”تذکار رفتگاں“ اھل علم کے لیے ایک علمی سوغات

اسوقت مولا نازاہد الراشدی صاحب کی تازہ تصنیف ”تذکار رفتگاں“ ہمارے سامنے ہے، کتاب کیا ہے پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس پائے کی کتاب ہے اور اس میں کتنا قیمتی تاریخی علمی مواد موجود ہے، یہ کتا ب تقریباً نصف صدی سے زائد کے اکابر علماء، زعماء، مشائخ، قائدین، سربراہان مملکت اور قومی وبین الاقوامی شخصیات کے حالات زندگی کا احاطہ کرتی ہے، کتاب میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوجانے والے اکابر اھل علم کی وفات پر ہلکے پھلکے انداز میں مولانا نے اپنے قلبی تاثرات وجذبات کا اظہار پیش کیا ہے، مولانا کو اللہ رب العزت نے گوناں گوں کئی صفات وکمالات سے نوازا ہے، علم وعمل، درس و تدریس، تقریر وتحریر، خطابت وصحافت، فقہ واجتہاد، تواضع وانکساری، جیسی صفات سے مالا مال فرمایا ہے،

Read more

فروری دو عظیم شخصیات کا یوم وفات 22

22 فرورى ہر سال آتا ہے اور ہمیں دو عظیم انقلابى شخصیات کى یاد دلا جاتا ہے، ان دونوں شخصیات کا زمانہ اگرچہ الگ الگ ہے لیکن ان میں بہت سی فکری مماثلتیں موجود ہیں، پہلى شخصیت برصغیر کے نامور انقلابی لیڈر، تحریک آزادى کے علمبر دار، اما م الہند حضرت مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کى ہے۔

مولانا آزاد کا شمار برصغیر کى ممتاز دینى، مذہبى، علمى اور سیاسى شخصیات میں ہوتا ہے، وہ غیر معمولى ذہن اور دماغ کے مالک تھے، ملت اسلامیہ کے بڑے قابل قدر اور نابغہ روز گار شخصیت تھے، اپنے علم وعمل، اخلاق واطوار، وضع و تہذیب اور سیرت و کردار کے اعتبار سے بلند مقام پر فائز تھے، وہ ایک عظیم اور قومى لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور دیکھتے ہى دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے، اللہ تعالى نے مولانا کو وسیع فکر ونظر اوربے پناہ سیاسى شعور سے نوازا تھا جس کى بنا پر انہوں نے مسلمانان برصغیر کے دلوں میں عظیم انقلابی روح پھونک دى اور یوں خواب غفلت میں سوئى ہوئى قوم کو بیدار کر دیا۔

Read more