پارلیمانی نظام نہیں، نیت بدلو

ہماری قوم بہت معصوم  ہے۔ یہ کبھی روٹی کپڑا مکان کے نام پر بے وقوف بنی ہے تو کبھی نئے پاکستان کے سبز باغوں نے اسے مسحور کیا ہے اور اب سنا ہے نئے صدارتی نظام کے نام پر قربانی کے لئے تیار ہے۔کبھی کبھار تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ناٹک کے کھیل میں پہلے سے لکھے ہوئے اسکرپٹ کے مطابق اگلے ایکٹ کے لیے پردہ گرا کر کرسیوں کو مرضی کے مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جاتا ہے اور نئے منظر کے لئے ساز وسامان کو طے شدہ مقامات پر رکھ کر نیا ناٹک رچا دیا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح صدارتی نظام کو بھی شروع کرنے کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اخر یہ صدارتی نظام ہے؟ اور اس کی تاریخ کیا ہے؟ اور اس پر کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو ہمارے عزیم دانشور اس نظام کے حامی بن کر اس نظام کے حق میں کود پڑے ہیں۔

Read more

غریب کا خواب ایک جرم ہے

خواب صرف وہی نہیں ہوتے ہے جسے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیر کے پیچھے سرگرداں رہتے ہیں۔ کسی کامیاب شخص کا قول ہے اگر آپ اس دنیا میں غریب پیدا ہوئے ہیں تو…

Read more