کشمیر کمیٹیوں کی کارکردگی

رہ رہ کر آج کل عالی جاہ، با اخلاق۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان صاحب کے ملفوظات رذیلہ ستا رہے ہیں، یوں سمجھ لیجیے کہ رات کا سکون, دل کا چین ہی کہیں رفو چکر ہو گیا۔ پتا نہیں کیوں مجھے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال بار بار یاد آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شجرہ نصب بھی جنت نظیر کشمیر سے تھا اور تین شادیاں کیں اور وہ بھی تینوں کشمیری گھرانوں سے۔ اس کے لئے ڈاکٹر جاوید اقبال کی تصنیف ”زندہ رود“ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید وقت فرصت علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال ہی وزیر موصوف تک یہ کتابی نسخہ پہنچا دیں کہ ان میں بھی کشمیری خون ہی گردش کر رہا ہے۔ لیکن خدا جانے وزیر صاحب کو مطالعے کا بھی شوق ہے یا نہیں؟ فی الحال انداز تکلم سے لگتا تو نہیں ہے۔ ! اگر خواجہ آصف کے الفاظ مستعار لو تو کہوں

Read more