اس قوم کو سوچ بڑی کرنے کی ضرورت ہے
بہار میں کھلے شوخ رنگوں والے پھول، چہکتے حسین پرندے، ہرے نیلے اور سرمئی رنگ والے پانی کی ندیا، بانسری کی آواز، کلائیوں میں کھنکتی چوڑی اور گلے سے ابھرتی آواز پر ہوا کے سنگ اڑتا کوئی آنچل۔ کیا یہ سب الفاظ سوچ کو خوشگوار کرتے ہیں؟
طنز، تنقید، نقطہ چینی، تنگ نظری، گھٹن، نفرت، غصہ، نا اہلی، بدکرداری، حسد، غلاظت۔ کیا یہ تمام الفاظ دماغ کو ایک ناخوشگوار تاثر دیتے ہیں؟
اگر میری ان دونوں باتوں کا جواب ہاں ہے۔ تو خود ساختہ مسلط کی گئی دماغی بیماری کا شکار کیوں ہے پاکستانی قوم؟ خوشگوار زندگی کے لئے گر رنگ ضروری ہیں، ادب، فنون لطیفہ، اداکاری، موسیقی جو روح کی غزا ہے تو سوشل میڈیا پر اداکارہ مہوش حیات کو ملنے والے تمغہ امتیاز کو لے کر اتنا ہنگامہ کیوں۔


