نومی: قاضی عبد الستار
وہ عجیب تھی۔ جسم دیکھیے تو ایک لڑکی سی معلوم ہوتی، چہرے پر نظر ڈالیے تو بالکل بچی سی دکھائی دیتی اور اگر آنکھوں میں اتر جائیے تو ساری سموچی عورت انگڑائیاں لیتی ملتی۔ وہ سرخ اونچا سا فراک اور سیاہ سلیکس پہنے جگمگا رہی تھی اور سیاہ گھنگھرالے بالوں کو جھٹک جھٹک کر ”جیپ“ میں اپنے سامان کا شمار کر رہی تھی اور میرے سامنے ایک دوپہر کھلی پڑی تھی۔ اس نے آنگن میں قدم رکھتے ہی اپنی ممی سے بھیا کے لیے پوچھا تھا۔ اونچے بغیر آستین کے بلاؤز اور نیچی چھپی ہوئی ساڑی میں کسی بندھی آنٹی نے، جنھیں ابھی اپنے بدن پر ناز تھا، چمک کر بھیا کو مخاطب کیا، ”نومی پوچھ رہی ہے کہ تم کون ہو؟“
بھیا نے اداس چہرے پر سلیقے سے رکھی ہوئی رنجور آنکھیں چشمے کے اندر گھمائیں۔ روکھے سوکھے بالوں پر دبلا پتلا گندمی سا ہاتھ پھیرا۔ انکل نے بڑے سے بیگ کو تخت پر پٹکا۔ پیک تھوکنے کے لیے اگلدان پر جھکے اور بھیا بھاری آواز میں بولے۔ بھیا کی آواز ان کی شخصیت کو اور منفرد بنا دیتی ہے۔ غم میں بسی ہوئی کھوجدار آواز سے ہلکا ہلکا دھواں سا اٹھتا رہتا ہے اور جسے سن کر اجنبیت احساس کم تری بن جاتی ہے اور خوام خواہ متعارف ہونے کو جی چاہتا ہے، ”بہت چھوٹی سی تھی جب دیکھا تھا اس نے۔“
Read more


