یونیورسٹی میں مسلمان بنانے اور جوڑے بنانے والے طبقات
ہمارے ملک کی جامعات باقی دنیا سے ”ذرا ہٹ کے“ ہیں دیگر دنیا کی جامعات اپنے معیار تعلیم کے پیچھے پڑی رہتی ہیں وہاں کے سٹوڈنٹ بھی کلاسوں کے وقت لیکچرز سننے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہماری یونیورسٹیاں بنیادی طور پہ دو نظریات پہ قائم ہیں۔ایک کا نظریہ ہے کہ مرد اور عورت دو الگ دنیا کے باسی ہیں وہ اپنی تمام توانائیاں انھیں الگ رکھنے پر مرکوز رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ کچھ بھی ہو جائے ہر کسی کو مسلمان بنا کر چھوڑنا ہے (مسلمان سے یہاں مراد کلمہ گو نہیں بلکہ ان کے مسلک و افکار کو اپنانے والا ہے ) اس کے لیے وہ ڈنڈا پتھر اسلحہ سب کچھ استعمال کر چھوڑتے ہیں۔ اور جو اس نظریے کے خلاف ذرا بھی چوں چرا کرے جتھوں کی صورت اکٹھے ہو کر اسے ”سیدھا“ کیا جاتا ہے جو زیادہ ہی گستاخ ہو شخصی آزادی اور حقوق جیسی بے راہ رو باتیں کرے اسے سیدھا عزرائیل کے ہمراہ روانہ بھی کر دیا جاتا کہ یہ ناہنجار اب ہم سے نہیں سنبھلتا تو ہی اسے خالق کے پاس لے جا۔
Read more
