پنجابی نوجوان کا المیہ

میرا آج کا مضمون پنجابیوں کی اس نوجوان اکثریت کے بارے ہے جن کی عمریں بیس سے چالیس سال کے درمیان ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر پچھلے دس سال سے دوسری قومیتوں کے ساتھ باہمی مکالمے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان میں سے دو چیزیں میں یہاں بیان کرنا چاہوں گا۔

Read more

مسلم لیگ (ن) اور آج کا نوجوان

”مسلم لیگ (ن) دائیں بازو کی ایک جماعت ہے جس کا ووٹر زیادہ تر کاروباری طبقہ کے افراد پر مشتمل ہے یہ ایک خاموش ووٹر ہے جس کو احتجاجی سیاست پسند نہیں ہے جو صرف الیکشن کے وقت سامنے آتا ہے اور میاں صاحب کے لئے ووٹ ڈالتا ہے“ یہ الفاظ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ (بچپن سے ہماری مراد نوے کی دہائی ہے ) اور آج بھی محترم سہیل وڑائچ صاحب ٹی وی پر بیٹھے یہی تجزیہ دے رہے ہوتے لیکن پچھلے پانچ سالوں میں ایک بڑی تبدیلی اس جماعت میں دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس پارٹی سے آ کے جڑی۔

Read more