نومی: قاضی عبد الستار

وہ عجیب تھی۔ جسم دیکھیے تو ایک لڑکی سی معلوم ہوتی، چہرے پر نظر ڈالیے تو بالکل بچی سی دکھائی دیتی اور اگر آنکھوں میں اتر جائیے تو ساری سموچی عورت انگڑائیاں لیتی ملتی۔ وہ سرخ اونچا سا فراک اور سیاہ سلیکس پہنے جگمگا رہی تھی اور سیاہ گھنگھرالے بالوں کو جھٹک جھٹک کر ”جیپ“ میں اپنے سامان کا شمار کر رہی تھی اور میرے سامنے ایک دوپہر کھلی پڑی تھی۔ اس نے آنگن میں قدم رکھتے ہی اپنی ممی سے بھیا کے لیے پوچھا تھا۔ اونچے بغیر آستین کے بلاؤز اور نیچی چھپی ہوئی ساڑی میں کسی بندھی آنٹی نے، جنھیں ابھی اپنے بدن پر ناز تھا، چمک کر بھیا کو مخاطب کیا، ”نومی پوچھ رہی ہے کہ تم کون ہو؟“

بھیا نے اداس چہرے پر سلیقے سے رکھی ہوئی رنجور آنکھیں چشمے کے اندر گھمائیں۔ روکھے سوکھے بالوں پر دبلا پتلا گندمی سا ہاتھ پھیرا۔ انکل نے بڑے سے بیگ کو تخت پر پٹکا۔ پیک تھوکنے کے لیے اگلدان پر جھکے اور بھیا بھاری آواز میں بولے۔ بھیا کی آواز ان کی شخصیت کو اور منفرد بنا دیتی ہے۔ غم میں بسی ہوئی کھوجدار آواز سے ہلکا ہلکا دھواں سا اٹھتا رہتا ہے اور جسے سن کر اجنبیت احساس کم تری بن جاتی ہے اور خوام خواہ متعارف ہونے کو جی چاہتا ہے، ”بہت چھوٹی سی تھی جب دیکھا تھا اس نے۔“

Read more

پیتل کا گھنٹا: قاضی عبد الستار

آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے۔ لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ بڑبڑانے لگے۔ میں بھی سڑک کے کنارے سوچتے ہوئے دوسرے پیڑ کی جڑ پر بیٹھ کر سگریٹ بنانے لگا۔ ایک بار نگاہ اٹھی تو سامنے دور درختوں کی چوٹیوں پر مسجد کے مینار کھڑے تھے۔ میں ابھی سگریٹ سلگا ہی رہا تھا کہ ایک مضبوط کھر درے دیہاتی ہاتھ نے میری چٹکیوں سے آدھی جلی ہوئی تیلی نکال لی۔ میں اس کی بے تکلفی پر ناگواری کے ساتھ چونک پڑا۔ مگر وہ اطمینان سے اپنی بیڑی جلا رہا تھا وہ میرے پاس ہی بیٹھ کر بیڑی پینے لگا یا بیڑی کھانے لگا۔

”یہ کون گاؤں ہے؟“ میں نے میناروں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

Read more

رضو باجی

سیتا پور میں تحصیل سدھالی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لایسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’’بلیک‘‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا، جن میں شیوخ آباد تھے جو اپنے مفرور ماضی کی یاد میں ناموں کے آگے خان لگاتے تھے اور ہر قسم کے شکار کے لیے غنڈے، کتے اور شکرے پالتے تھے۔

Read more