حکومت کی بْو ہوتی ہے
’’حکومت کی بْو ہوتی ہے۔ جو پھیلتی رہتی ہے۔ مشامِ جاں میں سوئیوں کی طرح چبھتی ہے۔ شریانیں اڈھیر دیتی ہے۔ نسلیں پھاڑتی ہے۔ سوچ مفلوج کرتی ہے۔ ضمیر کا گلا گھونٹتی ہے۔ قوی مضحمل کرتی ہے۔ حکومت مردار جسم کی طرح ملک کے تمام شہروں، گاؤں قصبو ں، کھلیانو ں، صحراؤں، پہاڑوں، ندیو ں، دریاؤں اور سمندرو ں میں پڑتی ہوتی ہے۔ کٹی کھوپڑیو ں اورپھٹے پیٹ کے ساتھ، جس کی انتڑیو ں میں گدھ چونچوں اور پنجوں کے
Read more


