خواب۔ شرمندہِ تعبیر، یا صرف شرمندہ؟

باوجود اس امر کے کہ کل رات بار بار وقتِ نشریات کو بدلہ گیا، میں ان لاکھوں میں شمار کیا جاؤں گا جنہوں نے خلوصِ دل و نیت کے ساتھ بے چینی سے وزیراعظم کا قوم سے خطاب کا انتظار کیا۔ اور کیوں نہیں، ہم سب کا ماضی، حال اور مستقبل اسی ملک سے وابستہ ہے۔ پھر یہ کہ سب جانتے ہیں ملک سنگین مسائل سے دوچار ہے اور سیاسی منظرنامہ بھی کچھ اس قدر تیزی سے بدلا۔ سوچا ضرور وہ آکر کوئی ’نئی بات‘ کریں گے۔ اہم بات ہوگی جس کی اتنی رات گئے بھی اشد ضرورت ہے۔

جب نشریات کا وقت دو سے تین بار بدلہ گیا تومجھے یقین ہو چلا کے ضروری نکات کو حتمی شکل دی جا رہی ہوگی، الفاظ کا چناؤ، مضمون کی ترتیب وغیرہ۔ وقت تو لگ ہی جاتا ہے۔ نیز یہ کے تجربے کی بنیاد پر سمجھا کے اِسے براہ راست ہی دکھایا جائے گا۔ (وقت کے مسلسل ردوبدل کے باعث یقین ہو چلا تھا کے ریکارڈنگ نہیں ہو سکتی) ۔

Read more