کرونا وائرس، شہرِ افسوس اور وبا کے دنوں کی بِپتا
جارج برنارڈ شا کہتا تھا کہ زندگی میں سانحے صرف دو ہیں، ایک امید کا ختم ہونا اور دوسرا امید کا پیدا ہونا۔ جون ایلیا نے بھی نہ جانے درد کی کس رو میں بہہ کر لکھا تھا: کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں وقت کی اس مسافت میں بے آرزو تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے میں آج کل ایک عجیب خوف کے زیر اثر جی رہا ہوں
Read more



