حکومت کی بْو ہوتی ہے

’’حکومت کی بْو ہوتی ہے۔ جو پھیلتی رہتی ہے۔ مشامِ جاں میں سوئیوں کی طرح چبھتی ہے۔ شریانیں اڈھیر دیتی ہے۔ نسلیں پھاڑتی ہے۔ سوچ مفلوج کرتی ہے۔ ضمیر کا گلا گھونٹتی ہے۔ قوی مضحمل کرتی ہے۔ حکومت مردار جسم کی طرح ملک کے تمام شہروں، گاؤں قصبو ں، کھلیانو ں، صحراؤں، پہاڑوں، ندیو ں، دریاؤں اور سمندرو ں میں پڑتی ہوتی ہے۔ کٹی کھوپڑیو ں اورپھٹے پیٹ کے ساتھ، جس کی انتڑیو ں میں گدھ چونچوں اور پنجوں کے

Read more

میرے پاپا سُپر ہیرو ہیں

 ”میرے پاپا سُپر ہیرو ہیں“ میری پانچ سالہ بھتیجی نے جب یہ بات مجھے کہی تو میری نس نس تک جیسے مٹھاس اتر گئی۔ آس پاس جیسے مہک پھیل گئی ۔ کتنا جادو ہو تا ہے ناں محبت کے لفظوں میں۔ میں نے مسکرا کر اسے کہا کہ "آپ کو پتا ہے آپ کے پاپا اس لئے سُپر ہیرو ہیں ، کیو نکہ میرے پاپا سُپر ہیرو تھے” وہ حیران ہوئی۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ عمر

Read more

کْتے سو رہے تھے

بارش مسلسل ہو رہی تھی ۔اور مزار پہ کتوں نے پناہ لے رکھی تھی ۔ رات کا وقت تھا اس لئے زیادہ تر کْتے سورہے تھے۔ سن اور پڑھ رکھا تھا کہ انسا ن کی موت کا وقت اس کی زندگی کا آئنہ ہو تا ہے۔ سمجھنا بہت مشکل تھا ۔ لیکن وقت نے سمجھا دیا کہ انسان کی زندگی کا پتا اس کی موت کے بعد ہی چلتا ہے۔ زندگی سانس وروح تک بس اک پہلی ہے۔ آج ایک

Read more

انور مسعود اور صدیقہ انور ۔۔۔ کھلے دریچے میں بلبل کہانی

  ساون کا مہینہ تھا۔ راولپنڈی اسلام آباد میں خوب بارش ہو رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں ہر سو رقصاں تھیں، بادل گرج چمک رہے تھے۔ وقت مسافروں کی طرح سب کچھ خامشی سے دیکھ رہا تھا۔  میں نے مقررہ وقت پہ محترمہ صدیقہ انور کو فو ن کیا۔ وہ محبت بھرے لہجے میں بولیں ”مجھے لگتا ہے آ پ مجھ سے پچا س سال کی با تیں اگلوانا چاہتی ہیں”۔ یہ سنتے ہی ہم دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگیں۔ انور

Read more