ملک میں تعلیمی اسکالر شپس کا فقدان اور رفاہی ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم دنیا میں قوموں کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے جن قوموں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنا شعار بنایا وہی اقوام عالم میں نمایاں ہوئیں۔ پاکستان کا شمار دنیاکے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی تاحال کم ہے۔ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی 60 فیصد ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق خواندگی کے لحاظ سے دنیابھر میں پاکستان 141 ویں نمبر پر ہے۔ اس شعبہ میں بہتری لانے کے حوالے سے مختلف ادوار میں حکومتی سطح پرکئی پروگرامز بھی متعارف کروائے جاتے رہے ہیں، لیکن ابھی تک خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔

پاکستان میں ایسے طالبعلموں کی کمی نہیں جو ذہین اور باصلاحیت ہونے کے باوجودمالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ بہت سے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور قوم مستقبل کے کئی ڈاکٹرز، انجینئرز اور پروفیشنلز سے محروم ہو جاتی ہے۔ وطن عزیز کے ہر صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے گوہر نایاب موجود ہیں جو کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں نہایت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود تعلیم کو خیر آباد کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ الفلاح اسکالر شپ اسکیم ایسے ہی ہونہار نوجوانوں کے لئے امید کی ایک کرن ہے۔

الفلاح سکالرشپ سکیم چیئرمین مجید احمد چوہدری کی زیرِ نگرانی گذشتہ دو دہائیوں سے مالی دشواریوں کے شکار ہزاروں ذہین طلبہ و طالبات کو حصول تعلیم میں مدد دے چکی ہے۔ چند سنجیدہ علم دوست اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشارشخصیات نے ایک مثبت اور تعمیری سوچ کے تحت 1998 ء میں کھاریاں ضلع گجرات سے اس مشن کا آغاز کیا۔ جس کا دائرہ آج کار ملک کے کونے کونے تک پھیل چکا ہے۔ اس وقت ملک کے تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 661 ہونہار اور مستحق طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بلاتفریق رنگ و نسل، مذہب و ذات سے بالاتر ہوکر تعلیمی وظائف کی فراہمی کے ذریعے اُن کے ادھورے خوابوں میں رنگ بھرے جا رہے ہیں۔

اب تک میڈیکل اور انجینئرنگ سمیت دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 3872 ذہین اور ہونہار طلبہ و طالبات کووظائف فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ہرسال تعلیمی وطائف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اپنے کیریئر کے انتخاب کے حوالے سے راہنمائی کے لئے مینٹرنگ، کوچنگ اور کیر ئیر کونسلنگ سیمینار کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

الفلاح سکالر شپ سکیم کے تحت ہر سال سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں طلبہ و طالبات سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوتے ہیں۔ یہ کنونشن جہاں ایک طرف ان طلبہ کو حوصلہ دینے اور ان کو نئی منزلوں کے خواب دکھانے کے لئے رکھا جاتا ہے وہیں اہل ثروت افراد کو پاکستان کے ہونہار مگر مالی مشکلات سے دوچار طلبا و طالبات کو سپانسر کرنے کے لئے توجہ دلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔

وطن عزیز کے ہونہار نوجوانوں کے خوابوں کو حسین تعبیر سے ہمکنا ر کرنے کے اس مشن میں الفلاح سکالر شپ سکیم کو چند دیگر معاون رفاہی اداروں کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔ جن میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان، الفلاح ناروے، کاروان علم فاؤنڈیشن امریکہ، ہیلپنگ ہینڈ امریکہ اور اکنا ریلیف کینیڈا جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر محمد عبدالشکور نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے ہر سال ہزاروں ذہین طلبہ و طالبات وسائل نہ ہونے کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

الخدمت فاؤنڈیشن، الفلاح کا وہ معاون ادارہ ہے جو اس تنظیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ الفلاح کے پیغام کو پاکستان بھر میں پہنچانے کے لئے الخدمت کے ذمہ داران ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ الخدمت نہ صرف یہ کہ اسکالر شپ کے امیدوار طلبہ و طالبات کی گھر گھر جاکر جانچ پڑتال کا ہتمام کرتی ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مسلسل رابطہ کرکے الفلاح کے لئے سپانرز اور ڈونرز کا بھی بندوبست کرتی ہے۔ الفلاح سکالر شپ سکیم طلبہ وطالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے رنگ، نسل، قوم، مذہب اور ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر تعلیمی وظائف فراہم کر رہی ہے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سابقہ سکالرز الفلاح کے نمائندوں کی حیثیت سے اپنے اپنے شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار مل جانے پر الفلاح کے لئے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کسی بھی ذہین طا لب علم کے خوابوں کو پورا کرنا اُس خاندان ہی نہیں ملک و قوم کی خدمت ہے۔ ا سکالر شپ حاصل کرنے طلبہ و طالبات نے الفلاح اسکالر شپ سکیم کا شکریہ ادا کیا جن کی بدولت اُنہیں اپنے خواب پورا کرنے کا موقع ملا۔

الفلاح سکالرز کی کہانیاں دلچسپ بھی ہیں اور حوصلہ افزا بھی۔ ڈاکٹر سید ظفر حسین جن کا تعلق صوابی سے ہے اور آج کل راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے والد پیشہ کے لحاظ کسان تھے۔ خاندان 14 افراد پر مشتمل تھا۔ انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعدڈاکٹر بننے کا خواب انھیں خیبر میڈیکل کالج پشاور تک لے گیا۔ لیکن خراب گھریلو مالی حالات کے باعث تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ اس موقع پر الفلاح سکالر شپ سکیم ان کا سہارا بنی اور تعلیمی مالی معاونت کا آغاز کیا۔

یہ سلسلہ ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل ہونے تک جاری رہا۔ فائزہ امجد کا تعلق گجرات کے گاؤں عمر وال سے ہے جو کہ آج کل محکمہ تعلیم میں بطور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی کفالت کرنے میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ تنگ دستی اور مالی دشواریاں ان کی تعلیم کی راہ کی بڑی رکاوٹ تھیں لیکن الفلاح نے سکالر شپ جاری کرکے ن کاہاتھ تھاما۔ آٹھویں جماعت سے لے کر یونیورسٹی آف گجرات سے بی ایس آنرزکی ڈگری حاصل کرنے تک الفلاح نے ان کی معاونت کی۔ ڈاکٹر اکرام اللہ جو کہ راولپنڈی کے ایک مقامی ہسپتال میں بطور ڈینٹل سرجن خدمات سرانجام دے رہے ہیں، انھوں نے ایف ایس سی کرنے کے بعد بولان میڈیکل کالج میں داخلہ لیا لیکن مالی مسائل روشن مستقبل کی راہ میں حائل تھے۔ الفلاح اسکالر شپ کی مدد سے انھوں نے باآسانی بی ڈی ایس کی ڈگری مکمل کی۔

اس کے علاوہ اپنے نصب العین کے مطابق الفلاح سکالر شپ سکیم اپنے غیر مسلم پاکستانی بھائیوں کے ساتھ بھی مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اپنے غیر مسلم بھائیوں کو الفلاح کی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے اور انہیں بچوں کی تعلیم کی جانب مائل کرنے کے لئے کنونشن منعقد کیا جاتا ہے جس میں غیر مسلم گروپ سے تعلق رکھنے والے سکالرز، ان کے والدین، سابقہ سکالرز اورمختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کومدعو کیا جاتا ہے۔

پاکستان کو قدرت نے جہاں جنت نظیر سر سبز وادیوں، بلند و بالا برفیلے پہاڑ و ں، سونا اگلتے کھلیانوں، نیلے سبز گہرے سمندر وں اور سنہرے چمکتے صحراؤں سے نوازا ہے وہیں یہاں کے باسیوں کو زرخیز ذہن بھی عطا کیے ہیں، بس ضرورت صرف توجہ اور آبیاری کی ہے۔ یہ ذمہ داری الفلاح سکالر شپ سکیم نے اللہ کے بھروسے اور مخیر نیک دل بھائیوں کے تعاون سے خود قبول کی ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اگر وطن عزیز کی تعمیر و ترقی ہمارا ہدف ہے تو ہمیں غیروں کی جانب دیکھنے کی بجائے اللہ کی توفیق اور اپنے ذورِ بازو پر بھروسا کرنا ہوگا۔

کوئی مہر تاباں سے جاکے کہہ دے کہ اپنی کرنوں کو گِن کے رکھے

ہم اپنے صحرا کے ذرے ذرے کوخود چمکنا سکھا رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •