سلطنت سیاست کے مشہور شہر اور مقامات

سلطنت سیاست کے چند مشہور شہروں کا تعارف ذیل میں ہے۔

ٹیکس لا

تیزی سے پھیلتا شہر ”ٹیکس لا، مارشل لا سے بھی ڈراؤنی اصطلاح بن کر ابھرا ہے۔ اس شہر میں لوگوں پہ ٹیکس لاگو کرنے، خون نچوڑنے اور ٹیکس زنی کے جدید ترین ذرائع دریافت کیے جاتے ہیں تاہم ان ٹیکسوں کا غریبوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ ایف بی آر اس شہر کا مرکزی خون آشام چوک ہے۔ ٹیکس دو قسم کے ہیں۔ بلا واسطہ اور بالواسطہ۔

Read more

پیتل کا گھنٹا: قاضی عبد الستار

آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے۔ لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ بڑبڑانے لگے۔ میں بھی سڑک کے کنارے سوچتے ہوئے دوسرے پیڑ کی جڑ پر بیٹھ کر سگریٹ بنانے لگا۔ ایک بار نگاہ اٹھی تو سامنے دور درختوں کی چوٹیوں پر مسجد کے مینار کھڑے تھے۔ میں ابھی سگریٹ سلگا ہی رہا تھا کہ ایک مضبوط کھر درے دیہاتی ہاتھ نے میری چٹکیوں سے آدھی جلی ہوئی تیلی نکال لی۔ میں اس کی بے تکلفی پر ناگواری کے ساتھ چونک پڑا۔ مگر وہ اطمینان سے اپنی بیڑی جلا رہا تھا وہ میرے پاس ہی بیٹھ کر بیڑی پینے لگا یا بیڑی کھانے لگا۔

”یہ کون گاؤں ہے؟“ میں نے میناروں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

چند مقبول عام فلمی سین

محبت کا سین مجنوں، مجھے تم سے کچھ کہنا ہے لیلیٰ۔ لیلیٰ، یہی نا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ مجنوں، محبت نہیں بلکہ۔۔۔ لیلیٰ، (بات کاٹ کر)والہانہ عشق ہے۔ لیلیٰ، شکریہ، لیکن مجھ سے بغلگیر ہونے کی کوشش مت کرو، وہیں کھڑے کھڑے میری طر ف دیکھ کر مسکراتے رہو۔ مجنوں، مگر کیوں؟ لیلیٰ، تم کتنے سادہ لوح ہو مجنوں۔اتنا بھی نہیں جانتے کہ اگر تم نے مجھے اپنے بازوؤں میں بھینچنے کی کوشش کی تو عوام کا اخلاق

Read more

سائیں بابا کا مشورہ

میرے پیارے بیٹے مسٹر غمگین! جس وقت تمھارا خط ملا، میں ایک بڑے سے پانی کے پائپ کی طرف دیکھ رہا تھا جو سامنے سڑک پر پڑا تھا۔ ایک بھوری آنکھوں والا ننھا سا لڑکا اس پائپ میں داخل ہوتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا، تو فرطِ مسرت سے اس کی آنکھیں تابناک ہو جاتیں۔ وہ اُچھلتا کودتا پھر پائپ کے پہلے سرے سے داخل ہو جاتا۔ ایسے میں تمھارا خط ملا۔ لکھا تھا ”سائیں بابا، میں ایک غمگین

Read more

کار بکاؤ ہے

ہم سے پہلےبھی کوئی صاحب گزرے ہیں جنہوں نے بیٹھے بٹھائے بکری پال لی تھی اور پھر عمر بھر اس کے زانو پر سر رکھ کرمنمناتے رہتے تھے۔ ہمیں غیب سے یہ سوجھی کہ اتفاق سے ولایت جارہے ہیں، کیوں نہ وہاں سے نئی کارلائی جائے؟ یعنی کیوں نہ جانے سے پہلے پرانی کار بیچ دی جائے؟ اور یہ سوچنا تھا کہ جملہ اندیشۂ شہر کو لپیٹ کرایک کونے میں رکھ دیا اور کار بیچنا شروع کردی۔ بوٹی بوٹی کرکے نہیں، سالم۔

Read more

نام دیو مالی: مولوی عبد الحق

نام دیو مقبرہ رابعہ درانی اورنگ آباد (دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ ذات کا ڈھیڑ جوبہت نیچ قوم خیال کی جاتی ہے۔ قوموں کا امتیاز مصنوعی ہے اور رفتہ رفتہ نسلی ہوگیا ہے۔ سچائی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں۔ یہ خوبیاں نیچی ذات والوں میں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی اونچی ذات والوں میں۔

قیس ہو کوہکن ہو یا حالی
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

مقبرے کا باغ میری نگرانی میں تھا۔ میرے رہنے کا مکان بھی باغ کے احاطے ہی میں تھا۔ میں نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام نام دیو کے سپرد کیا۔ میں اندر کمرے میں کام کرتا رہتا تھا۔ میری میز کے سامنے بڑی سی کھڑکی تھی۔ اس میں سے چمن صاف نظر آتا تھا۔ لکھتے لکھتے کبھی نظر اٹھا کر دیکھا تو نام دیو کو ہمہ تن اپنے کام میں مصروف پاتا۔ بعض دفعہ اس کی حرکتیں دیکھ کر بہت تعجب ہوتا۔ مثلاً کیا دیکھتا ہوں کہ نام دیو ایک پودے کے سامنے بیٹھا اس کا تھانولا صاف کر رہا ہے۔

Read more

اف اللہ ہمیں چلنا پھرنا پڑا

میں نے اپنی سادہ مگر پرکشش بارڈر والی گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی باندھی۔ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے ساڑھی کا پلو سیٹ کیا۔ ہاتھ سے ساڑھی کی پلیٹیں سیٹ کرتے ہوئے، جھک کے ساڑھی کی فال دیکھی۔ میں نے اب تک جوتا نہ پہنا تھا۔ ساڑھی بھی اسی حساب سے باندھی تھی کہ لانگ ہیل نہ پہنوں۔ موقع کوئی خاص نہ تھا، بس تین چار گھنٹے کی گیدرنگ تھی۔ اس گیدرنگ میں سب سہیلیوں کا ساڑھی باندھنے کا

Read more

وکیلوں کی وکالت، اماموں کی امامت

ہماری یہ پکی ٹھکی رائے ہے کہ اگر انسان کے نام کے ساتھ سابقہ کے طور پہ ”ڈاکٹر“ لگ جائے تو انسان کی قدر و منزلت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ سننے والوں پر آپ کے علم کا ایسا بوجھ پڑ جاتا ہے، جس کی آڑ میں آپ اُن خیالات کا اظہار بھی کرسکتے ہیں، جو بغیر ڈاکٹر کے سابقہ کے معاشرتی ندامت کا سبب بن سکتے ہیں۔ ”ڈاکٹر“ کے سابقے میں فقط علمی وزن ہے۔ ہاں اگر

Read more

بانو قدسیہ کا حاصل گھاٹ، ایک دانش کدہ (منیر احمد فردوس)۔

(ایک مطالعاتی جائزہ) منیر احمد فردوس محترمہ بانو قدسیہ ادبی نظامِ شمسی کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہیں جن کی روشنی سے پوری ادبی کائنات جگمگا رہی ہے۔ بلاشک و شبہ انھوں نے اردو ادب کو ایسی گہر افشاں تصانیف دی ہیں کہ جن کی بدولت ہمارے ادب کو جو عزت اور وقار ملا ہے، اس نے اردو ادب کو عالمی سطح پر منوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں ان کی ایک تخلیق حاصل گھاٹ پڑھنے

Read more

بچھڑی کونج قطاراں ۔۔ مبشر سلیم

جناح اسپتال کے آوٹ ڈور سے باہر آ کر نو تعمیر ہونے والا برن یونٹ دیکھنے کےغرض سے باہر آیا، تو میری نظر اُس پر پڑی۔ سفید شلوار قمیص، سفید جیکٹ، سیاہ بوٹ، سر پر سفید دُپٹا؛ ایک لمحے کے لیے میری نظریں اُس سے ٹکرائیں، تو اس لمحے میں وقت کی قید سے نکل گیا؛ لیکن وہ رُکی نہیں۔ چند قدم چلنے کے بعد مڑی اور ایک بار میری طرف دیکھا، تو ہم دونوں کے قدم رُک گئے۔ اس

Read more

نامعلوم افراد کی معلوم کہانی (ابن عاصی)۔

ابنِ عاصی فرماتے ہیں، اُنھیں لکھنے لکھانے کے سوا کوئی دوسرا شوق نہیں؛ گویا یہ بھی کوئی شوق ہے۔ اب تک اُن کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک \’\’مسائلِ ادب اور اہلِ نظر\’\’ علمی و ادبی افراد کے انٹرویو پر مبنی ہے؛ دوسرا مائکرو فِکشن کا مجموعہ \’\’نا معلوم افراد کی معلوم کہانی۔\’\’ بچوں کے ادب کے علاوہ طنز و مزاح سے شغف ہے۔ اِن دنوں وہ ایک ناول پر کام کر رہے ہیں۔ اُن کا دعوی ہے،

Read more

واجدہ تبسم کا متنازع افسانہ ۔۔۔ اُترن

واجدہ تبسم 16 مارچ 1935ء کو مہاراشٹر کے قصبے امراوتی میں پیدا ہوئیں۔ 1975ء میں لکھی اُن کی متنازع کہانی \”اُترن\” کو اُن کے شاہ کار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ کہانی انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ کی گئی۔ 1996ء میں میرا نائر نے کاما سوترا کے عنوان سے اِس کہانی کو فلم کے رُوپ میں ڈھالا۔ واجدہ نے 7 دسمبر 2011ء کو وفات پائی۔

Read more