ملک میں تعلیمی اسکالر شپس کا فقدان اور رفاہی ادارے

تعلیم دنیا میں قوموں کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے جن قوموں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنا شعار بنایا وہی اقوام عالم میں نمایاں ہوئیں۔ پاکستان کا شمار دنیاکے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی تاحال کم ہے۔ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی شرح…

Read more

شدید سردی میں ٹھٹھرتی زندگیاں۔ ہماری توجہ کی منتظر

روئے زمین پر زندگی کے وجود کو قائم رکھنے اور اس کی نشوونما کے لئے مختلف موسموں کا ایک مربوط اور منظم نظام بھی خدا تعالے ٰ کی اپنی مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس کائنات میں بسنے والا ہر ذی روح ان ماحولیاتی اثرات کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ موسموں کے نظام میں تغیر کے موجودہ حالات کے باعث مختلف امراض کے جنم لینے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنی خوراک، لباس اور دیگر معمولات زندگی کواس تبدیلی کی مناسبت سے ڈھالا جاتا ہے۔

کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ موسم آپ کے لئے رحمت سے زحمت بن سکتا ہے۔ پاکستان شدید موسموں والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہار اور خزاں کا موسم مختصر سہی لیکن طویل موسم گرما اورپھر صبر آزما جاڑا۔ پہاڑی علاقے مہینوں برف سے ڈھکے رہتے ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند کا راج رہتا ہے۔ موسم کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے لوگ گرم کپڑوں، خشک میوہ جات اور ایندھن کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ لیکن انھی حالات میں ایک کثیر تعدادایسے نفوس کی بھی ہے جن کے لئے موسم سرما کی آمد کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتی۔

ان کی اکثریت یا توکھلے آسمان تلے سڑکوں پر یاپھر کپڑے کے جھونپڑوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ایسے میں بارش کی آمد ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ سردی ہر کسی پر اپنا اثر چھوڑتی ہے لیکن بچے اور بزرگ افراد کم قوت مدافعت کے باعث موسم کی شدت کا زیادہ شکا ر ہوتے ہیں۔ ’جان ہاپکنز یونیورسٹی‘ اور غیر سرکاری تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگلی دہائی کے آخر تک دنیا بھر میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ بچے نمونیا کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں۔

Read more