مجھے ڈاکٹر بننا ہے، زندگیاں بچانی ہیں

اریبہ سے جب کبھی کسی نے پوچھا کہ اس نے بڑے ہو کر کیا بننا ہے تو اس کا یہی جواب ہوتا تھا۔ وہ اس کم عمری میں بھی زندگی کے مقصد اور اہمیت سے واقف تھی۔ اسے خوشیاں بانٹنا آتا تھا، چاہے وہ اس کے چھوٹے بہن بھائی ہوں یا اسکول کی دوست، وہ سب کو پیار کرتی اور ان کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتی تھی۔ ہمیشہ پہلی پوزیشن لینے پر اس کی امی تو اس کو ابھی سے ڈاکٹر کہتی تھی۔

اس دن وہ بہت خوش تھی جب ابو نے گھر بتایا کہ ہم گاؤں جا رہے ہیں وہاں شادی ہے، وہ اسکول میں سب دوستوں کو بتا رہی تھی۔ ٹیچرز سے چھٹی بھی لے لی تھی۔
”تم واپس کب آؤ گی“ جب اس سے اسکول کی ایک دوست نے پوچھا تو اس نے کہا ”بس شادی ختم ہوتے ہی ہم لوگ واپس آ جائیں گے“۔ اسکول سے گھر جاتے ہویے وہ اداس تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کے وہ اپنی تمام دوستوں کو ساتھ لے جائے، لیکن جلد واپس آنے کا کہ کر اس نے سب کو خدا حافظ کہا۔

Read more