کشمیر کمیٹیوں کی کارکردگی


رہ رہ کر آج کل عالی جاہ، با اخلاق۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان صاحب کے ملفوظات رذیلہ ستا رہے ہیں، یوں سمجھ لیجیے کہ رات کا سکون, دل کا چین ہی کہیں رفو چکر ہو گیا۔ پتا نہیں کیوں مجھے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال بار بار یاد آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شجرہ نصب بھی جنت نظیر کشمیر سے تھا اور تین شادیاں کیں اور وہ بھی تینوں کشمیری گھرانوں سے۔ اس کے لئے ڈاکٹر جاوید اقبال کی تصنیف ”زندہ رود“ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید وقت فرصت علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال ہی وزیر موصوف تک یہ کتابی نسخہ پہنچا دیں کہ ان میں بھی کشمیری خون ہی گردش کر رہا ہے۔ لیکن خدا جانے وزیر صاحب کو مطالعے کا بھی شوق ہے یا نہیں؟ فی الحال انداز تکلم سے لگتا تو نہیں ہے۔ ! اگر خواجہ آصف کے الفاظ مستعار لو تو کہوں

”کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے“۔

خیر بات چل ہی نکلی ہے تو بتاتا چلوں کہ سب سے پہلے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام سے 25 جولائی 1931 ء کو بننے والی تنظیم کے روح رواں بھی ڈاکٹر علامہ اقبال ہی تھے، مہاراجہ کے ظلم و ستم کے خلاف اسی تنظیم کی وجہ سے 14 اگست 1931 ء کے دن کو انڈیا اور برما میں کشمیر ڈے کے طور پر منایا گیا اور حسن اتفاق کہ یہی چودہ اگست بعد میں آزادی پاکستان کی تاریخ بھی قرار پائی۔ علامہ کے پیشرو تنظیم کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد تھے، جو کہ احمدی تھے اور جب کشمیری مسلمانوں کی حمایت کے نام پر احمدیوں کے مزعومہ مقاصد مجلس احرار نے بے نقاب کیے تو علامہ 1932ء میں تنظیم سے دست کش ہو گئے۔

بٹوارے کے بعد چوہدری غلام عباس، مولانا مودودی، نواب زادہ نصر اللہ خان اور اس وقت کے وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی سربراہی میں ایک اور کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ پھر نواز شریف کے پہلے دور حکومت ( 1990 ء سے 1993 ء) میں کشمیر نیشنل کانفرنس تشکیل دی گئی اور وزیر خارجہ نواب زادہ محمد یعقوب خان کو چیئرمین اور وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم کو ڈپٹی چیئرمین بنایا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں نوجوانوں نے اپنے تازہ خون سے تحریک آزادی کشمیر کو پر لگا دیے تھے۔

پھر بے نظیر کے دور ( 1993 ء تا 1996 ء) پارلیمانی کشمیر کمیٹی بنا کر اس کی مہار نواب زادہ نصر اللہ خان کو سپرد کر کے حریف سے حلیف تک کا سفر راتوں رات طے کیا گیا اور اس کے کل 24 ( 21 MNAs اور 3 senator) ممبران رکھے گئے۔ پھر 1997 ء سے 1999 ء تک نواز شریف نے 26 MANs پر مشتمل کشمیر کاز کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی اور چئیرمین شپ چوہدری محمد سرور خان مرحوم کے کھاتے میں آئی۔

2004 ء کو پرویز مشرف نے چوہدری حامد ناصر چھٹہ کی سرکردگی میں 49 ممبران پر مشتمل کشمیر کمیٹی تشکیل دی جو نومبر 2007 ء تک جانبر رہی اور مزے کی بات یہ کہ اس کمیٹی کے ممبران میں 14 وزراء بھی شامل تھے۔ پھر دور آیا ”اعلی حضرت“ آصف علی زرداری اور ”شہنشاہ دوراں“ نواز شریف صاحب کا۔ لہذا 2008 ء سے 2018 ء تک مولانا فضل الرحمان بلا شرکت غیرے کشمیر کمیٹی کے چئیرمین قرار پائے اور ہر جگہ، ہر گلی، ہر کوچہ اور یہاں تک کہ ہر عالمی فورم پر جہاں تک حضرت کی دسترس تھی اور دستیاب 8 کروڑ فنڈ اور حکومتی سرپرستی میں جہاں جہاں دسترس ممکن ہوئی، اپنا قومی، ملی اور دینی فریضہ سمجھ کر اس کام کو بحسن و خوبی نبھایا اور انہی دنوں میڈیا کی بھی زینت بنے اس لئے کہ (اللہ ان سے کسی چیز کی پوچھ نہ کرے) نتیجہ بالکل صفر تھا۔ آخری دنوں اس کار خیر میں جو کچھ کمی بیشی رہ گئی تھی اس کا کفارہ کشمیر پر ظلم و ستم پر صحافی کے جواب میں یہ کہہ کر عنایت کیا کہ ”تو کیا حملہ کر دوں“۔ اگر جناب کی ”طبیعت ملائمہ“ پر گراں نہ گزرے تو عرض کروں

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

قارئین کرام آپ ذرا غورو فکر کریں تو آپ کو ان گذشتہ ادوار میں ایک قدر مشترک ضرور نظر آئے گی۔ حکمرانوں نے بیشتر کشمیر کمیٹی کی چئیرمین شپ اپنے سیاسی حلیفوں کو کشمیریوں کے وسیع تر مفادات میں رشوت کے طور پر دیے رکھی۔ ایسے ایسے لوگوں کو لگایا گیا جو انڈیا کے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا کرتے؟ عالمی فورم پر کشمیریوں کی وکالت تو کجا، کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور اصولی حمایت ایک طرف، یہاں تو ”یاران جہاں“ کشمیر ایشو، اس کے جغرافیہ، تاریخ اور مسائل سے پوری طرح نابلد تھے۔

کشمیر کمیٹی کا ایک کام حکومت کو کشمیر کی بابت سفارشات مرتب کر کے بھی دینا تھا مگر اس کی شاید کبھی ”امید ناز“ ہی نہ رکھی گئی اس لئے کہ پارلیمانی نظام (جو یہاں ہے ) میں اراکین حد سے زیادہ قابل ہوتے ہیں اور خیر سے مالدار بھی، بس جو ایک دفعہ اس پارلیمانی بہشت میں ”سیاسی چلہ“ کاٹ کر غوطہ زن ہو جائے۔ لے دے کر ہر بار 5 فروری کو تصویری نمائش اور رٹی رٹائی تقریریں، کچھ خاص قومی اور بین الاقوامی دنوں پر زبانی مذمت اور کشمیر میں بہنے والے خون پر ”مگر مچھ“ کے آنسو!

اور کشمیر کے نام پر کشمیر کمیٹی کا کام صرف شہ خرچیاں کرنے پر اور بیرون ملک (اگر موقع میسر آئے تو) کچھ سیر سپاٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اراکین اسمبلی کے اجتماعی رویے سے یوں لگتا ہے جیسے نہ تو یہ کشمیر بارے کچھ بولنا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ کشمیری قیادت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ شاید یہی عادت آزاد کشمیر اسمبلی ممبران کو بھی دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے جو میرے خیال میں اس صورتحال میں اپنے سیاسی آقاوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ گویا اقتدار کی ہوس میں یوں کہہ رہے ہوں

ہم ان کے در پر نہ جاتے تو اور کیا کرتے

انہیں خدا نہ بناتے تو اور کیا کرتے

مشرف نے پارلیمنٹ کی غیر موجودگی میں قومی کشمیر کمیٹی کا سربراہ مجاہد اول سردار عبد القیوم صاحب کو بنایا تھا اور انہوں نے کشمیر ایشو کو عالمی دنیا کے سامنے بڑے احسن انداز میں اٹھایا تھا اور دنیا نے اپنی توجہ بھی اس طرف مبذول کی تھی۔ اب بھی عمران خان صاحب کشمیری رہنماؤں کو نمائندگی کا موقع دیں تو میرے خیال میں یہ کشمیر کاز کے لئے بہترین ہے۔ اس سے کشمیر کاز میں نئی جان آئے گی اور ساتھ ہی کشمیری قیادت کو اپنا درد خود، اپنے درد دل کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھنے کا موقع ملے گا۔

اب کی بار تحریک انصاف نے روایت توڑتے ہوئے اپنے ہی جماعت کے ایک رکن فخر عالم کو چئیرمین بنایا ہے، جس کا سنجیدہ حلقوں کی طرف سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ مگر دوسری طرف ایک ایسے آدمی کو وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان لگایا ہے جس نے حال ہی میں نجی چینل پر بیٹھ کر فوجی تحویل میں انڈین جاسوس کلبوشن یادیو کو رہا کروا دیا ہے اور اس کا سہرا بھی نواز شریف کے سر باندھا ہے۔ شاید وزیر موصوف آج کل وزارت کی مصروفیت کی وجہ سے زیادہ شہد پیتے ہوں۔ آپ بھی سمجھا کریں نا آدمی آخر تھک بھی تو جاتا ہے! ۔

آخر میں عرض کروں گا کہ کشمیری نوجوانوں کی پانچویں پیڑھی ابھی قربانیاں دے رہی ہے اور اپنے شہیدوں کو پاکستانی پرچموں میں دفنا رہے ہیں اور اب جہاد کشمیری مکمل طور پر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ مبادا کہیں دیر نہ ہو جائے کہ پھر پچھتانا پڑے کیونکہ اب بہت ساری آوازیں خودمختاری کی بھی اٹھ رہی ہیں۔

Facebook Comments HS