تکلیف کی کوکھ سے جنم لیتی ”تبدیلی“

تبدیلی کے نعرے پر مسلسل 22 سال کی جدوجہد کرنے والی اور بالآخر حزب اقتدار میں آنے تک شاید تحریک انصاف کو حقیقی اندازہ تھا ہی نہیں کہ دراصل تبدیلی کس بلا کا نام ہے۔ کیا صرف بدل دینے کا؟ شاید وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ اُن کے پیشرو کی نہ صرف سمت غلط تھی بلکہ نیت میں بھی ازلی فتور شامل رہا جس کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر جانے کی بجائے کہیں اور ہی جا نکلا۔ اور اقتدار ملنے کے بعد وہ سب کچھ درست کر دیں گے جو ان سے پہلے والے غلط کرتے رہے۔ ادراک ہوا، لیکن بہت دیر سے ہوا۔ تبدیلی وہ 2 دھاری تلوار جیسے نکلی جو لکیر کے اُس پار تبدیلی کے دعویداروں اور لکیر کے اس طرف عوام الناس دونوں کو ہی زخمی کرتی چلی گئی۔

Read more