عورت مارچ – چند گزارشات

فیسبک سے عارضی چھٹی لینے کا سوچ رہا تھا کہ بہار کے مہینے مارچ میں عورت مارچ آ گیا۔ اس نے لکھنے پر پھر مجبور کر دیا۔ کل کے دن عورتوں کا پاور شو تھا۔ مارچ میں ڈسپلے کیے جانے والے پلے کارڈز اور پوسٹرز پر لکھے گئے سلوگنز پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ مردوں کی اکثریت نے چند پوسٹرز کی فوٹوز لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ نری بیہودہ ایکٹویٹی تھی اور اس کا ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایک پلے کارڈ؛ جسے لے کر ٹھٹھہ اڑایا جا رہا ہے ؛ سوچوں کو کئی سال پیچھے لے گیا۔یونیورسٹی میں میرا تیسرا سیمیسٹر چل رہا تھا۔ کسی ضروری کام سے آئی ٹی لیب میں میل اکاؤنٹ کھولا۔ بے فکری میں لاگ آؤٹ کرنا بھول گیا کیونکہ تب پرائیویسی کے متعلق زیادہ آگاہی نہ تھی۔ اس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ میرے اکاؤنٹ سے کسی کا کیا لینا دینا؟ ہوا کچھ یوں کہ بعد میں آنے والے کسی شخص؛ جن کی ذہنیت پر مذکورہ پلے کارڈ بنایا گیا؛ نے میل کے ذریعے میرے فیسبک اکاؤنٹ کا پاسورڈ بدل کر اسے ہیک کر لیا۔

Read more