عورت مارچ – چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 96
  •  

فیسبک سے عارضی چھٹی لینے کا سوچ رہا تھا کہ بہار کے مہینے مارچ میں عورت مارچ آ گیا۔ اس نے لکھنے پر پھر مجبور کر دیا۔ کل کے دن عورتوں کا پاور شو تھا۔ مارچ میں ڈسپلے کیے جانے والے پلے کارڈز اور پوسٹرز پر لکھے گئے سلوگنز پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ مردوں کی اکثریت نے چند پوسٹرز کی فوٹوز لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ نری بیہودہ ایکٹویٹی تھی اور اس کا ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایک پلے کارڈ؛ جسے لے کر ٹھٹھہ اڑایا جا رہا ہے ؛ سوچوں کو کئی سال پیچھے لے گیا۔

یونیورسٹی میں میرا تیسرا سیمیسٹر چل رہا تھا۔ کسی ضروری کام سے آئی ٹی لیب میں میل اکاؤنٹ کھولا۔ بے فکری میں لاگ آؤٹ کرنا بھول گیا کیونکہ تب پرائیویسی کے متعلق زیادہ آگاہی نہ تھی۔ اس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ میرے اکاؤنٹ سے کسی کا کیا لینا دینا؟ ہوا کچھ یوں کہ بعد میں آنے والے کسی شخص؛ جن کی ذہنیت پر مذکورہ پلے کارڈ بنایا گیا؛ نے میل کے ذریعے میرے فیسبک اکاؤنٹ کا پاسورڈ بدل کر اسے ہیک کر لیا۔

مجھے پتا چلا تو میں نے اکاؤنٹ ریکور کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ لگ بھگ ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد اکاؤنٹ بحال ہوا لیکن صورتحال دیکھ کر میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ جس کسی مادر زاد نے اکاؤنٹ ہیک کیا تھا اس نے یونیورسٹی کی جن لڑکیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی سب کو میرے اکاؤنٹ سے گالیوں کے ساتھ ساتھ قابل اعتراض تصاویر بھی بھیج دی تھیں۔ چند لڑکوں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ میرے لیے انجان تھے۔

اصل ٹینشن کی بات یہ تھی کہ ایک فیمیل فیلو؛ جن کی میں بہت عزت کرتا تھا؛ کے ساتھ یہ عمل میرے اکاؤنٹ سے کیا گیا تھا۔ اگلے دن ایک پیپر بھی تھا۔ تیاری کرتے ہوئے یہی بات ذہن پر سوار رہی۔ جیسے تیسے پیپر دیا۔ اس کے بعد ایک رازدار دوست کو ساری کہانی سنائی۔ پھر ہمت جمع کر کے اس کی مدد سے فیمیل فیلو کو ایک طرف بلا کر معذرت کی جسے انہوں نے بڑے دل سے قبول کیا۔ اس لمبی چوڑی سٹوری کو سنانے کا مقصد یہ ہے کہ پوسٹرز پر لکھے جانے والے سارے سلوگنز ہماری سوسائٹی میں ورکنگ وومین کو درپیش آنے والے روزمرہ کے مسائل پر مبنی ہیں۔

اگر آپ کو ان کا ادراک نہیں یا آپ کنوئیں کے مینڈک ہیں تو آپ اپنی جہالت کے خود ذمہ دار ہیں۔ عورتوں کا اپنے حقوق کے لیے اور مسلط کردہ جبر کے خلاف آواز اٹھانا خوش آئند ہے۔ آنے والے وقت میں یہ آواز ظلم کے شکار تمام طبقات کی نمائندہ بن جائے گی۔ عورتوں کے متعلق روایتی سوچ سے چھٹکارا حاصل کر لیں یا پھر ایسے نعروں کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 96
  •  
ریحان الحق چوہدری کی دیگر تحریریں
ریحان الحق چوہدری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں