ضمیر نہیں کانپتے یہاں، زمین کانپ جاتی ہے

وہ بلندی کس کام کی کہ انسان چڑھے اور انسانیت سے گرجائے، انسان کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، منفی رویے ہماری رگ رگ میں رچ بس گئے ہیں، ہمارے قول و فعل نے انسانیت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ہے، اور اب اس تابوت پر عالمی برادری صرف مٹی ڈال رہی ہے، کیا ہم اب بھی بیدار نہیں ہوں گے؟ ہم اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہیں، ہمارے منفی رویے

Read more