حج اور قربانی کا موسم اور اس کے مخالف دانشور
”دانشوروں“ کے بلوں سے نکلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے ہمارے ہاں جب بھی حج اور قربانی کا موسم آتا ہے تو نہ جانے کہاں سے اچانک بہت سارے ”دانشور“ رو نما ہوتے ہیں۔ اور ان کو اچانک غریبوں کا ”درد“ ستانے لگتا ہے۔ وہ سب ملت کی ”خیر خواہی“ کے جذبہ سے لب ریز ہوتے ہیں اور بڑی کوشش کے ساتھ ”بھٹکی“ ہوئی امت کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ قربانی اور حج جیسی عبادات پہ پیسے ”ضائع“ کرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ یہ پیسے کسی غریب کے منہ کا نوالہ بن جائیں۔
Read more

