حج اور قربانی کا موسم اور اس کے مخالف دانشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ”دانشوروں“ کے بلوں سے نکلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے ہمارے ہاں جب بھی حج اور قربانی کا موسم آتا ہے تو نہ جانے کہاں سے اچانک بہت سارے ”دانشور“ رو نما ہوتے ہیں۔ اور ان کو اچانک غریبوں کا ”درد“ ستانے لگتا ہے۔ وہ سب ملت کی ”خیر خواہی“ کے جذبہ سے لب ریز ہوتے ہیں اور بڑی کوشش کے ساتھ ”بھٹکی“ ہوئی امت کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ قربانی اور حج جیسی عبادات پہ پیسے ”ضائع“ کرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ یہ پیسے کسی غریب کے منہ کا نوالہ بن جائیں۔

وہ آپ کو بڑے اعداد و شمار کے ساتھ یہ بات سمجھائیں گے کہ ملک میں کتنے فی صد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ تھر میں لوگ پیاس کی شدت سے بے حال ہوئے جا رہے ہیں۔ اور ادھر لوگ قربانی اور حج پر بے دریغ پیسہ صرف کیے جا رہے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ لوگ کبھی یہ بات کہتے ہوئے نہیں سنائی دیں گے کہ کیونکہ ملک میں بہت سارے لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں اس لیے جب تک سب کو تین وقت کا کھانا میسر نہ آ جائے اس وقت تک بڑے بڑے فوڈ چینز اور فائیو سٹار ہوٹلوں پر پابندی لگا دینی چاہیے یا ان میں جانا ترک کر دینا چاہیے۔

اسی طرح فاسٹ فوڈ کی عیاشی ترک کر دینی چاہیے اور انہی پیسوں سے غریبوں کو رات کا کھانا فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کبھی آپ کو یہ سننے کو نہیں ملے گا کہ کپڑے کے مہنگے مہنگے برینڈز بند کر دینے چاہیں اور سب لوگ سادہ اور سستے کپڑے استعمال کریں اور انہی پیسوں کے ساتھ تھر کے بچوں کی پیاس بجھا دینی چاہیے۔ کبھی آپ کو کوئی یہ کہتا ہوا نہیں ملے گا کہ جب تک پاکستان میں لوگوں کی صحت کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اس وقت تک مہنگی گاڑیوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیے کیونکہ سفر تو بہرحال چھوٹی گاڑی یا موٹر سائیکل پہ بھی ہو جاتا ہے۔

حالانکہ قربانی کا ان مہنگے ہوٹلوں، گاڑیوں اور کپڑے کے برانڈز کے مقابلے میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ان میں سے اکثر اشیا ہمیں اپنا زر مبادلہ صرف کر کے حاصل کرنی پڑتی ہیں جس کے ہماری معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جب کہ قربانی تو ساری کی ساری ساری ہماری مقامی چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کوئی شخص یہ کہے کہ جب تک پاکستان سے غربت ختم نہیں ہوتی ہمیں پارکوں کی تعمیر پہ کروڑوں کا بجٹ صرف نہیں کرنا چاہیے تو بہت جلد ہم اس کو پارکوں اور تفریحی مقامات کے نفسیاتی اور جسمانی فوائد گنوانا شروع کر دیں گے لیکن قربانی کے اسی طرح کے فوائد کو جو کہ معاشی بھی ہیں، معاشرتی بھی ہیں، نفسیاتی اور روحانی بھی ہیں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اگر کوئی یہ بات کہے کہ جب تک پاکستان میں سب لوگوں کو کھانا میسر نہیں آتا حکو مت کو چودہ اگست کی تقریبات پر پابندی لگا دینی چاہیے اور ان کا خرچہ غریبوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تو فوری طور پہ ہمیں یاد آئے گا کہ اس کی جذبہ حب الوطنی کے لیے کتنی ضرورت ہے لیکن مسلمانوں کی مذہبی، ملی اور روحانی ضرورت کے لئے جو قربانی اور حج کیے جاتے ہیں وہ فضول خرچی نظر آتے ہیں۔ حالانکہ قربانی اور حج لوگوں کی ذاتی رقم سے ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی رقم سے ہوتے ہیں جو خود اس کے لئے تیار ہوتے ہیں جبکہ پارکوں کی تعمیر اور 14 اگست کی تقریبات تو عوام کے ٹیکس سے ہوتی ہیں اور اس میں ان لوگوں کا پیسہ بھی شامل ہوتا ہے جو شاید ان کو فائدہ مند ہی نہیں سمجھتے لیکن پھر بھی ہم ان پر اپنا بجٹ صرف کرتے ہیں اور یہ کرتے وقت ہمیں کبھی غربت کا درد محسوس نہیں ہوا۔

بات بڑی واضح ہے کہ اصل میں غریبوں کا درد نہیں ہے۔ قوم کی فکر نہیں ہے بلکہ دلوں میں چھپی ایک مذہب دشمنی ہے اور لوگوں کو اسلامی شعائر سے دور کرنے کی ایک خواہش ہے جس کے لیے غلط تاویلات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک اور زاویے سے بات کو دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قربانی کی جگہ غریبوں کی مدد کر دی جائے بھائی ان دانشوروں کو یہ نظر نہیں آتا کہ قربانی سے کتنے غریبوں کی مدد ہوتی ہے۔ جو لوگ جانور پالتے ہیں ان میں سے اکثر سرمایہ دار نہیں ہوتے وہ بیچارے غریب ہی ہوتے ہیں۔

اور ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے یہ قربانی۔ پاکستان میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں پر اس جانور پالنے کے علاوہ دوسرے ذرائع معاش اختیار کرنا مشکل ہے ان کی تو سال بھر کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بنتی ہے یہ قربانی۔ جو لوگ اپنی گاڑیوں میں جانوروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا کام کرتے ہیں اس سے کتنے غریبوں کو روزگار میسر آتا ہے۔ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سال بھر کی بہت ساری ضروریات اس بات کے لیے رکھ چھوڑی ہوتی ہیں کہ جب وہ وہ قربانی کے موسم میں جانوروں کا چارہ فروخت کریں گے تو اپنی ضروریات پوری کر لیں گے۔

ہمارے ان کرم فرماؤں کو شاید یہ پتہ نہیں کہ پاکستان میں ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو صرف اور صرف بڑی عید پر جانوروں کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ یعنی قربانی تو جانور کے پلنے سے لے کر چمڑے سے جوتا تیار ہو جانے تک غریبوں کی ہی مدد ہے اور روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ اس سے جو معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں، آپس میں محبت بڑھتی ہے، گوشت کی تقسیم سے سے غرباء اور مساکین سے تعارف ہوتا ہے، ان کے دکھ درد کا احساس ہوتا ہے۔

اور پھر روحانی اخلاقی اور اخروی فوائد الگ ہیں۔ چند سال پہلے برطانیہ کی ایک مذہبی تنظیم کے سربراہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ ہم نے اس سال ایک ذبح خانہ کرائے پر حاصل کیا اور وہاں پر خود قربانیاں کیں۔ اس سے پہلے وہ قربانی کے پیسے دوسرے ممالک میں بھیج کر اس فریضہ کو سرانجام دیا کرتے تھے۔ لیکن اس دفعہ جب ہم نے قربانیاں کیں اور نئے ہونے والے مسلمان ان قربانیوں کا گوشت اپنے گھروں میں لے کر گئے تو ان کے مسلمان اور غیر مسلم اہل خانہ کو ایک عجیب سا احساس حاصل ہوا۔

انہوں نے اس گوشت کے ساتھ نو مسلموں کی ایک دعوت بھی رکھی تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پہلی دفعہ قربانی کی حکمت اور اس کے فوائد کا عملی طور پر احساس برطانیہ میں ہوا کہ یہ ایونٹ کتنا، فائدہ مند ہے مسلم معاشرے کی یک جہتی کے لیے۔ اور اسی طرح حج کی وجہ سے جو پیسہ گردش میں آتا ہے اور بہت سارے لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے اس سے ہماری معیشت کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اخوت کے رشتہ کے فروغ کے لیے اس کی ناگزیری اور بین الاقومی تجارت کے فروغ میں اس کا کردار، اور پھر روحانی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے اس کے فوائد۔

اور سب سے بڑی بات یہ کہ انسان کو اپنے خالق کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے قربانی اور حج جیسی عظیم عبادات پر دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے اور ان عقل کے اندھوں کی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ میں یہاں یہ بات بھی پورے وثوق سے کہوں گا کہ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں سارا سال غریبوں کی مدد کرنے والے اکثر و بیشتر آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے جو قربانی پر پیسہ ”ضائع“ کرتے ہیں کیونکہ ان کو قربانی کے ذریعے اس کی عادت ڈالی جاتی ہے۔

جبکہ دوسری طرف یہ قربانی کے ناقدین کی اکثریت کو آپ باقی پورا سال بھی غربا و مساکین کی مدد میں پیش پیش نہیں پائیں گے۔ آخر میں میں چند گزارشات قربانی کرنے والوں سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات کہ وہ قربانی اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے کریں نہ کہ اپنی دولت کی نمایش کے لیے اور لوگوں پر اپنی نیکی اور دولت کا رعب قائم کرنے کے لئے اور دوسری بات یہ کہ وہ قربانی کے گوشت کو غربا اور مساکین میں بھی تقسیم کریں، رشتہ داروں کو بھی تحفے میں دیں نہ کہ سارا گوشت اپنے فریزر کی زینت بنا لیں۔ تیسری بات یہ کہ پیشہ ور گداگروں کو گوشت دے کر ضائع نہ کریں اور آخری بات یہ کہ قربانی کے فلسفہ کو سمجھتے ہوئے جانور کے ساتھ ساتھ اپنی اناؤں کی بھی قربانی دیں اور اپنی نفرتوں کو بھی قربان کریں اس سے قربانی کا مزہ دو بالا ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد قاسم کی دیگر تحریریں
محمد قاسم کی دیگر تحریریں