ضمیر نہیں کانپتے یہاں، زمین کانپ جاتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بلندی کس کام کی کہ انسان چڑھے اور انسانیت سے گرجائے، انسان کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، منفی رویے ہماری رگ رگ میں رچ بس گئے ہیں، ہمارے قول و فعل نے انسانیت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ہے، اور اب اس تابوت پر عالمی برادری صرف مٹی ڈال رہی ہے، کیا ہم اب بھی بیدار نہیں ہوں گے؟

ہم اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہیں، ہمارے منفی رویے ہماری پہچان بن چکے ہیں، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش نے آنے والی نسلوں کی ٹانگیں توڑ کر انہیں اپاہج بنا دیا ہے اور رہی سہی کسر اخلاقی گراوٹ نے پوری کردی، اس مصنوعی معاشرے میں ہر شخص سچ سے دور مگر جھوٹ کے قریب، انصاف سے دور مگر نا انصافی کا شکار ہے، محض ذہنی سکون و تسکین کی خاطر قتل و غارت عام ہوچکی ہے، یہاں بڑے مجرم ایوانوں میں اور انتہائی چھوٹے ملزم تشدد سے سسک سسک کر جیلوں میں دم توڑ دیتے ہیں، یہاں پر ماضی کے چند واقعات کا سرسری ذکر ضروری ہے۔

فیصل آباد میں چند روزقبل اے ٹی ایم مشین توڑ کر کارڈ چوری کرنے والا ملزم اس ملک کے بوسیدہ نظام کو منہ چڑھاتا رہا اور بالآخر قانون کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ زینب، عابدہ، مشال خان، عامر جیسے ہزاروں موت کی وادی میں اترنے والے بے قصوروں کے پسماندگان آج بھی اپنے پیاروں کے قاتلوں کی آزادی پر بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ ہم وہی لوگ ہیں جو ظلم ہوتا دیکھ لیتے ہیں مگر ظالم کی نشاندہی پر چند پیسوں کے عوض اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں۔

یہ وہی معاشرہ ہے جہاں گزشتہ دنوں محض تین سو روپے کی چوری کے الزام میں پڑھے لکھے جاہلوں نے ریحان کو سرعام بازار میں باندھ کر تشدد کرکے قتل کردیا، مقتول کی ہڈیاں تک ٹوٹ گئیں مگر اس کی چیخ و پکار بھی ہماری انسانیت کو نہ جگا سکی۔ اس معاشرے میں مذہب کے نام پر اٹھنے والے انسانیت سے گرجاتے ہیں۔ آخر کب تک ہم انسانیت کا جھوٹا ڈھونگ رچاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ظالم کو آزادی اور مظلوم کو موت کی وادی میں دھکیلتے رہیں گے؟ آخر یہ درد ناک واقعات کب تک رونما ہوتے رہیں گے؟ آخر کب تک عدالتیں سڑکوں پر لگتی رہیں گیں؟ آخر کب تک ہم مسلمان ہونے پر مسلمان کو قتل ہوتا دیکھتے رہیں گے؟

یقیناً، ہمارے اندر سے انسانیت مرچکی ہے ہم محض اب نام کے ہی انسان ہیں مگر کردار کے شیطان سے بھی بدتر۔ کیونکہ اب یہاں ضمیر نہیں کانپتے، زمین کانپ جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ثنا عطا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *