وزیراعظم کا مطلب مفتیِ اعظم نہیں ہوتا
بچپن میں لڑا دے ممولے کو شہباز سے جب پہلی بار پڑھا تو اس عمر میں اس کی تشریح کچھ یوں معلوم ہوئی کہ جیسے زید جو کہ ایک منحنی اور سست الوجود لڑکا ہے کو طیش دلا کر اس کو بکر جو نسبتاً ایک قوی الجثہ اور پھرتیلا لڑکا ہے، سے لڑا دینا اور پھر تماشا دیکھنا۔
سکول کے زمانے سے ہم سب ایسے کسی کردار کو جانتے ہوں گے جس کو چند شریر دوست بڑھاوا دے کر کسی لڑکی یا خود اس سے کہیں بڑے لڑکے کے پیچھے بھیجتے اور جوتے پڑواتے تھے۔ ہمارا وزیراعظم عمران خان بھی کچھ ایسا ہی کردار ہے۔ چاہنے والے ان کو جو بھی بتا دیں وہ خود کو وہی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ آج سے قریب اٹھائیس سال قبل جب ورلڈ کپ جیت کر خان جی عوام میں گئے تو سڑکوں پر لوگ جوق در جوق انہیں دیکھنے کے لئے آئے۔ ان عوامی اجتماعات کا مقصد بظاہر شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے چندہ جمع کرنا تھا۔
Read more
