کرونا وائرس، شہرِ افسوس اور وبا کے دنوں کی بِپتا

جارج برنارڈ شا کہتا تھا کہ زندگی میں سانحے صرف دو ہیں، ایک امید کا ختم ہونا اور دوسرا امید کا پیدا ہونا۔ جون ایلیا نے بھی نہ جانے درد کی کس رو میں بہہ کر لکھا تھا: کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں وقت کی اس مسافت میں بے آرزو تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے میں آج کل ایک عجیب خوف کے زیر اثر جی رہا ہوں

Read more

فصیل شہر تباہ ہوئی اور ہوا چپ رہی

وزیراعظم پاکستان کی تقریر کے بعد کشمیر کے مسئلے کو جذباتیت کے تناظر میں نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی عینک سے دیکھیں۔ موجودہ صورتحال کسی بھی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ تجھے خبر ہو تو بول اے مرے ستارہ شب مری سمجھ میں تو آتا نہیں اشارہ شب قوموں کو درپیش مسائل تین نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو سنگین بحران کی صورت نمودار ہوتے ہیں اور جن کے تدارک

Read more

تاریخ کی راہداری، سبین کی موت اور سہ پہر کا مکالمہ

”پاروشنی نے اُسے ایک ہاتھ سے اٹھایا اور کہا تم بھی اس جھیل پر مرنے آ گئے۔ پرندہ مر چکا تھا“

میں نے بہاوؑ ناول دس سال پہلے پڑھا تھا مگر مجھے لگتا ہے یہ ناول مجھ پہ بیت گیا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اسے تین دفعہ پڑھ چکا ہوں۔ عبداللہ حسین سے مکمل اتفاق ہے کہ اردو ادب میں پاروشنی سے طاقتور نسوانی کردار نہیں تخلیق ہوا۔ عبداللہ حسین کا ”نادار لوگ“ بھی بہت بڑا ناول تھا مگر ”اداس نسلیں“ نے اسے دھندلا دیا۔ گو کہ میں نے لوگوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا ہے کیوں کہ لوگ وہ نہیں ہوتے جو وہ نظر آتے ہیں مگر پھر بھی مستنصر سے ایک نشست کی آرزو تھی جو اسلام آباد کے ادبی میلے میں پوری ہوئی۔ چار گھنٹے کی نشست نئے سوالوں پر منتج و تمام ہوئی مگر میں ابھی بھی پرندے، موت اور پانی میں الجھا ہوا ہوں۔

Read more