نعرہ بلند کرنے آیا تھا۔ کسے پتہ تھا کہ جنّتِ ارضی کا اعلان کرنے والی مشین دنیا کو جہنم کا عکس بنا دے گی!
آج وہی مشینیں مجھے بھی ختم کرنے کا فیصلہ صادر کرنے والی ہیں جن کا وجود میں آنا میرے ہی تصور سے ممکن ہوا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف میں کہیں پر بھی اپیل نہیں کر سکتا، اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ کیونکہ مشین کو بحث اور دلائل سننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ مجھے کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کے پروگرامنگ میں کوئی نقص آیا ہو اور میرا سانس لینے سے ان پر برا اثر پڑ رہا ہو۔ شاید میں واقعی زمین پر بوجھ بن گیا ہوں اور اپنے ہی بوجھ تلے دب رہا ہوں۔ شاید یہ دنیا اب مشینوں کی ملکیت بن کر رہ گئی ہے، اور کچھ نہیں۔ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب ڈسٹوپیا کو مستقبل بعید کا خطرہ مانا جاتا تھا۔ بعض تو اسے محض ایک افسانہ خیال کرتے تھے۔ مگر آج کی دنیا پوری طرح اس کی لپیٹ میں ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے گزر چکی ہے۔
نہیں معلوم مجھے مار دینے کے بعد مزید کس جانب پیشرفت ہوگی؟ مشین کو صاف ہوا درکار نہیں ہوتی۔ وہ زہریلی فضا میں بھی آپریٹ کر سکتی ہے۔ ”
کمرے کی چھت بیچ میں سے متضاد سمتوں کی جانب کھلنے لگی۔ اس کے لیے سانس لینا محال ہوتا چلا گیا۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور ٹیبل پر پڑی چیز سے سیاہ کپڑا اڑ گیا۔ یہ شیشے کے کور میں بند ایک گملا تھا جس میں گلاب کے پھول لگے ہوئے تھے۔ اس کی سانسیں رکنے لگیں۔ اس نے پھولوں کی طرف دیکھا اور بمشکل بس یہی زیرِ لب کہہ پایا:
”سرخ گلاب۔ ۔ ۔ بھی مشین کے لیے۔ ۔ ۔ کوئی کشش نہیں رکھتے۔“


